سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کا کہنا ہے کہ مجھے ایک منٹ میں پانچ ججوں نے فارغ کردیا گیا،کروڑوں عوام کے ووٹوں کی یہ توہین ہے یا نہیں؟
سابق وزیراعظم نواز شریف کا قافلہ جہلم پہنچ گیاجہاں استقبال کے لیے آئے ہوئے عوام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ کروڑوں عوام وزیراعظم کومنتخب کرتے ہیں،یہ توہین آپ کو برداشت ہے؟پانچ معززجج یک جنبش قلم سے آپ کے وزیراعظم کوچلتا کر دیتے ہیں،ججوں نے بھی کہا کہ میں نے کوئی کرپشن نہیں کی،کوئی کرپشن کا دھبہ نہیں۔
نوازشریف نے عوام سے کہا کہ آپ کوبھی پوچھنا چاہیے کہ جب میں نے کرپشن نہیں کی توپھرکیوں نکالا گیا؟میرے ہاتھ اوردل صاف ہیں،دل پاکستان کی محبت میں ڈوبا ہوا ہے،کبھی خیانت نہیں کی،کیوں نکالا مجھے؟میں پوچھنا چاہتا ہوں مجھے کیوں نکالا جبکہ میں نے ملک کی امانت میں کبھی بھی خیانت نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ 2013ء میں مزدوربے روزگارہورہے تھے،لوگ پریشان تھے، سی این جی اسیٹیشنز پر قطاریں لگی ہوتی تھیں، عوام سے وعدہ کیا تھا جان لڑادوں گاملک کوترقی کی جانب لے کرجاؤں گا،آج روشنیاں واپس آرہی ہیں یا نہیں،وعدہ کیا تھاکہ ملک کے اندھیروں کو ختم کروں گا، کہاں گئےوہ اندھیرے؟وہ اندھیرےغرق ہوگئے،دن رات ایک کرکے بجلی کے کارخانے لگائے،اس وقت لوڈشیڈنگ نہ ہونے کے برابرہے،اگلےسال لوڈشیڈنگ کوہمیشہ کے لیے خداحافظ کہہ دیا جائے گا۔
نواز شریف نے سوال کیا کہ پاکستان میں امن آیا یا نہیں آیا؟ بلوچستان کے اندر امن قائم ہوا، کراچی کا حال کتنا خراب تھا، ہم نے حالات کو ٹھیک کیا، کراچی کے حالات کتنے خراب تھے،کراچی کی روشنیاں واپس آئیں،بلوچستان خدا نخواستہ ڈوب رہا تھا، کراچی برباد ہورہا تھا، کراچی سے خیبر تک موٹر ویز بن رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ خداجانتاہےمجھےاپنی فکرنہیں،نوجوانوں کی فکرہے،70 سال سے قوم کا استحصال ہورہا ہے، کتنے افسوس کی بات ہے آج تک کوئی وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کرسکا،کوئی مجھے سمجھائے،مجھے کیوں نکالا گیا، فکرہےکہ نوجوانوں کا مستقبل کہیں تاریک نہ ہوجائے۔
انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دے کروزیراعظم بناتے ہیں،کوئی ڈکٹیٹر،جج آکرآپ کے ووٹ کی پرچی پھاڑکر ہاتھ میں دے دیتا ہے،آپ کے ووٹ کی توہین آپ کوبرداشت ہے؟مجھے اقتدارکی پروانہیں،میں اسلام آباد سے لاہوراپنے گھرجارہا ہوں،آپ نے مجھے اسلام آباد بھیجا اوراسلام آباد والوں نے مجھے گھربھیجا ہے،مجھے کرپشن کی وجہ سے نہیں نکالا گیا،کہا گیا کہ میں نے اپنے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ کیوں نہ لی،یہ وزیراعظم کی نہیں پاکستان کے عوام کی توہین ہے،کیا کوئی اپنے بیٹے سے بھی تنخواہ لیتا ہے،اگربیٹے سے تنخواہ نہیں لی توآپ کوکیا ہے؟آپ کومجھے نکالنے کی کوئی وجہ سمجھ آتی ہے،پاکستان اوپر آرہاتھا، لیکن گلا دبا دیاگیا۔
