آہاآہا اچھا مذاق ہے ،خبردار ، عوام ہوشیار ر ہیں ،کیو ں کہ ہمیشہ کی طرح ا یک مرتبہ پھر مُلک کی تمام بڑی چھوٹی سیا سی و مذہبی جماعتیں مُلک میں اگلے سال 2018ءمیں ہونے والے ممکنہ انتخا بات کے لئے اپنے تما م تر منصوبوں اور نئے پرا نے منشوروں اور نت نئے دلکش اور دلفریب نعروں کے ساتھ اٹھلا تی بل کھاتی، ڈھمکے مارتی میدان الیکشن میں کود پڑی ہیں ،ہر طرف سے عوام کو مسا ئل ، پریشا نیوں ،بحرانوں، مہنگا ئی و دہشت گردی ، کرپشن ، لوٹ مار اور بددیانت حکمرانوںاور سیاستدانوں سے نجا ت دلانے کے لئے سیرا ب نما حسین خواب دِکھا ئے جا نے شروع ہو گئے ہیں،تمام جماعتوں کے رہنمااور کارکنا ن آستینیں چڑھا کر اپنے مخالفین کے ظاہر و باطن کرتوتوں کوگنوانے میںلگے پڑے ہیں،سیاسیات ، ایما نیات اور اخلاقیات سے زیادہ اقتداریات کے لئے ذاتیات کو نشا نہ بنا نے پر زوردیاجا رہے ، ایسا محض اِس لئے کیا جا رہے کیو ں کہ لوگوں کی اکثریت یہ سمجھ رہی ہے کہ آ ج اگر کسی کے کرتوتوں کو عوا م الناس میں زیادہ سے زیادہ بڑھ چڑھ کر آشکار نہ کیا گیا تو ہماری انتخا بات میں جیت نہ ممکن ہو گی ،الغرض یہ کہ آج میرے دیس کی تمام بڑی چھوٹی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنماوں اور کا رکنان کا زور اِس پر ہے کہ بدتمیزی کی سیڑھی پر چڑھ کر اخلا قیات اور ایمانیات کے درخت سے سُوکھے پتے جتنے جھاڑ کرسکتے ہو جھاڑ لو کیوں کہ یہی عمل تو ہے جو اقتدار کی کُرسی تک پہنچا جا سکتا ہے سُو اپنے اِن ہی عزائمِ خاص کے ساتھ سب ہی اقتدار کی کُرسی کے خواہشمند ہیںاِس میں شک نہیں ہے کہ حکومت کی ناقص معاشی پالیسیوں اور فرسودہ اقتصادی حکمتِ عملیوں کے باعث پچھلے چند ماہ اور سالوں سے ہمارے مُلکی زرمبادلہ کے ذخائر میں بتدریج کمی واقع ہوئی ہے،اور مالیاتی خسارہ حد سے تجاوز کرگیاہے جب کہ اِن کے برعکس ادائیگیوں کا جو خا م و قوی حجم ہے وہ 31ارب سے بھی کہیں زیادہ پہنچ گیاہے

