اسپاٹ فکسنگ میں مبینہ طور پر ملوث کرکٹر خالد لطیف کے وکیل بدر عالم نے پی سی بی اینٹی کرپشن ٹریبونل میں اپنا تحریری جواب جمع کروانے کے بعد گواہوں سے جرح کیلئے ایک اور موقع دینے کی درخواست کی ہے۔

خالد لطیف کے وکیل بدر علم نے ٹریبونل کی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا لیکن پھر انہوں نے اس خود ساختہ بائیکاٹ کو 11 جولائی کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن بائیکاٹ کے سبب وہ ٹریبونل کی سماعت کا حصہ نہیں بن سکے تھے۔

 لطیف کے وکیل کی غیر موجودگی میں پی سی بی کے وکیل نے ٹریبونل میں کارروائی جاری رکھی اور گواہوں کو پیش کر کے جرح مکمل کر لی لیکن ٹریبونل کے سامنے پیش نہ ہونے کے سبب خالد لطیف کے وکیل گواہوں سے جرح نہیں کر سکے۔

بدر علم نے ویڈیو بیان میں کہا کہ ہماری غیر موجودگی میں ٹریبونل نے پی سی بی کو کارروائی جاری رکھنے کی اجازت دی جس سے پی سی بی کا مقدمہ مضبوط اور ہمارا کمزور ہو گیا ہے۔

تین رکنی ٹریبونل کے سامنے تین نئی درخواستیں جمع کرانے والے خالد لطیف کے وکیل نے کہا کہ ہمیں تحریری بیانات کی نقل فراہم کر دی گئی ہے لیکن ہم سماعتوں کی ویڈیو ریکارڈنگز بھی چاہتے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنا سکیں کہ ہمیں دیے گئے تحریری بیانات درست ہیں یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ٹریبونل سے درخواست کی ہے کہ ہمیں تمام پانچوں گواہوں سے جرح کا موقع فراہم کیا جائے اور درخواست کی ہے کہ ہمیں اپنے دفاع کا بھرپور موقع فراہم کیا جائے۔

یاد رہے کہ پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کے پہلے دن ہی اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل منظر عام پر آیا تھا جس میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر اسلام آباد یونائیٹڈ کے کھلاڑیوں شرجیل خان اور خالد لطیف کو وطن واپس بھیج دیا گیا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے شاہ زیب حسن اور محمد عرفان کو بھی معطل کردیا تھا جبکہ عرفان نے بکیز کی جانب سے رسائی کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے اس بارے میں اطلاع نہ دینے کا اقبال جرم کیا تھا جس پر انہیں ایک سال کیلئے معطل کرتے ہوئے دس لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

کرکٹ بورڈ کے مطابق خالد لطیف کے ساتھ کرپشن کے لیے روابط کیے گئے، جب کہ ان پر پر پی سی بی کے محکمہ نگرانی کے ضابطوں کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا گیا۔

خیال رہے کہ خالد لطیف پر پی سی بی کے اینٹی کرپشن ایکٹ 2015 کے تحت الزامات عائد کیے گئے۔

SHARE

LEAVE A REPLY