جذام کے مریضوں کا علاج کرنے والی ‘پاکستان کی مدر ٹریسا’ ڈاکٹر روتھ فاؤ کی آخری رسومات سینٹ پیٹرک چرچ میں ادا کی گئی ہیں۔ ڈاکٹر روتھ فاؤ کی آخری رسومات پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی جارہی ہیں۔
مسلح افواج کے اہلکار ڈاکٹر روتھ کے جسدِ خاکی کو کراچی کے علاقے صدر میں واقع سینٹ پیٹرک چرچ میں لے کر داخل ہوئے جبکہ ان کا تابوت پاکستانی پرچم میں لپٹا ہوا تھا۔
ڈاکٹر روتھ فاؤ کی تدفین گورا قبرستان میں ہو رہی ہے۔
واضح رہے کہ آخری رسومات کے دوران سیکیورٹی کی صورتحال یقینی بنانے کے لیے تینوں مسلح افواج کے اہلکاروں نے ذمہ داریاں سنبھال رکھی ہیں۔
جذام/کوڑھ کے مریضوں کا علاج کرنے والی ‘پاکستان کی مدر ٹریسا’ ڈاکٹر روتھ فاؤ گذشتہ ہفتے (10 اگست) کی رات کراچی میں انتقال کر گئی تھیں۔
مزید پڑھیں: جذام کے مریضوں کا علاج کرنے والی ‘پاکستانی مدر ٹریسا‘ چل بسیں
کراچی کے علاقے صدر میں جذام کے مریضوں کے علاج کے لیے قائم میری ایڈیلیڈ سینٹر کے سی ای او کے مطابق 88 سالہ ڈاکٹر روتھ فاؤ 2 ہفتے سے نجی ہسپتال میں زیر علاج تھیں۔
ڈاکٹر روتھ فاؤ 1960 میں جرمنی سے پاکستان آئی تھیں، انہیں 1979 میں ہلال امتیاز اور 1989 میں ہلال پاکستان کے اعزازات سے نوازا گیا۔
ڈاکٹر روتھ فاؤ کو 1988 میں پاکستانی شہریت دی گئی، ان کی کوششوں کی بدولت پاکستان کو 1996 میں جذام سے پاک ملک قرار دیا گیا۔













