نواز شریف کا مشن جی ٹی روڈ لاہور میں ختم ہو گیا۔ کوئی اہم اعلان نہ ہو سکا۔

0
41

آپ نے مجھے اسلام آباد بھیجا، پانچ لوگوں نے مجھے گھر بھیج دیا، کیا آپ کو منظور ہے؟ نواز شریف کا داتا دربار چوک میں خطاب، کہتے ہیں پانچ لوگوں نے کہا کہ نواز شریف نے کوئی کرپشن نہیں کی، کک بیک نہیں لی، مگر اسے نااہل کریں گے، نواز شریف برہم، کہتے ہیں نہیں لی تو نہیں لی۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ چار سال پہلے آپ نے مجھ سے کہا تھا کہ نواز شریف بجلی نہیں آ رہی، ملک میں دہشتگردی ہے، آج چار سال ہوئے ہیں اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ بڑی حد تک کم ہو گئی ہے مگر پھر بھی مجھے گھر بھیج دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیشہ منتخب وزرائے اعظم کے ساتھ ایسا ہی ہوا، انہیں اوسطاً ڈیرھ ڈیڑھ سال بعد گھر بھیج دیا جاتا ہے۔ آپ ووٹ دیتے ہیں، چند لوگ وزیر اعظم کو گھر بھیج دیتے ہیں، کیا ستر سال سے سارے وزیر اعطم غلط آ رہے ہیں؟ نہیں تو پھر انہیں کیوں گھر بھیجا جاتا ہے؟

سابق وزیر اعظم نے لوگوں سے استفسار کیا کہ پاکستان ترقی کر رہا تھا یا نہیں کر رہا تھا؟ کون ہیں جو پاکستان پر اتنا ظلم کرتے ہیں؟ کیا پاکستان میں بہتری نہیں ہو رہی تھی؟ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عوام کے ووٹ کی کوئی قدر نہیں، چار سال میں بڑی محنت سے کام کیا، شہباز شریف سے پوچھو بجلی کے کارخانے 20، 20 ماہ میں مکمل کئے، پاکستان کے ساتھ یہ کھیل کھیلنے والوں کا احتساب ہونا چاہئے یا نہیں؟ نواز شریف بولے پاکستان پر ظلم کرنیوالوں کا حساب ہونا چاہئے یا نہیں؟ انہوں نے کہا کہ انقلاب نہ آیا تو دنیا کی بدترین قوم بن جائیں گے، انقلاب نہ آیا تو کسی کو انصاف نہیں ملے گا، خوشحالی نہیں ملے گی، انقلاب نہ آیا تو دنیا کی بدترین قوم بن جائیں گے، جو جذبہ یہاں دیکھا اس سے پہلے نہیں دیکھا، 3 ڈکٹیٹر 30 سال کھا گئے، ہر وزیر اعظم کو اوسطاً ڈیڑھ سال ملے۔
نواز شریف نے لوگوں سے کہا کہ میں نے آپ سے جو وعدہ کیا وہ پورا کیا، ابجلی دینے کا وعدہ کیا، بجلی آ گئی، دہشتگردی ختم کرنے کا وعدہ کیا، دہشتگردی ختم ہو گئی، اب میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر آپ حکم دیں تو میں آپ کے ووٹ کی حرمت بحال کرواؤں گا،

انہوں نے کہا کہ جب تک ملک کی تقدیر نہیں بدلے گی گھر نہیں بیٹھوں گا، اگر ملک کو بچانا ہے تو آپ کو مجھ سے یہ سچا وعدہ کرنا ہے کہ آپ پاکستان میں انقلاب برپا کرنے کیلئے میرا ساتھ دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ملک کے شہیدوں کے ساتھ کیا وعدہ پورا نہیں کیا، پرسوں 14 اگست ہے، ہمیں ملک میں انقلاب برپا کرنا ہو گا۔ انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ آپ نیا پاکستان بنانے میں میرا ساتھ دیں گے؟ انہوں نے اعلان کیا کہ ہم ملک کے آئین کو تبدیل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ آپ سے دو وعدے کر رہا ہوں، اگر آپ نے مجھے اور میری جماعت کو موقع دیا تو ہم ملک میں فوری انصاف کا نظام لائیں گے اور لوگوں کو سستے گھر دیں گے۔

سینیٹ کے چیئرمین کی تجاویز کو تسلیم کرتا ہوں اور اعلان کرتا ہوں کہ ہم ان کے ساتھ بیٹھیں گے اور ان کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کام کریں گے۔ سابق وزیر اعظم نے 14 اگست کو اپنا اگلا لائحہ عمل دینے کا اعلان بھی کیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچستان کے شہداء کی قربانی کو سلام پیش کرتا ہوں اور ان کے اہلخانہ سے اظہار ہمدردی کرتا ہوں۔

SHARE

LEAVE A REPLY