اپنے مالک کو ڈھونڈنا کیا اتنا ہی آسان ہے ؟ ازڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی

0
730

آج اک نئے مریض جیمس کو مجھ سے گیارہ بجے ملنے آنا تھا . وہ ساڑھے دس بجے سے باہر بیٹھا انتظار کر رہا تھا . میں نے جب اسے کمرہ انتظار سے اندر انٹرویو روم میں آنے کے لیئے بلایا تو وہ مسکراتے ہوئے ہیلو کہتا ہوا چھوٹی سی راہداری سے ہوتا ہوا میرے آفس میں داخل ہوا اور میرے اشارے پر اپنی کرسی پر بیٹھ گیا ۔۔

ہسٹری پڑھتے ہوئے پتہ چلا کہ پنتیس سالہ خوش شکل جیمس آئیر لینڈ کارہنے والا تھا . دس برس پہلے جب وہ سڈنی آیا تھا تو اس کاملنا جلنا اچھے لوگوں میں نہیں رہا . سو شراب ، جوے اور ڈرگس میں پڑ گیا . ماں ، باپ ، بہن بھائی ، بیوی بچے ، دوست سب کچھ آہستہ آہستہ زندگی سے منہا ہوتا گیا اور نشے کے ساتھ ساتھ جرائم کا گراف بھی بڑھتاگیا . اور اسی سلسلے میں دو ماہ پہلے ہی جیل سے رہا ہو کر ڈرگ ہیلتھ سروس میں ری ہیبلیٹیشن کے لیئے بھیجا گیا تھا اور آج اسی سلسلے کی پہلی اپوائینمٹ میرے ساتھ تھی .

میں نے انٹرویو کے لیئے جیسے ہی اسے اس کے نام ” جیمس ” سے پکارا تو وہ مسکرا دیا اور کہنے لگا میرا نام جیمس نہیں ” جمال ” ہے . اب میری حیرت اسے بچوں کی طرح خوش کر رہی تھی . ۔۔ جمال ۔۔ میں نے اتک اٹک کر دہرایا کہی غلط نہ سنا ہو ۔۔ وہ ہنس پڑا اور تفصیل دیتے ہوئے بتایا کہ اس بار وہ سب سے سخت والی جیل گولبرن میں بھیجا گیا تھا جہاں اس پر بہت ساری سوشل پابندیاں تھیں . اس قید تنہائی نے اسے بہت کچھ دیا ۔۔ تین سال کی قید میں اسے پہلی بار موقع ملا کہ وہ دوبارہ اپنی پڑھائی جہاں سے چھوڑی تھی وہیں سے شروع کرے . تاکہ وہ بارویں کے امتحان میں بیٹھ سکے .

اسی دوران اسے نئی اور پرانی یعنی دونوں طرح کی بائیبل پڑھنے کا اتفاق ہوا .. …. وہ جتنا پڑھتا جاتا اتنا ہی حیران ہوتا گیا کہ اللہ کی کتاب میں تبدیلی کیسے ممکن ہے .. اگر ہوئی بھی تھی تو نئی بائیبل کے درمیان سے کیوں ہوئی ۔۔ اگر یہ خدائی تبدیلی ہوتی تو شروع سے آخر تک ہوتی … جمال نے بتایا کہ اسے نئی اور پرانی دونوں بائیبل نے بہت اداس اور تنہا کر دیا کہ “اب وہ خدا پر بھی بھروسہ نہیں کر سکتا کہ جانے وہ کب بدل جائے ” .. اسی تنہائی اور اداسی میں ایک روز اسے وہیں قران پاک بھی رکھا مل گیا … اب جمال کی آنکھوں کی نمی اور چمک مجھے حیران کر رہی تھی .

وہ کہہ رہا تھا کہ جوں جوں وہ مطالعہ کرتا گیا اسے احساس ہوا کہ ” قران پاک کا خالق اپنی زبان ، اپنا لہجہ ، اپنی بات کہی نہیں بدلتا .. وہ شروع سے لے کر آخر تک ایک ہی جیسا ہے .” جمال نے مجھے اتنے یقین کے ساتھ یہ کہا ” اس پوری کائیانت میں صرف خدا ہی بھروسے کے لائق ہے کہ وہ اتنا پاسدار ہے کہ دل میں سوچی ہوئی نیکی تک ضائع نہیں کرتا …”
پھر ۔۔۔ ؟ میرا اشتیاق بڑھ رہا تھا ۔۔
جمال نے بڑے دھیمے انداز میں کہا ” ڈاکٹر مجھے اس اعتبار نے اتنا سکون دیا کہ میں بغیر دواکے کئی دن تک سوتا رہا .. پھر مجھے جو جو سوال خدا سے پوچھنے تھے میں ڈھونڈتا رہا اور خدا سے پوچھتا رہا ۔۔ مجھے سارے جواب اپنے خالق سے ملتے رہے ….. میں خوشی اور سرمستی میں دن رات قران پڑھتا رہا .. سمجھتا رہا ۔۔۔ قران کائینات کی سائینس ہے ۔
اچانک ایک دن مجھے میرے جیل کے دوستوں نے بتایا کہ ” میں مسلمان ہو گیا ہوں ” …
اوہ ! شاید میں جمال سے یہ سب توقع نہیں کر رہی تھی بے اختیار کہہ گئی ۔
واقعی .. ؟ میں واقعی حیران تھی اور وہ اپنی اس وقت کی حیرانگی یاد کرتے ہوئے بڑی شائیستگی سے انگریزی میں بتا رہا تھا

یہ سچ ہے .. . قران پاک وہ واحد الہامی کتاب ہے جو بیچ راہ میں آج تک نہیں بدلی .. اور اس کے خالق ” خداوند متعال ” نے بیچ راہ کے کبھی کسی کو نہیں چھوڑا … مجھے اس اعتبار کا اتنا سکون ہے کہ اب نشہ یاد نہیں رہتا ..۔جمال نے یہ کہتے اپنے دل کی طرف اشارہ کیا تھا اور آنکھوں کو ایسے بند کیا تھاجیسے اپنے خالق کی حضوری میں ہو ۔۔۔

انٹرویو روم میں جمال اور میرے درمیان خاموشی سر جھکائے بیٹھی تھی ۔۔میں نے نظر بچا کر چپکے سے اپنے دل سے پوچھا .. اپنے مالک کو ڈھونڈنا کیا اتنا ہی آسان ہے ..؟

ڈاکٹر نگہت نسیم

LEAVE A REPLY