سپریم کورٹ نے پاناما کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ۔25صفحات پر مشتمل عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد اور نگرانی کے لیے ایک جج کو نامزد کیا جائے،سپریم کورٹ کے فیصلے میں جے آئی ٹی ممبران کی کوششوں کو سراہا گیا۔
جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ہم نے پوری احتیاط کے ساتھ دستاویزات ،جے آئی ٹی رپورٹ کاجائزہ لیا۔ریفرنس تیاری کے لیے نیب جے آئی ٹی کی تحقیقات کے دوران حاصل مواد کو بھی سامنے رکھے۔
فیصلے میں نوازشریف، حسین اور حسن نواز کے خلاف عزیزیہ اسٹیل کمپنی اور ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کے ریفرنس دائر کرنے اوراسحاق ڈار کے خلاف معلوم ظاہر سے زیادہ اثاثے رکھنے پر ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ نیب شیخ سعید، موسیٰ غنی، کاشف مسعود قاضی سمیت دوسرے افراد کو کارروائی میں شامل کرے جبکہ نیب جاوید کیانی اور سعید احمد کو بھی کارروائی میں شامل کرے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ احتساب عدالت کسی بھی ڈیڈ، دستاویز یا بیان حلفی کو جعلی، غلط، من گھڑت پائے تو قانون کے مطابق کارروائی کرے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ نواز شریف نے متحدہ عرب امارات میں قائم کمپنی ’’کیپٹیل ایف زیڈ ای‘‘ سے متعلق مالی معاملات کا ذکر 2013ء کے عام انتخابات کے وقت جمع کرائے گئے اپنے کاغذات نامزدگی میں نہیں کیا۔
جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ نوازشریف بطور ایف زیڈای چیئرمین تنخواہ کے حقدار تھے، اس بات کی تردید نہیں کی گئی۔ تنخواہ وصول کی یا نہیں وہ اثاثے میں شمارہوتی ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ تنخواہ جب اثاثے میں شمار ہوگئی ، اثاثوں میں ڈکلئیرکیوں نہیں کیا گیا؟ نوازشریف نے اس اثاثے کو 2013کے انتخابات میں ظاہر نہیں کیا۔
فیصلے کے مطابق اس بنا پر وہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف اورسیکشن 99 ایف کے تحت ایمان دار نہیں رہے، اس لیے نواز شریف کو مجلس شوریٰ یعنی پارلیمنٹ کی رکنیت سے نا اہل قرار دیا جاتا ہے۔
عدالت کے فیصلے میں الیکشن کمیشن سے کہا گیا کہ وہ نواز شریف کی پارلیمنٹ کی رکنیت سے نااہلی کے بارے میں نوٹیفکیشن فوری طور پر جاری کرے۔جب کہ صدر مملکت سے کہا گیا ہے کہ وہ جمہوری عمل کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں۔

SHARE

LEAVE A REPLY