نیب ریفرنسز: نواز شریف کی جانب سے سماعت روکنے کی درخواست

0
113

سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے احتساب عدالت میں متفرق درخواست دائر کی گئی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جب تک تینوں ریفرنسز یکجا کرنے کا فیصلہ نہ آجائے اس وقت تک کارروائی روکی جائے۔
احتساب عدالت میں نیب ریفرنس کی سماعت کے دوران مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر نے آج فرد جرم عائد نہ کرنے کی استدعا کی ہے۔
احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نیب کی جانب سے دائر تین ریفرنسز کی سماعت کر رہے ہیں۔
سماعت کے آغاز پر مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کے وکیل امجد پرویز نے عدالت سے استدعا کی کہ آج فرد جرم عائد نہ کی جائے۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عبوری ریفرنس میں دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں، جب تک تمام دستاویزات نہیں دی جاتیں اس وقت تک سماعت روکی جائے۔
وکیل نے کہا کہ ریفرنس دستاویزات کی مکمل فراہمی تک فرد جرم عائد نہیں کی جاسکتی۔
اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے آج فرد جرم عائد نہ کرنے کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان پر آج ہی فرد جرم لگائی جائے۔

سماعت میں وقفے کے دوران مریم نواز شریف نے کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سزا پہلے سنائی گئی ٹرائل بعد میں ہورہا ہے،پہلی بار ایسا ہو رہا کہ سیسیلین مافیا عدالتوں میں پیش ہورہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف اسی ہفتے کے آخر یا آئندہ ہفتے واپس آ جائیں گے۔والدہ کی کیمو تھراپی ہو رہی ہے، صحت میں بہتری آ رہی ہے جبکہ مکمل ریکوری میں چھ ماہ لگ جائیں گے۔
واضح رہےسابق وزیراعظم نوازشریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر پر آج نیب ریفرنسز میں فرد جرم عائد ہونے کا امکان ہے۔
نیب کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف لندن فلیٹس، فلیگ شپ انویسٹمنٹ اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنسز دائر کیے گئے ہیں۔ سابق وزیر اعظم اپنی اہلیہ کلثوم نواز کی علالت کے باعث لندن میں موجود ہیں تاہم ان کی جانب سے نامزد کردہ نمائندہ ظافر خان عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔
نیب قوانین کی شق 17 (سی) کے مطابق ان کی عدم موجودگی کے باوجود بھی ان پر فرد جرم عائد کی جاسکتی ہے۔
عدالت نے لندن میں رہائش پذیر حسن نواز اور حسین نواز کو مفرورملزم قرار دے کر ان کا کیس الگ کر رکھا ہے ۔
وکلااور ن لیگی رہنماؤں سمیت15 افراد کوعدالت میں داخلےکے پاسز دیے گئے ہیں۔
گزشتہ سماعت پر احتساب عدالت میں ہلڑ بازی کے باعث فرد جرم عائد نہیں کی جاسکی تھی۔ اس بار احتساب عدالت کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس بھی ہوا ،تاہم رینجرز تعینات نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پولیس اور ایف سی اہلکار سکیورٹی فرائض سرانجام دے رہے ہیں،ایس ایس پی اسلام آباد ساجد کیانی کا احتساب عدالت کے باہر سیکیورٹی کا جائزہ لیا۔

احاطہ اور کمرہ عدالت میں وکلاء اور میڈیا نمائندگان کے داخلے کے لیے خصوصی فہرستیں تیار کی گئی ہیں۔
سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کئے ہیں جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق ہے۔
نیب کی جانب سے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بچوں حسن، حسین ، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا ہے۔
العزیزیہ اسٹیل ملز جدہ اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔
سابق وزیراعظم نواز شریف نیب ریفرنس کا سامنا کرنے کے لئے دو مرتبہ 26 ستمبر اور 2 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

SHARE

LEAVE A REPLY