بلبلو غل نہ کرو صابر علی سوتے ہیں۔۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی

0
404

یہ ہمارے بچپن کی بات ہے کہ ہمیں پڑھا نے کے لیے کئی مضمون کے ٹیچر موجود رہتے تھے۔ جو ہماری سہولت کے مطابق ہمیں پڑھاتے تھے۔جو ہماری دیگر مصروفیات، خصوصی طور پر نمازوں کا بھی خیال رکھتے تھے کہ مسجد سے حافظ صاحب اس وقت تک آدمی دوڑاتے رہتے تھے جب تک ہم پہونچ نہ جاتے “ کہ جلدی تشریف لائیں جماعت تیار ہے۔ اور جب تک ہم سب با جماعت مسجد نہ پہونچ جا ئیں اسوقت تک نماز نہیں ہوتی تھی۔ مگر قرآن شریف پڑھنے کے لیے ہمیں خود چل کر جانا پڑتا تھا کہ وہ آخر علم ِ دین تھا اور ااس ک احترام ہر چھوٹے بڑے پر یکساں لازمی ہے۔ چونکہ حافظ صابر صاحب جو امامِ مسجد تھے ان کے فرائض میں سارے گاؤں کے بچوں کو پڑھانا بھی ہوتا تھا اور پانچو نمازین بھی پڑھانا ہوتی تھیں۔ اگر وہ ہمیں پڑھانے چلے جاتے تو باقی کام کون کرتا۔ لہذ مسجد میں ہی ان کا مدرسہ منعقد ہوتا اور اس کی ترتیب کچھ اس طرح ہوتی کہ ہم مسجد کے ہجرے میں بیٹھتے تھے اور حافظ صاحب اس کے بر آمدے میں چونکہ صبح کا وقت سورج میں تپش نہیں ہوتی تھی، باقی گاؤں بھر کے بچے مسجد کے صحن میں بیٹھتے تھے ۔ حافظ صاحب کی مسند کے برابر میں ایک سے ایک عمدہ بیت رکھا ہوتا جس سے وہ اور سب کی پٹائی کرتے رہتے تھے۔ مگر ہمارے لیےا یک پھٹا بانس رکھتے ۔آپ اسے انٹر کام سمجھ لیں کیونکہ انٹر کام اس وقت تک ایجاد نہیں ہوا تھا ۔ جب ہماری آوازانہیں باہر سے نہیں سنائی دیتی تھی! تو وہ پہلے اسے فرش پر مار کر آواز پیدا کرتے پھر کہتے کہ “ سرکار! آپ کی آواز نہیں آرہی ہے۔“جبکہ اور بچوں کی بلا تکلف بیتوں سے کبھی پٹائی اور کبھی دھنائی کرتے رہتے۔ ہم نے اپنے اوپر کبھی انہیں خفا ہوتے نہیں دیکھا؟ مگر دوسرے بچوں کی پٹائی کہ ہم خود چشم دید گواہ تھے جبکہ دوسری ان کے غضب ناک ہونے کی شہادت ان کے گھر سے ملی کہ حافظ صاحب کہ تکیہ پر ایک شعر لکھا ہوا تھا کہ “ بلبلوں غل نہ کرو صابر علی سوتے ہیں تم تواڑ جاتی ہو“ بنو“ پہ خفا ہوتے ہیں “۔اس شعر کے بعد وضاحت کی ضرورت تو نہیں ہے مگر ہم پر بھی کیےدیتے ہیں ۔ کہ صابر علی حافظ صاحب کااسم گرامی تھا ۔ “بنو“ ان کی بیگم صاحبہ کاتخلص۔ شعر پتہ نہیں ان کا اپنا تھا۔ یا چوری کا ، البتہ حسب حال نہیں تھا۔کیونکہ ہم نے ان کے گھر میں اکلوتا پاکرکا درخت دیکھا تو اس پہ کوئے اور چیلیں تو نظر آئیں مگر “ بلبلوں“ کا کہیں دور دور تک پتہ نہیں تھا۔ کیونکہ وہ تو چمن میں رہنے والا پرند ہے۔

