یہ کیسا رائیگاں سا
انتظار سونپا ہے تم نے
نہ کوئی حرفِ دلداری
کہ جس کو دہراتے ہوئے
سبھی پھیکے سے دن
کاسنی بیلوں سے
ڈھک جائیں
نہ کوئی لمس کی اترن
کہ
جس کو اوڑھ کے
میں شام کے پہلو میں
بیٹھی تمہارے وصل
کے کچھ خواب ہی
کاڑھوں
نہ کوئی بوسۂ امید
میرے ماتھے پہ مہکا
کہ جس کی لو میں
میری نظمیں
رات بھر رقص کرتی ہوں
تمہیں یاد کرتی ہوں
مرے محبوب
کیسا رائیگاں سا
انتظار سونپا ہے!!
ثانیہ شیخ













