بھارتی ریاست ہریانہ میں سکھ مذہبی رہنما گرو گرمیت رام کی گرفتاری سے پھوٹنے والے ہنگاموں میں ہلاکتوں کی تعداد 36 تک پہنچ گئی ہے ،350 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ریاست ہریانہ کے مختلف اضلاع میں ہونے والے فسادات کے حوالے سے ڈی جی پولیس بی ایس سندھو نے پریس بریفننگ دی۔
ڈی جی پی ہریانہ کے مطابق گرو گرمیت رام کے حوالے سے عدالتی فیصلے کے بعد ہریانہ میں حالات کشیدہ ہوئے، فسادات کے الزام میں 552 افراد کو گرفتار کیا ہے ۔
ان کے مطابق اس وقت حالات پرامن ہیں ،فسادیوں میں سے کوئی بھی سڑک پر نہیں ہے،کسی بھی نوعیت کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے پولیس تعینات ہے،گرفتار افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
ادھر بھارتی پنجاب کے 10 اضلاع میں غیر معینہ مدت کا کرفیو نافذہے،سیکیورٹی فورسز نے ڈیرہ سچا سودا تنظیم کے خلاف کریک ڈائون شروع کردیا ،
میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست ہریانہ میں سکھ مذہبی رہنما کی گرفتاری کے اثرات کا دائرہ قریبی علاقوں میں پھیل گیا ، گڑگاوں میں ہائی الرٹ کردیا گیا جبکہ فسادات سے متاثرہ سرسااور 3دیہات میں کرفیونافذ کردیا گیا۔
گزشتہ روز گرمیت کےحامیوں نے گاڑیوں پر پتھراؤ کیا،ریلوے اسٹیشن،ٹیلی فون ایکسچینج،پیٹرول پمپوں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی۔
ڈیراسچاسوداواقعےکےبعدنئی دلی کے13پولیس ڈسٹرکٹس میں بھی کرفیونافذ کردیا گیا ہے،10سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ نئی دلی کے80فیصدعلاقوں میں کرفیو نافذ کیا گیا۔
گرو گرمیت رام رحیم کوسزا 28اگست کو سنائی جائے گی











