اسلام آباد اور برطانیہ میں اتھارٹیز نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے 21ویں صدی کے پہلے عشرے کے اوائل میں بچوں سے جنسی زیادتی کرنے والے مجرم کو برطانوی حکام کے حوالے کردیا گیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق گریٹ مانچسٹر پولیس (جی ایم پی) نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ 42 سالہ چوہدری اخلاق کو حکام کی جانب سے حوالے کرنے کے بعد منگل کے روز برطانیہ لے جایا گیا۔

برطانیہ میں ٹرائل کے دوران فرار ہو کر پاکستان آنے والے مذکورہ مجرم کو 4 سال بعد جنوری 2019 میں فیصل آباد کے علاقے سانگلہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

چوہدری اخلاق حسین پر اپریل 2016 میں بچوں کے ساتھ 3 مرتبہ جنسی سرگرمیاں کرنے کا الزام ثابت ہوا تھا جس میں 2 دفعہ ریپ اور ایک دفعہ ریپ کی سازش شامل تھی، مجرم کو 19 سال قید کی سزا بھگتنے کے لیے برطانیہ کے حوالے کیا گیا۔

مذکورہ شخص 2016 میں ایک لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے 10 افراد میں سے ایک تھا، جس کا تعلق پاکستانیوں، بنگلہ دیشیوں اور افغان نژاد شہریوں پر مشتمل ایک گروہ سے تھا جسے درجنوں نو عمر لڑکیوں کا جنسی استحصال کرنے پر سزا ہوئی۔

عدالت میں بتایا گیا تھا کہ یہ افراد لڑکیوں کو تحائف دے کر بہلاتے اور پھر انہیں دوسرے مردوں کے ساتھ جنسی عمل پر مجبور کرنے سے قبل شراب پلاتے اور نشہ آور ادویات دیتے تھے۔

ان مجرمان کا ٹرائل برطانیہ کے ’آپریشن ڈبلیٹ‘ کے تحت کیا گیا جو 2003 سے 2013 کے درمیان بچوں کا جنسی استحصال کرنے کی رپورٹس کی تحقیقات کرنے کے لیے 2012 میں شروع کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ اخلاق حسین نے ٹرائل کے دوران جج سے برطانیہ میں ہی ایک عزیز کے جنازے میں شرکت کی اجازت مانگی تھی جسے ملنے کے بعد وہ پاکستان فرار ہوگیا تھا اور گزشتہ برس برطانوی اور مقامی حکام کی مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں گرفتار ہونے تک مفرور تھا۔

مجرم کی حوالگی کے بعد ’آپریشن ڈبلیٹ‘ کے ایک سینئر تفتیش کار جیمی ڈینیئل کا کہنا تھا کہ ’اخلاق حسین ایک جنسی شکاری ہے جسے یہ غلط گمان ہوا کہ وہ انصاف سے بچ کر کسی دوسرے ملک جا کر اچھی زندگی گزار سکتا ہے جب کہ اس کی متاثرہ خواتین اس کے غلط کاموں کے اثرات کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مذکورہ شخص کی حوالگی اس بات کا اظہار ہے کہ جب بچوں کے جنسی استحصال کے مجرموں کا پیچھا کرنے کی بات آئے گی تو ہم انہیں پوری دنیا میں تلاش کریں گے‘۔

جیمی ڈینیئل نے کہا کہ ’اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کے کہ کتنے برس گزر گئے ہم اخلاق حسین کے جیسے خطرناک مجرموں کو پکڑنے اور ان کے گھناؤنے جرم کا سامنا کروانے کے لیے ہر وہ چیز کریں گے جو ہمارے اختیار میں ہوئی‘۔

دوسری جانب پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچیئن ٹرنر کا کہنا تھا کہ اخلاق حسین کی حوالگی برطانیہ اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قریبی تعاون کی تازہ مثال ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY