عدالت عظمیٰ میں آج منگل کوپانامہ کیس میں جاری کئے گئے فیصلہ کیخلاف سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کی نظر ثانی کی درخواستوں کی سماعت ہوگی ،جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بینچ درخواستوں کی سماعت کرے گا،

دوسری جانب شریف فیملی نے تین رکنی سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ پراعتراض کرتےہوئے پانامہ کیس کے فیصلہ کیخلاف نظر ثانی کی درخواستوں کی سماعت 5رکنی بنچ میں لگانے کیلئے سپریم کورٹ میں متفرق درخواست دائر کردی ہے، نواز شریف کے بعد ان کے بچوں حسن ،حسین نواز اور مریم نوازنےسوموارکے روزسپریم کورٹ میں دائرکی گئی درخواست میں موقف اختیارکیاہے کہ 12ستمبر کو صرف تین رکنی بینچ کے فیصلے کیخلاف ان کی اپیلیں سماعت کیلئے مقرر کی گئی ہیں جبکہ درخواست گزاروں نے سپریم کورٹ کے تین رکنی اور پانچ رکنی بینچ کے فیصلے کیخلاف نظر ثانی کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں ،درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا ہے کہ پانامہ کیس کاسپریم کورٹ کا 28جولائی کا فیصلہ حتمی تھا عبوری نوعیت کا نہیں تھا ،جس پرپانچ ججوں نے دستخط کیے تھے

 قانون کا مسلمہ اصول ہے کہ چھوٹا بینچ بڑے بینچ کا فیصلہ نظر ثانی میں تبدیل نہیں کر سکتا، درخواست گزاروں نے استدعا کی ہے کہ تین رکنی بینچ کے سامنے لگائی گئی درخواست پرآج ہونے والی سماعت موخر کی جائےاور نظر ثانی کی درخواستوں کی سماعت کیلئے وہی پانچ رکنی لارجر بنچ یا اس کے مساوی کوئی دوسرا لارجربینچ تشکیل دیا جائے

SHARE

LEAVE A REPLY