رہے بچے وہ بھی پٹتے تھے اپنے والدین کی اجازت سے کہ بیچارے غریب اور جاہل والدین حافظ صاحب کے سپرد کرتے وقت یہ کہہ جاتے تھے۔ حافظ جی! ذرا اچھی طرح پڑھانا اور تربیت دینا گوشت اور پوست تمہاراور ہڈیاں ہماری !۔ حافظ صاحب بھی آجکل کے علماء کی طرح اپنے کام سے کم رکھتےتھے۔ لوگوں پر ظلم ہوتے دیکھتے تھے اور مرغا بنتے اور پٹتے دیکھتے تھے۔ مگرعدم مداخلت کے اصول پر کاربند رہتے تھے کیونکہ خطبہ جمعہ علمی کا چھپا ہوا پڑھتے تھے اس میں ظلم کے خلاف اضافہ یا تو عدم مداخلت کے اصول کے خلاف تھا یا پھر انکی استعداد سے باہر تھا ۔ جبکہ ہمارے یہاں کاشتکاروں کو مرغا بنانے کاعام رواج تھا یہ کام ہمارے لیے پولس انجام دیتی تھی جب دورے پرآتی اسلیے کہ ہماارے بزرگ قانوں ہاتھ میں لینا پسند نہیں کرتے تھے؟ ہمارے ہاں شادیا ں بھی ہم پلا اور صرف آپس میں ہوتی تھیں۔ ہماری بیگم صاحبہ کہ ہاں درختوں پر انسانوں کو الٹا لٹکاکر سیدھا کرنے کا رواج عام تھا ۔ وہ اب تک ہم سے پوچھتی ہیں کہ ویسے تو ہمارے بزرگ اتنے مذہبی تھے، مگر اتنے ظالم کیوں تھے۔حالانکہ ہم بہت دفعہ انہیں بتا چکے ہیں کہ بزرگوں کانظریہ یہ تھا کہ مذہب مذہب ہے اور رواج رواج ہے؟ اوروں کیا کہیں قرون ِ اولٰی کے بعد ہمارے اکثر بادشاہوں کا بھی یہ ہی عالم تھا کہ جو ان میں بہت ہی نیک تھے،تہجد کبھی نہیں چھوڑتے تھے، اور نہ ہی وہ ممکنہ وارث ِ تخت۔ کیونکہ آدمی کو دین اور دنیا دونوں رکھنے پڑتے ہیں۔تب وہ پوچھتیں کہ آپ نے رواج کیوں نہیں اپنائے؟ تو ہم کہتے کہ اول تو ہمارے وقت تک ہندوستان میں رجواڑے اور بادشاہت رہی ہی نہیں دوسرے اللہ سبحانہ تعالیٰ نےہمیں ہماری نانی صاحبہ ایسی عطا فرمادیں تھیں کہ جو دین پر خود بھی عامل تھیں اور ہمیں بھی دن بھر تلقین کرتی رہتی تھیں کہ اپنے حضور (ص) نے ایسا کیا تم بھی ویسا ہی کرنا۔ چونکہ حضور(ص) کا فرمان ہے کہ جو جان کر کے کہ وہ ظالم ہے کسی کا ساتھ دے وہ ہم میں سے نہیں“ ہم نے اس کو روکنے پہلی کوشش تو یہ کی کہ ایک دن حافظ صاحب کے ہجرے کی چابی حاصل کر کے ان کے سارے بیت اس کنوئیں میں ڈالدیے جس سے لوگ وضو کے لیے پانی لیتے تھے۔ جب لوگ فجر کی نماز کو آئے تو پانی کے ہر ڈول کے ساتھ ایک بیت آتا گیا اس طرح سارے بیت واپس آگئے۔

اسی طرح اسوقت طرز حکومت یہ تھا کہ عوام کو لڑاؤ اور حکومت کرو، اور جب بھی عارضی چارج ہمارے پاس آتا ہم انہیں بھائی بھائی بنا نے کے لیے کہتے کہ ایک دوسرے گلے مل لو وہ مل لیتے۔ مگرواپسی پر بجائے شابا شی کہ ہماری جھاڑ پڑتی اورعوام پھر لڑنے لگتے؟