نواز شریف نے ڈاکٹر طاہر القادری پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ دھرنے والے میدان میں آگئے اورمولوی کینیڈا سے آگئے،مولوی صاحب کوہرتین ماہ بعد پاکستان کا درد جاگتا ہے،مولوی صاحب برطانیہ میں رہتے ہیں پاسپورٹ بھی وہی کا ہے،پاکستان میں ڈکٹیٹر نے دس دس سال حکومت کرتے ہیں،کمرمیں درد کا بہانہ بنا کر بھاگتے ہیں،آئین کوتوڑتے ہیں،اس ملک میں کوئی عدالت ہے جوڈکٹیٹرکوسزا دے،یہ پاکستان کبھی دائیں جاتا ہے کبھی بائیں،ایسے ملک نہیں چلتا،آج پاکستان دنیا کی پست ترین قوموں میں شامل ہوتاہے،آج نہیں کہنےوالامجھےبحال کردو،ہمیں پاکستان کےمستقبل کے متعلق سوچنا ہے،بیس کروڑ عوام کی توہین کوبرداشت نہیں کریں گے۔
نواز شریف نے حاضرین جلسہ سے سوال کیا کہ جہلم میرے ساتھ چلے گا؟ جس پر جلسہ حاضرین نے نعرے لگا کر نواز شریف کے سوال کا جواب دیا۔
نواز شریف کے خطاب کے بعد وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے اسٹیج پر آکر اعلان کیا کہ قافلہ کل صبح 10بجے جہلم پل سے روانہ ہوگا۔
اس سے قبل سوہاوا اور دینہ میں بھی نواز شریف نے ریلی کے شرکاء سے دھواں دار خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معزز ججوں نے گھر بھیج دیا ہے، اپنی نہیں عوام کی نااہلی کا مقدمہ لے کر نکلا ہوں، یہ منتخب وزیراعظم کی نہیں 20کروڑ عوام کی توہین ہے، 70سال سے پوری قوم کی توہین کی جاتی رہی ہے، اس کھیل کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیں گے، نواز شریف نے عوام سے کچھ وعدے بھی لیے۔
نوازشریف نے سوہاوا میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بتائیں 2013ء کے مقابلے میں حالات بہتر ہوئے ہیں یا نہیں، آج بجلی اور گیس آرہی ہے، موٹر وے بن رہی ہیں، لوگوں کو روزگار مل رہا ہے، غربت اور جہالت دور ہو رہی ہے ۔
نواز شریف نے کہا کہ انہیں یہ انعام دیا گیا ہے ملک کی خدمت کا، یہ سزا ہے یا جزا ہے؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان شاء اللہ ملک اور عوام کی تقدیر بدلیں گے ۔
نوازشریف نے دینہ میں خطاب کرتے ہوئے عوام سے سوال کیا کہ پاکستان کو بدلنے کے لیے نوازشریف کا ساتھ دو گے؟
یہ محبت نوازشریف کبھی نہیں بھولے گا، آپ نوازشریف کا ساتھ دو، نوازشریف آپ کا ساتھ دے گا، ہم مل کر نیا پاکستان بنائيں گے۔
آج نواز شریف کے لاہور کی جانب جانے والے قافلے کا دوسرا دن ہے، اس سے قبل یہ قافلہ دینہ سے جہلم روانہ ہوا تو 24گھنٹے تک سست روی سے چلنے والے قافلے نے اچانک رفتار پکڑ لی۔
راول پنڈی سے باہر نکلتے ہی نوازشریف کے قافلے میں تیزی آگئی، ایک موقع پر نوازشریف کی گاڑی آگے نکل گئی، کنٹینر پیچھے رہ گیا،نوازشریف کا سفر آج پنجاب ہاؤس راول پنڈی سے دوپہر بارہ بجے شروع ہوا تھا۔
سابق وزیر اعظم جہلم کے مقامی ہوٹل میں قیام کے لیے پہنچ گئے، اس سے قبل ان کا پرسنل اسٹاف ہوٹل پہنچا تھا جس میں ان کا چیف شیف بھی شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق خواجہ سعد رفیق، عابدشیر علی، آصف کرمانی بھی اسی ہوٹل میں قیام کریں گے، نواز شریف اور ان کے رفقاء کیلئے ہوٹل میں 8 کمرے بک کرائے گئے ہیں۔
ادھر نواز شریف کی لاہور آمد کے حوالے سے شاہدرہ سے ملحقہ جنگل میں پولیس نے سرچ آپریشن کیا اور بم ڈسپوزل اسکواڈ، اور سراغ رساں کتوں کی مددسےجنگل میں سرچنگ کی۔













