راولپنڈی کی احتساب عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری کو 19 سال پرانے غیرقانونی اثاثہ جات ریفرنس سے بری کر دیا، عدالت نے قرار دیا کہ نیب متعلقہ ریکارڈ اور گواہان پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ ریفرنس میں آصف زرداری کے خلاف ٹھوس شواہد موجود نہیں۔ کئی شہادتیں بھی ملزم کے حق میں ہیں۔ ریفرنس کا بہت سا ریکارڈ اور گواہان بھی غائب ہو چکے ہیں۔ نیب نے عدالت میں اقرار کیا کہ کوششوں کے باوجود نہ تو ریکارڈ ملا اور نہ ہی چار گواہان کا کچھ پتہ چلا کیونکہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد رہائش گاہیں بدل چکے ہیں۔

آصف زرداری کے خلاف یہ ریفرنس 1998ء میں دائر ہوا تھا۔ 2007ء میں این آر او کے باعث یہ مقدمہ بھی ختم کر دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے این آر او کالعدم قرار دیدیا تو ریفرنس دوبارہ کھولا گیا مگر کارروائی آصف زرداری کی مدت صدارت ختم ہونے کے بعد شروع ہوئی۔ کیس کے دیگر ملزمان پہلے ہی بری ہو چکے ہیں

SHARE

LEAVE A REPLY