ابھی ابھی ہم اسی کام میں لگے ہوئے ہیں؟ مگر ہمت نہیں ہاری کہ ہم نے پڑھ رکھا ہے کہ ایک بادشاہ نے یہ سبق چونٹی سے لیا تھا کہ دانہ بڑا تھا جو ااس نے ہوس میں اٹھا تولیا تھا مگر بار بار معہ دانے کے گر پڑتی تھی؟ آخر کار وہ کامیاب ہو گئی اوراس کا اتباع کرکے وہ بادشاہ بھی کامیاب ہوگیا، پھر اس قصہ کو پڑھ، پڑھ کر سارے بادشاہ کیامیاب ہو تے رہے اور آج بھی نہ صرف وہ خود چل رہے ہیں بلکہ دنیا کو چلارہے ہیں ۔مگر ہم جیسے سر پھرے لوگ بھی ہار ماننے والے نہیں کہ مسلسل ناکامیوں کے بعد بھی ہار ماننے کو تیار نہیں ہوتے، اور ہر نئے کی طرف اس امید پر دیکھتے ہیں کہ شاید یہ بہتر ہو ؟دوچار قدم اس کے ساتھ بڑھتے بھی ہیں؟ لیکن کبھی وہ اقتدار میں آنے کے بعد اور کبھی اس سے پہلے ہی بدل جاتا ہے ۔ ہم جیسے بھی مجبوراً اس کے بارے میں اپنی رائے تبدیل کرلیتے ہیں۔ ا ن ہی میں ہمت نہ ہارنے والو کےمیر ِ کارواں جناب صفدر ھمدانی؟

ہماری عقلمندی دیکھئے کہ ہم نے دار لحرب سے ہجرت کی اس امید پر کے ہم جہاں جارہے ہیں۔ وہ مملکتِ خداد ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے بڑی دعاؤں کے بعد اور ہمارے لیڈروں کے اس پکے وعدے پر یہ ملکت انہیں عطا کی ہے کہ وہاں تیری حاکمیت قائم کریں گے لہذا ہم پر ہجرت فرض ہے۔ جب اس سر زمین پر پہونچے تو لگا بھی یسا ہی؟ پہلی تبدیلی ہمیں یہ نظر آئی کہ ہر ریلوے اسٹیشن پر قبلہ کا رخ بتانے کے لیے“ قبلہ کو رو شناش کرانے کےلیے اایک تیر لگا ہوا تھا“ ہم اتنے بے قابو ہو ئے کہ ٹرین سے اترتے ہی سجدے میں چلے گئے۔اسوقت اس خطہ کو مشرقی پاکستان کہتے تھے۔وہاں وہ بھائی چارہ دیکھا کہ نہ صرف لوگ نمازیں با جماعت پڑھ رہے تھے۔بلکہ انہیں یہ سہولت بھی حاصل تھی کہ مغرب اور فجر کی نماز کے وقت ٹرین کو کسی تالاب کے کنارے روک لیں وضو کریں اور با جماعت نماز پڑھیں ۔رمضان میں افطار سب مل کریں۔ ہم تو ملک کی خدمت کرنے کے شوق میں شروع میں ہی دارالحکومت چلے آئے جو ان دنوں کراچی تھا۔ کچھ عرصہ بعد سنا کہ اس پر کسی جن کا سایہ ہوگیاہے؟

