نواز شریف کا قافلہ مختلف مقامات سے ہوتا ہوا لاہور کی جانب رواں دواں

0
136

سابق وزیر اعظم نواز شریف کا قافلہ مختلف مقامات سے ہوتا ہوا لاہور کی جانب رواں دواں ہے، وزیراعظم شاہد خان عباسی نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے گلے مل کر انہیں پنجاب ہاؤس سے رخصت کیا، اس موقع پروفاقی و صوبائی وزراء لیگی رہنما اور کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
یہ بھی پڑھیے: جی ٹی روڈ تا لاہور 15حلقوں میں 14پر ن لیگ کا راج
روانگی کے موقع پر سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ خواہش ہےکہ شاہد خاقان بقیہ مدت کےلیے وزیراعظم رہیں، شہباز شریف پنجاب کی جان اور پورے پاکستان کی شان ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے عوام کا شکریہ ادا کرناہے، آپ سب کیلئے نیک خواہشات ہیں۔ اللہ ہمیں پاکستان کی ترقی اورعوام کی خدمت کی توفیق دے۔
انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے پنجاب کو رول ماڈل بنایا، ان کو مزید بہت کچھ کرناہے۔
یہ بھی پڑھیے: تاریخی جی ٹی روڈ کی سیاسی اہمیت
ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم کی روانگی کے وقت کالے بکروں کا صدقہ بھی دیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چوہدری نثار نوازشریف کو رخصت کرنے پنجاب ہاؤس نہیں آئے۔

روانگی سے قبل نوازشریف کی لاہور میں ان کے اہل خانہ سے ٹیلی فونک گفتگو کرائی گئی جب کہ اس موقع پر سابق سینیٹر چوہدری جعفر اقبال نے خصوصی دعا بھی کرائی۔
ذرائع کے مطابق صدر ممنون حسین نے میاں نوازشریف کو ٹیلی فون کرکے لاہور روانگی پر نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

میاں نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز نے بھی اپنے والد کو فون کیا اور خیریت دریافت کی، مریم نوازنے بھی اپنے والد کے سفر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یہ خبر بھی پڑھیے: روانگی سے قبل نواز شریف کا غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو
وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور سینیٹر پرویز میاں نوازشریف کے ساتھ گاڑی میں موجود ہیں۔ سابق وزیراعظم کے قافلے میں ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی جاوید مرتضیٰ عباسی، سینیٹر آصف کرمانی، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، دانیال عزیز اور وزیر مملکت طلال چوہدری بھی شریک ہیں۔
میاں نوازشریف کا ڈی چوک پر کارکنان سے خطاب متوقع تھا تاہم وہ خطاب کیے بغیر ہی ڈی چوک سے خیبرپلازہ اور پھر جناح ایونیو پہنچے۔

پنجاب حکومت نے میاں نوازشریف کی ریلی کی فضائی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے جب کہ فضائی نگرانی آئی جی پنجاب خود کریں گے۔
ادھر محکمہ صحت پنجاب نے جی ٹی روڈ پر واقع 13اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذکردی ہے، تمام میڈیکل اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کرکے انہیں ڈیوٹیز پر طلب کرلیا گیا۔
محکمہ صحت کے مطابق راہولی، سرائےعالمگیر، کامونکی اور لاہور میں ایک ایک موبائل ہیلتھ یونٹ موجود ہوگا اور 2 موبائل ہیلتھ یونٹس روات میں موجود ہوں گے جب کہ موبائل ہیلتھ یونٹس کےسامنے اور پیچھے واٹر پروف کیمرےنصب کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہےکہ موبائل ہیلتھ یونٹس ریلی سے500 میٹر کےفاصلے پر رہیں گے۔
اس سے قبل پنجاب ہاؤس ن لیگ کے مرکزی رہنماؤں نے ریلی کے حوالے سے حتمی مشاورت کی۔

ریلی کے لیے خصوصی طور پر گاڑی تیار کی گئی ہے، جس پر اسپیکرز اور ساؤنڈ سسٹم لگایا گیا ہے جب کہ گاڑی پر سابق وزیراعظم نوازشریف اور مریم نواز کے پوسٹرز آویزاں ہیں۔

راولپنڈی میں تمام چوراہوں پر پانی، کھانے اور ساؤنڈ سسٹم کےکیمپ لگائےگئے ہیں جب کہ ریلی مریڑ چوک سے کچہری سے ہوتی ہوئی جی ٹی روڈ پر داخل ہوگی۔
یہ خبر بھی پڑھیے: ریلی سے خوفزدہ لوگ افواہیں پھیلارہے ہیں، آصف کرمانی
اسلام آباد اور راولپنڈی میں جگہ جگہ سڑکوں اور شاہراہوں پر نواز شریف کی تصویروں والے بینرز اور پوسٹرز لگائے گئے ہیں، مقامی رہنماؤں کے خطاب اور پارٹی ترانوں کے لئے استقبالیہ کیمپوں میں ساؤنڈ سسٹم بھی لگا ئے گئے ہیں۔

امیر مقام کی قیادت میں ن لیگ خیبر پختونخوا کا قافلہ نوازشریف کی ریلی میں شریک ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں پاکستان مسلم لیگ ن خیبرپختونخواکے صدر امیرمقام کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام بھی نواز شریف کے ساتھ لاہورجائیں گے، ہمارےپاس حکومت کی کوئی مشینری اور وسائل نہیں ہیں۔

مسلم لیگ ن کے رہنما آصف کرمانی نے کہا ہے کہ سیاسی مخالفین پر لرزہ طاری ہے اور ان کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں۔

ذرائع محکمہ داخلہ کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کو بلٹ پروف گاڑی میں لاہور لایا جارہا ہے اور سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد انہیں گاڑی سے باہر نکلنے کی اجازت ہوگی۔
صوبائی محکمہ داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ریلی کے راستے میں بازار بند رکھے گئے ہیں اور پولیس کے مسلح اہلکار اور نشانہ باز بلند عمارتوں کی چھتوں پر تعینات ہیں۔
یہ خبر بھی پڑھیے: اللہ میرے والد کی حفاظت فرمائے، مریم نواز
راولپنڈی میں پولیس نے ریلی کے راستے میں آنےوالے مکانات اور دکانوں کے مالکان سے حلف نامے وصول کیے ہیں جس کے مطابق ان سے حلف لیا گیا ہے کہ ’’اپنے مکان یا دکان کو خلاف قانون استعمال نہیں کروں گا، اپنے مکان یا دکان کی چھت سے کسی کو شرارت نہیں کرنےدوں گا جب کہ ریلی روٹ پر مشتبہ افراد کی نشاندہی کروں گا‘‘۔
ذرائع کے مطابق کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے جی ٹی روڈ پر واقع تحریک انصاف کے دفاتر کو بند رکھا جائے گا اور پی ٹی آئی رہنماؤں سے ریلی کے راستے میں گڑ بڑ نہ کرنے کی یقین دہانی لی جائے گی جب کہ مسلم لیگ (ن) کی ریلی کو جلد منزل پر پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔

SHARE

LEAVE A REPLY