کیا ایسے میں اِن خدشات اور مخمصوں کا جنم لیا جا نا ٹھیک نہیں ہوگا کہ ہمارا مُلک پاکستان ذخائر میں کمی اور ما لیاتی خسارہ بڑھ جا نے اور ادائیگیوں کا حجم بے لگام ہو جا نے کے باعث سیدھا سیدھا دیوالیہ ہو نے کو ہے اور اِس پرہمارے برسراقتدار جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی والے حکمرا نی کے لئے اپنی اپنی باریوں کے انتظار میں ایک دوسرے کے قصیدے پڑھتے اور سُناتے ہا تھ میں ہا تھ ڈالے اپنا الوسیدھا کرتے جارہے ہیں اِنہیں عوامی تکالیف اور پریشا نیوں کا کو ئی احساس نہیں ہے کہ کس قدر عوام مہنگا ئی اور بحرانوں کے بوجھ تلے دب کر بھو ک و افلاس کے ہا تھوں تنگ ہیں اورجدید علاج و معالج کے مراکز نہ ہو نے کے باعث طبی سہولیات سے محروم رہ کر ایڑیا ںرگڑ رگڑ کر مر رہے ہیں مگر ایک طرف ن لیگ کی حکومت ہے کہ جو عالمی بینکوں سے قرضے لے کر پنجا ب کے بعض حصوں میں سڑکوں ،جنگلہ بسوں اور اورنج ٹرینیں چلا کر اورلا ہو ر میںکرفیو لگا کر کرکٹ میچ کرواکریہ بتا نا اور جتنا چا ہ رہی ہے کہ اِس نے مُلکی معیشت اور ذخائر کو آسمان جتنا بڑھا دیا ہے جو کی ایسا نہیں ہے تو دوسری جا نب سندھ میں پا کستان پیپلز پارٹی جس نے شہرقائد کراچی سمیت سندھ کے کسی بھی شہر اور قصبے و گا و ¿ں میں ایک ڈھلے کا بھی ترقیاتی کام نہیں کیا ہے

اُلٹاسابق صدرِ مملکت اور پی پی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری بھٹو کے حکمِ خا ص پر سندھ کے ارکان اسمبلی ، وزیراعلیٰ،اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، وزرائ،مشیروں اور معاونین خصوصی کی تنخوا ہوںاور مراعات میں 300فیصد اضافہ کردیاگیاہے اِس اضافے کے بعدسرکاری خزا نے میں مجموعی طور پر ماہانہ ڈھا ئی کروڑ اور سالانہ 25سے 30کروڑ کا ضافی بوجھ پڑے گا“ اگر دیکھا جا ئے تو آج سرزمین پاکستان میں ن لیگ والوں نے سڑکوں کا جا ل بچھا کر اور جنگلہ بسیں اور اورنج ٹرینیں چلا کر اور جیسے سندھ میںپی پی پی والوں نے اراکین سندھ اسمبلی کی 300فیصد تنخوا ہیں اور مراعات میں اضا فہ کیا ہے یہ تو غریب عوام کی خدمت نہ ہو ئی ، اِس سے تو اچھا تھا کہ ن لیگ والے اپنے کاروباری مقاصد کے لئے بڑی اور چوڑی سڑکیں نہ بناتے بلکہ ہر ضلع میںجدید اسپتال بنوا دیتے تو کم ازکم کو ئی خاتون لب سڑک بچہ تو نہ جنتی اور پی پی پی والے اپنے شہر کراچی کے ترقیاتی بجٹ کو ہڑپ کرکے سندھ اسمبلی کے اراکین کی تنخوا ہیں اور مراعات میں بے لگام اضافہ نہ کرتے تو کیا ہی اچھا ہوتا ؟؟ دونوں نے اتنی رقم اپنے امیرزادوں اور سرمایہ کاروں اور شوگرملز مالکان کی تنخواہوںکی مد میں قومی خزا نے سے خرچ کرڈالی ہے یہ اِسی رقم سے شہر قا ئد کراچی سمیت سندھ کے دوسرے شہروں کی خستہ حالی ختم کرتے اور عوام الناس کو اسکول اور کالجزاور علاج و معالج کے لئے جدید اسپتال تعمیر کرنے میں خر چ کردیتے تو کیا ہوتا؟؟آہا آہا ، اِس پر بلاول زرداری بھٹوکا عوام سے اگلے انتخابات میں ووٹ لینے کے لئے پھر یہ کہنا کہ” غربت کے خا تمے (اقتدار ملنے ) تک ،روٹی ، کپڑااور مکان کا نعرہ جا ری رہے گا“بڑا معنی خیز ہے