جبکہ یہاں آکر دیکھا تو ایسا لگا کہ کہیں بھی جاؤ مسلمان، مسلمان ہے؟ وہی محبت وہی اخوت اور وہی مہمانوازی۔ بس ایک بات یہاں کھٹکی کہ ہماری طرح رسم و رواج کی یہاں بھی بادشاہی تھی۔ اور پورا ملک لاکھوں بادشاہوں کے زیر نگیں ہے۔ جہاں انسان کو مارڈالنا مکھی سے بھی زیادہ آسان ہے؟ آج تک یہ وہ ملک جسے مدینہ ثانی کہتے ہیں خود کو نہیں بدل سکا جو بھی آیا یہ ہی کہتا ہوا آیا کہ میں وعدے نبھاؤنگا ۔ یہاں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت قائم کرونگا۔ پھرایک نوے دن کا وعدہ کر کے آیا ؟ دس سال تک ہم نے انتظار کیا۔ ہمیں حالات مشرقی پاکستان جیسے ہوتے نظر آئے۔ تب ہم نے سوچا کہ جییسا حکم ہے اللہ اور رسول سے رجوع کریں؟ ہمارے نبی (ص) کا اس سلسلہ میں اپنے ساتھیوں کو فرمانا تھا۔ کہ تم حبشہ چلے جاؤ؟ وہاں کا بادشاہ عیسائی ہے جو نرم دل ہوتے ہیں اور وہ انصاف پسند بھی ہے۔ ہم اس امید پر چلے آئے کہ ہمیں سچ کہنے پر، بولنے اور لکھنے پر پابندی نہیں ہوگی۔ اب 26 سال سے ہم کنیڈا میں ہیں اور اپنے وسائل اتحاد اور خدمت ِ خلق میں صرف کررہے ہیں ۔ اور اس کے شکر گزار ہیں کہ اس نے ہماری صحیح رہنمائی فرمائی ۔ یہاں آکر پچھتانا نہیں پڑا۔ کیونکہ یہاں رسم و رواج کی حکومت نہیں انصاف حکومت ہے۔ کاش ہم نسلی نہیں بلکہ عملی مسلمان ہوتے؟ تو مسلمان ملکوں میں یہ کام نہیں ہورہے ہوتے جو ہورہے ہیں مسلمان وہ کام نہیں کر رہے ہوتے جو کر ر ہےہیں ۔ جس سے دنیا میں ہم بجائے اسلام کے سفیر بننے کے اس کی بدنامی کا باعث نہ ہوتے۔ اگر ہم کردار کے غازی ہوتے تو ہمارا کردار بھی اسلامی ہوتا۔ سلام کا نام ہی امن ہے؟ پھر اس کی قدروں کے امین ہوتے؟ صرف اپنے پیغمبر (ص) کااتباع کرتے اور اس کے نتیجہ میں بے پناہ برکتوں کے ثمر کھا رہے ہوتے۔ دنیا میں امن اور چین بانٹ رہے ہوتے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں اسوہ حسنہ کو اپنا نے کی توفیق عطا فرمائے ۔ جبکہ ہم پستی کی طرف رواں دواں ہیں ۔ ہم سے یہ کہا گیا ہے کہ صرف ایک دوسرے کی بھلائی کے کاموں میں مدد کرو برائی میں نہیں ۔ اور حدیث ہے کہ کوئی جان کر کہ بھی کہ یہ ظالم ہے کسی ظالم کی حمایت کرے وہ اسلام سے خارج ہے۔اب لے دیکر ہمارے پاس ایک میڈیا بچا تھا جس میں کالی بھیڑوں کی وہ افراط نہیں ہے جو دوسرے شعبوً میں ہے۔ اس کی بی گردن گھوٹنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں ۔کل ٹاک شو میں کچھ عالم وعظ فرمارہے تھے۔ کہ گیارہ سالہ مظلومہ طیبہ جیسے قصہ بھی کہیں عوام کے علم میں لانے کے قابل ہیں ۔ میڈیا کو بھی لگام لگنی چااہیے ورنہ پوری قوم خوف کا شکار ہو جائے گی۔؟

کیا یہ ظالم کی حمایت نہیں ہے ۔ میڈیا کی برائی یہ ہے کہ وہ سب ٹھیک ہے نہیں کہتی صرف آئینہ دکھا دیتی ہے جبکہ۔ پوری پاکستانی قوم ،صوبہ ، ذات برادری کی بنیاد پر سوچتی ہے۔ مگر یہ ہر ایک کےدرد پر چیختی ہے۔ جو سب کو گراں گزر رہی ہے۔ صرف ہاں میں ہاں ملائے تو بس بہت اچھی بن سکتی ہے۔ بجائے جان سے جانے کہ اپنے گھر بھر سکتی ہے؟

شمس جیلانی

SHARE

LEAVE A REPLY