سابق وزیراعظم نواز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال، راجا ظفر الحق، دانیال عزیز سمیت کابینہ کے متعدد ارکان کو دروازے پر ہی روک لیا گیا۔
احتساب عدالت میں نواز شریف کی پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کئے گئے اور پولیس کے بجائے رینجرز نے سیکورٹی کی ذمہ داریاں اپنے ہاتھ میں لے لیں۔
وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال، سینیٹ میں قائد ایوان راجا ظفرالحق، وزیر مملکت طارق فضل چوہدری، دانیال عزیز اور طلال چوہدری کو احتساب عدالت کے دروازے پر ہی روک لیا گیا۔
رینجرز اہلکاروں نے رکن قومی اسمبلی مائزہ حمید، میئر اسلام آباد شیخ انصر عزیز اور سابق وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کو بھی احتساب عدالت کے اندر داخلے کی اجازت نہ دی۔
وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق احتساب عدالت پہنچے تو انہیں بھی اہلکاروں نے احتساب عدالت کے دروازے پر روک لیا جس پر انہوں نے اندر جانے کی کوشش نہیں کی اور واپس اپنی گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوگئے۔
وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کو داخلے سے روکے جانے پر انہوں نے رینجرز کے بریگیڈئیر کو طلب کیا تاہم اس موقع پر وہ احتساب عدالت کے دروازے پر ہی کھڑے رہے۔
وزیر داخلہ نے سول ایڈمنسٹریشن کے احکامات کی حکم عدولی کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا حکم دے دیا۔











