وزیر اعظم عمران خان نے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کی صحت کے حوالے سے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو انہیں علاج کی بہترین سہولیات کی فراہمی کی ہدایت کی ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے اپنے سیاسی حریف اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
عمران خان نے نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن میں صدقِ دل سے نواز شریف کی صحتیابی کے لیے دعاگو ہوں اور انہیں علاج معالجے کی بہترین ممکنہ سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام متعلقہ حکام کو ہدایات دے چکا ہوں۔
وزیراعظم نے بدھ کو وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو خصوصی طور پر ہدایات جاری کی تھیں کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد کو علاج کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں۔
یاد رہے کہ پیر کو نواز شریف کی صحت اچانک خراب ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں جس کے بعد انہیں لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔
مسلم لیگ (ن) کے قائد کے پلیٹلیٹس خطرناک حد تک کم ہو گئے تھے جس کے بعد انہیں ہنگامی بنیادوں پر طبی امداد فراہم کی گئی تھیں۔
سابق وزیر اعظم کے چیک اپ کے لیے ہسپتال میں 6 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا جس کی سربراہی ڈاکٹر محمود ایاز کر رہے ہیں جبکہ اس بورڈ میں سینئر میڈیکل اسپیشلسٹ گیسٹروم انٹرولوجسٹ، انیستھیزیا اور فزیشن بھی شامل ہیں۔
بدھ کو نواز شریف کی صحت کے حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آئی تھیں جس کے بعد حکومت نے ان کی صاحبزادی مریم نواز کو والد سے سروسز ہسپتال میں ملاقات کی خصوصی اجازت دے دی تھی۔
البتہ والد سے ملاقات کے دوران ان کی تشویشناک حالت کو دیکھ کر مریم نواز کی بھی حالت بگڑ گئی تھی اور انہیں بھی طبی امداد فراہم کرنی پڑ گئی تھی اور احتیاطی تدابیر کے طور پر ان کے چند ٹیسٹ بھی کیے گئے تھے۔
طبیعت ٹھیک ہونے کے بعد جمعرات کی صبح مریم نواز کو واپس کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا تھا۔
نواز شریف کے مرض کی ابتدائی تشخیص، ‘خلیات بنانے کا نظام خراب’
میڈیکل بورڈ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے مرض کی ابتدائی تشخیص کرلی جس میں انہیں خلیات بنانے کا نظام خراب ہونے کا مرض لاحق ہے۔
پروفیسر محمود ایاز کے مطابق خلیات بنانے کا نظام خراب ہونے سے خون میں پلیٹسلٹس کم ہوجاتے ہیں اور قوت مدافعت کم ہوجاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نواز شریف کو امیون تھرمبو سائیٹوپینیا کا مرض لاحق ہے جس کی وجہ سے خون میں پلیٹ لیٹس میں فوری کمی آجاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ قابل علاج مرض ہے، نوازشریف کا علاج شروع کردیا گیا۔
سروس انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے پرنسپل ڈاکٹر محمود ایاز نے بتایا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ (پی کے ایل آئی) اور پی ای ٹی اسکین کے لیے ریسرچ سینٹر میں داخل کیا جائےگا۔
تاہم ہسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف نے از خود پی کے ایل آئی جانے سے انکار کردیا۔
خون میں پلیٹسلٹس کا کردار
جسم میں پلیٹسلٹس خون کے اندر گردش کرتے پلیٹ کی شکل کے چھوٹے چھوٹے زرات ہوتے ہیں جن کے گرد جھلی ہوتی ہے۔
پلیٹسلٹس کا کام جسم سے خون انخلا کو روکنا ہوتا ہے۔
پلیٹسلٹس خون کے ساتھ گردش کرتے ہیں اور کہیں بھی زخم یا خراش لگنے کی ضرورت میں وہاں جمع ہو کر خون کے انخلا کو روک لیتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق کی پلیٹسلٹس کی غیرموجودگی سے دماغ میں خون جمع ہوجاتا ہے جس کئی پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں اور برین ہیمرج بھی ہوسکتا ہے۔
صحت مند جسم میں پلیٹسلٹس کی تعداد ایک لاکھ سے ساڑھے چار لاکھ ہوتے ہیں جس سے ہڈی کا گودا ضرورت کے مطابق بنتا رہتا ہے
انسانی جسم میں 10 سے 25 ہزار گر جائیں تو زیادہ پریشانی کی بات نہیں ہوتی لیکن اگر ان کی تعداد 10 ہزار تک پہنچ جائے تو خون کے انخلا کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پلیٹسلٹس کی کمی کے باعث انفکیشن، گردوں کی بیماری، ادویات کے اکثریت یا جسم کے مدافعتی نظام میں خرابی سے ہوسکتی ہے۔
طبی ماہرین کی رائے کے مطابق پلیٹسلٹس کی کمی کےباعث دل کے دورے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔













