کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خواجہ اظہارالحسن پر حملے کے کیس کی تحقیقات میں پیش رفت سامنے آگئی ہے،مارا گیا مبینہ دہشت گرد حسان اسرار پی ایچ ڈی ڈاکٹر تھا جبکہ انجینئرنگ یونیورسٹی میں پروفیسر بھی تھا۔
کراچی میں ایم کیو ایم کے رہنما خواجہ اظہار پرحملے کی ایک اور ویڈیو سامنے آگئی، انتہائی واضح ویڈیو میں پولیس کی وردی میں ملبوس حملہ آوراور سفید لباس پہنے ساتھی کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
ویڈیو میں فائرنگ کرنے والا حملہ آور حسان اسرار مشتعل افراد کے تشدد سے ہلاک ہوگیا تھا، ہلاک دہشت گرد پی ایچ ڈی ڈاکٹر اورانجینئرنگ یونیورسٹی میں پروفیسر بھی تھا۔
اس سے پہلے پولیس ذرائع سے پتہ چلا تھا کہ مارے گئے دہشت گرد کے قبضے سے ملا اسلحہ ڈی ایس پی ٹریفک کریم آباد اور سائٹ میں چار پولیس اہلکاروں کے قتل میں بھی استعمال کیا گیا تھا۔
ویڈیو میں دو حملہ آوروں کو فائرنگ کرتے دیکھا جاسکتا ہے، ایک سادہ لباس اور دوسرا پولیس کی وردی میں ملبوس ہے، دونوں حملہ آوروں نے ہیلمٹ اور چہرے پر ماسک بھی پہن رکھے ہیں۔
سادہ لباس حملہ آور موٹرسائیکل سے اُتر کر فائرنگ کرتا دیکھا جاسکتا ہے، اس نے بھی خاکی پتلون اور پولیس کے جوتے پہن رکھے ہیں، وہ فائرنگ کے بعد موٹرسائیکل پر بیٹھ کر پہلے فرار ہوتا ہے۔
پولیس وردی میں ملبوس حملہ آور بھی اس کے پیچھے جاتا نظر آرہا ہے، دونوں موٹر سائیکلوں کے ہینڈلوں پر شاپر لٹکے نظر آرہے ہیں۔
ممکنہ طور پر پولیس کی وردی میں ملبوس ہلاک ہونے والا حملہ آور حسان ہے، جسے عوام نے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا تھا،
ذرائع کے مطابق حملے میں ملوث دہشت گرد کے بارے میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، مارا گیا دہشت گرد حسان اسرار پی ایچ ڈی ڈاکٹراور شہر کی بڑی انجینئرنگ یونیورسٹی میں پروفیسر بھی تھا۔
ملزم کے پاس سے ملنے والے نائن ایم ایم پستول کی فرانزک رپورٹ آگئی ہے، یہی پستول عزیز آباد میں ڈی ایس پی ٹریفک کے قتل میں استعمال ہوا تھا، اسی پستول سے رمضان المبارک میں سائٹ میں چار پولیس اہلکاروں کو افطار کرتے وقت قتل کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ایم کیوایم پاکستان کے رہنما پرحملے میں دو نائن ایم ایم پستول استعمال ہوئے، گولیوں کے 34 خول ملے۔
دوسرا پستول حالیہ دنوں میں ایف بی آر ملازمین، پولیس قومی رضاکاروں، بہادر آباد میں پولیس اہلکاروں اور گلستان جوہر میں پولیس فاؤنڈیشن کے گارڈ کے قتل میں استعمال ہوا، وہ پستول دیگر دو دہشتگرد لے کر فرار ہوگئے۔
واقعے کی حساس اداروں سمیت قانون نافذ کرنے والے مشترکہ تحقیقات کر رہے ہیں، تاحال تفتیشی اہل کار فائرنگ کے محرکات پر کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔
حکام بتاتے ہیں کہ ہلاک دہشت گرد اگر زندہ پکڑا جاتا تو تحقیقات میں نہایت ٹھوس پیش رفت ہوسکتی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خواجہ اظہار پر حملے میں 3دہشت گرد ملوث تھے،فائرنگ دو حملہ آوروں نے کی، جبکہ ایک دہشت گرد بیک سپورٹ پر موجود تھا۔
ادھر آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کا کہنا ہے کہ خواجہ اظہار پر حملے سے متعلق تحقیقات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے، حملےمیں کونسا گروپ ملوث ہے اس قسم کی قیاس آرائیوں سے تفتیش متاثر ہوتی ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خواجہ اظہارالحسن خواجہ اظہار الحسن پر حملے کی نئی ویڈیو سے پولیس کو اپنی تحقیقات میں مدد ملنے کی امید ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز کراچی کے علاقے بفر زون میں نماز عیدالاضحیٰ کی ادائیگی کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خواجہ اظہار الحسن مسجد سے آرہے تھے کہ دہشت گردوں نے ان پر قاتلانہ حملہ کردیا۔
واقعے میں خواجہ اظہار تو محفوظ رہے تاہم ان کی حفاظت پر مامور ایک پولیس اہلکار اور ایک بچہ جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ ایک حملہ آور پولیس اہلکاروں کی جوابی فائرنگ سے مارا گیا تھا، واقع میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔













