وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ایک ٹی وی پروگرام میں کالعدم تنظیموں سے ارکان اسمبلی کے تعلق کی دستاویز لہرائی گئی، اس کی کاپیاں بانٹی گئیں۔
وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کہا گیا کہ وزیراعظم ہاؤس نے انٹیلی جنس بیورو سے رپورٹ مانگی اور آئی بی نے 37ارکان کی فہرست بنا کر دی، یہ دستاویز جعلی ہے، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسمبلی اور ارکان کا وقار مجروح کیا گیا، جعلی خط کے معاملے پرآئی بی نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
دوسری جانب وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے پارٹی ارکان کو ریاستی اداروں کے متعلق بیان بازی سے روک دیا،ان کا کہنا ہے کہ اداروں سے کسی قسم کی محاذ آرائی نہیں ہونے چاہیے، اس وقت قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔
وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے یہ ہدایات پارلیمنٹ ہاؤس میں پاکستان مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کے دوران دیں۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیرا عظم نے پارٹی ارکان پہ زور یا کہ اداروں کے درمیان ہم آہنگی ہونی چاہئے اس لیے ایسے بیانات سے گریز کیا جائے جن سے اداروں کے مابین محاذآ رائی کاتاثر پیدا ہو۔
اجلاس میں آئی بی کے مبینہ خط کے معاملے پہ متاثرہ ارکان نے تحفظات ظاہر کئے اور کہا کہ آئندہ الیکشن میں اس خط کو بنیاد بنا کر ان کے کاغذات نامذدگی پہ اعتراضات اٹھائے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم خود اس خط بارےایوان میں وضاحت دیں جس پہ وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی کہ وہ خود ایوان میں اس خط بارے پالیسی بیان دیں گے۔