،ہاں میں بتا تا ہوں ، تو سُنو ،یہ نعرہ اُس وقت تک دُرست اور اپنی روح کے عین مطابق تھا جب تک شہید ذوالفقار علی بھٹو اورشہیدِ را نی مکینِ جنت محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ تھیں پا رٹی اُن کی تھی اور وہ پارٹی اور عوام دونوں کی تھیں مگر جب سے پی پی پی پر نقالوں یعنی زرداری بھٹو اور بلاول زرداری بھٹو جیسے لوگوں کی حکمرا نی کی چھا پ لگی ہے غریبوں کا روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ محض خوا ب بن کر رہ گیا ہے اور آج یہ نعرہ بھٹو نقا لوں اور اِن کے اِدھر اُدھر کے چیلوں چپا ٹوں کے لئے ہی کارآمد ثا بت ہورہاہے، پی پی پی پر داما د اور نواسے (یعنی آج با پ اور بیٹے کے قبضے کے بعد) ایسا لگتا ہے کہ جیسے آئندہ آنے والے کچھ دِنوں ،مہینوں اور سالوں میں یا بعد میں ن لیگ پر بھی داماد کا سکہ چلے گا آج جیسے پی پی پی پر زرداری کا قبصہ ہے خدشتہ ہے کہ کہیں زدراری کی طرح صفدر نواز بن کر ن لیگ کی با گ ڈورنہ سنبھالیں ؟۔ تا ہم با لخصوص عوام میں سے کو ئی کسی گمان میں نہ رہے ، بس اِتنا ہی جا ن لینا کا فی ہے کہ کل بھی نوازو زرداری ایک تھے اور آج بھی دونوں اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کے حصول اور تحفظات کے حوالوں سے یکدل اور یک جان ہیں، جب بھی عمران خا ن المعروف مسٹر سونا می خان دونوں میں سے کسی کو سیاسی یا ذاتی حوالوں سے ضرب لگا کر گھا ئل کرتا ہے یا کہیں سے بھی کوئی زخم لگاتا ہے تو تکلیف دونوں کو ہوتی ہے، اَب یہ اوربات ہے کہ آج دنیا دِکھوائے کو دونوں کی زبانیں ایک دوسرے کے لئے مرچ سے زیادہ کڑوی ہیں،مگر بیک ڈوردونوں شیرو شکر ہیں ہاں اِس پر پھر بھی کوئی یہ سمجھے کہ نوازاورزرداری کی را ہیں علیحدہ علیحدہ ہیں تو ایسا سمجھنے والے صریحاََ غلطی پر ہیں اورنہ صرف یہ بلکہ اُدھربھی کو ئی اِس فریب میں دھوکہ نہ کھا ئے کہ مُلک میں بے تحا شہ اور بے لگام بڑھتے ہوئے قرضوں نے مُلک کے معاشی استحکام کو جھنجھوڑ کررکھ دیا ہے تب ہی ملٹری قیادت نے نپے تلے انداز سے خیالات کا اظہار کیاجس کے بعد ایسا محسوس کیا جا رہاہے کہ جیسے ” سِول ملٹری تعلقات ویسے ہی اچھے نہیں ہیںجیسے کہ دونوںجا نب سے عوام النا س کو تا ثرات دیئے جا رہے ہیں“، پچھلے کچھ دِنوں سے خا ص طور پرسِول ملٹری تعلقات کے حوالوں سے جن اقسام کے نشیب وفراز سا منے آرہے ہیں اورممکن ہے کہ آئندہ بھی آتے رہیں اِس صُورتِ حال میں کم ا ز کم ایسا تو قطعاَنہیںہے جیسا کہ عسکری اور سِول قیادت اپنے انداز سے عوام کو بتا رہی ہیں یا اپنے تئیں سمجھا نے اور دِکھا نے کی کو شش کررہی ہیں بس، ابھی تک تو دونوں ہی جا نب سے ایک دائرے کار میں رہتے ہوئے جیسے اعتدال اور توازن کی راہ اپنا نے کی دونوں طرف سے کوشش کی جا رہی ہے مگر ایسا ہوتابہت مشکل نظر آرہا ہے کہ دونوں میں سے کوئی بھی اِس پر زیادہ دیر تک قا ئم رہ سکے

SHARE

LEAVE A REPLY