پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک میں پھر اتحاد ہوگیا، عمران خان اور طاہر القادری ایک بار پھر اکٹھے ہوگئے۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے لاہور میں ملاقات کے بعد اکٹھے میڈیا سے گفتگو کی۔
اس موقع پر عمران خان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا رویہ بالکل غیرجانبدار نہیں ہے،اس نے آج تک کسی کو توہین عدالت پر نہیں بلایا۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کام صاف اور شفاف الیکشن کرانے کا ہونا چاہیے،ن لیگ کے سارے وزیر،ناظم حلقے میں کام کررہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مریم نواز روز پاکستان کی عدلیہ کی توہین کرتی ہیں، وہ تو ایک قسم کی ڈپٹی پرائم منسٹربنی ہوئی ہیں،ان کے پاس تمام اختیارات ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی کاکہنا تھا کہ آج میں داتاصاحب جارہاہوں اس پرکسی کواعتراض نہیں ہوناچاہیے،یقین دلاتا ہوں کہ ’مجھے کیوں نکالا‘ کمپین ہم نہیں چلائیں گے۔
عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ جب سے پاناما کیس اٹھایا میرے خلاف سپریم کورٹ میں بھی کیسز لائے گئے، الیکشن کمیشن کے رویے پر سپریم کورٹ بھی جانا پڑا تو جائیں گے، الیکشن کمیشن کیسے کسی کے وارنٹ جاری کر سکتی ہے؟
عمران خان کا کہنا ہے کہ ماڈل ٹاؤن میں دن دیہاڑے گولیاں ماری گئیں، ڈاکٹر طاہر القادری کو جس مدد کی ضرورت ہوگی، کریں گے۔
اس موقع پر پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے لاہور کے حلقے این اے 120 کے ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کی حمایت کا اعلان کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی نےنوازشریف کےحق میں قراردادپاس کی، یہ خلاف آئین ہے، این اے 120 میں جو ووٹ ڈالیں گے انہوں نے ماڈل ٹاؤن میں قتل عام دیکھا، ن لیگ کے امیدوار انسانیت کے قاتل ہیں، دوسری جانب تعلیم یافتہ خاتون امیدوار ہیں۔
طاہر القادری نے مزید کہا کہ این اے 120 کے لوگوں کو سوچنا ہے کہ کیا وہ انسانیت کے قاتلوں کو ووٹ دینے جا رہے ہیں؟ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ انسانیت کےقاتلوں کےساتھ ہیں یاانسانیت کے ساتھ ہیں۔
سربراہ عوامی تحریک کا یہ بھی کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے کہہ دیا ہے کہ اقامے پہ نہیں بددیانتی پر نواز شریف کو نکالا ہے، نواز شریف منتخب ہو کر حلقے میں نہیں جاتے

SHARE

LEAVE A REPLY