سپین،فن لینڈ اور روس میں ہونے والے حملوں میں پیش رفت

0
106

ہسپانوی پولیس بارسلونا میں دہشت گردانہ کارروائی میں ملوث حملہ آور کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہے۔ حکام نے نئے مشتبہ شخص کا نام یونس ابو یعقوب بتایا ہے، جو مراکش میں پیدا ہوا تھا۔ قبل ازیں بتایا گیا تھا کہ بارسلونا حملے میں ملوث سترہ سالہ موسیٰ الکبیر کامبرلز میں پولیس کی کارروائی میں ہلاک ہو گیا تھا۔ اس کارروائی میں پولیس نے پانچ مشتبہ افراد کو ہلاک کیا تھا۔ دوسری طرف حکام نے بتایا ہے کہ بارسلونا اور کامبرلز میں حملوں کے لیے استعمال ہونے والے دہشت گردی کے مرکز کو تباہ کر دیا گیا ہے تاہم خبردار کیا ہے کہ ملک میں مزید حملوں کا خطرہ برقرار ہے۔

فن لینڈ کے حکام نے ہفتے کے دن بتایا ہے کہ ٹرکو میں چاقو سے کیے گئے حملوں کو دہشت گردی کے تناظر میں پرکھا جا رہا ہے۔ اس کارروائی میں مبینہ طور پر ملوث حملہ آور کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ اٹھارہ سالہ پناہ کا متلاشی ہے، جس کا تعلق مراکش سے ہے۔ حکام کے مطابق اس شخص نے تفتیشی حکام سے تعاون سے انکار کر رکھا ہے۔ جمعے کے دن اس نے حملہ کرتے ہوئے دو افراد کو ہلاک جبکہ آٹھ کو زخمی کر دیا تھا۔ حکام نے بتایا ہے کہ مشتبہ شخص سن دو ہزار سولہ میں فن لینڈ آیا تھا۔

روس میں چاقو سے کیے گئے ایک حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی ہے۔ عراق اور شام میں فعال اس جنگجو گروہ نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی شہر سورگُوت میں چاقو سے حملہ کرنے والا اسلامک اسٹیٹ کا ’سپاہی‘ تھا۔ ہفتے کے دن اس حملہ آور نے کارروائی کرتے ہوئے سات افراد کو زخمی کر دیا تھا جبکہ پولیس نے جوابی کارروائی میں اسے ہلاک کر دیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY