وہ ﷺ نبیوں میں رحمت لقب پا نے وا لا۔شمس جیلانی

0
1611

ناظرین ِگرامی۔الحمد للہ مجھے یہ فخر حاصل ہے کہ میں نے حضور ﷺ کی سیرت ِمبارکہ کو دوبارہ امتیوں میں میں رواج دینے کے لئیے اپنے وعدے کے مطابق کتابی شکل میں اردو میں، اور اپنی آواز میں پوری سیرت یو ٹیوب کی شکل میں ان میں سے137 اقساط میں سے 35 اقساط عالمی اخبار میں بھی شائع ہوچکی ہیں اور انگلش ترجمہ 111کی اقساط عالمی اخبار میں پیش کردی ہیں اب اینی کوڈ میں لانے کے لئیے کام انشا ء اللہ مکمل ہونے والا ہے۔ اوراب وہ مہینہ آنے والا ہے جس میں ابرا ہیم علیہ نے حضور ﷺ کی پیدا ئش کے دعا فرمائی تھی جس کی بنا پر سر کا ر ِ دو عا لم محمد مصطفٰی ﷺخود کو دعائے ابراہیم علیہ السلام فرمایا کرتے تھے۔ یہ وہ دعا ہے جس کا فیض مکہ معظمہ میں ہمہ اقسام کے رزق کی شکل میں نمعلوم کتنی صدیوں سے جاری ہے جس میں حج کا مہینہ بھی شامل ہے اور اس ماہ مبارک کو منانے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہی ہے کہ ا ن کے نقش ِ قدم پر چل کر نجات پالی جائے لیکن عمل انﷺ کی سیرت کے ہر پہلو پر کرنا ہوگا؟ لیکن میں زیادہ اجاگر اس پہلو کو کرنا چاہوں گا جسے خدمت ِ خلق کہتے ہیں اور جس میں ہم سب سے پیچھے ہیں۔ جبکہ انﷺ کے با رے میں اتنا کچھ لکھا گیا ہے کہ شا ید ہی کسی اور کے با رے میں تاریخ عالم میں لکھا گیا ہو؟ جو آپ ہر سا ل رو ایتی مضا مین میں پڑھتے رہتے ہیں۔ لیکن جب کو ئی شخصیت ہمہ صفت ہوتو اس کا کو ئی نہ کو ئی پہلو وہ اہمیت حاصل نہیں کر پا تا اور نگا ہو ں سے اوجھل رہ جا تا ہے۔ جوبعض اوقات اس کی سب سے اہم خصو صیت ہو تی ہے۔یہ ہی معا ملہ آقا ئے نا مدا رﷺ کے با رے میں ہے کہ وہ ﷺایک کا مل شخصیت تھے۔ لہذا لو گو ں نے انہیں بطو ر نبیﷺ پیش کیا، بطو ر بہترین کمانڈر پیش کیا، بہترین منتظم پیش کیا، منصف وغیرہ پیش کیا۔ مگر کسی بھی اسکا لر نے انﷺ کے اس وصف پر زیا دہ روشنی ڈا لنے کی کوشش نہیں کی جو اس دور میں اور اﷺن کی شخصیت میں اس وقت نا در الو جو د تھا۔ اوران ﷺکے خا لق کی نگا ہ میں سب سے زیا دہ اہم بھی۔ وہ تھیں دو صفا ت جو قدرتی طو ر پر ہمیشہ ایک دو سری سے جڑی ہوئی ہو تی ہیں اور ً وہ ہیں خلق ِ عظیم اور رحمت ً یعنی با الفا ط ِ دیگر ایک انتہا ئی اچھا اخلاق اور رحیما نہ طبیعت جو خالق کی نگا ہ میں سب سے زیادہ ا ہم تھیں۔جس نے بے حسا ب مخلو ق تخلیق کی اور ان سب میں سے ایک کا مل انسا نﷺ پیدا کیا جس پر تما م اکملیت ختم کر دی اور اس میں سے اس کے نز دیک سب سے زیا دہ جو چیز اہم تھی وہ اس نے چن لی جو کہ رحمت تھی اور حضو رﷺ کی اکملیت کے حسا ب سے وہ بھی انہیں بہ د رجہ اتم عطا فر ما ئی تھی۔ جسے میں اب تین قسطوں میں پیش کرنے جا رہا ہوں؟ کیونکہ آج کی دنیا میں پوری سیرت اب بھی پڑھنا مشکل ہے کیونکہ وہ بہت ضخیم ہے۔ مگر نجات قرآن کے مطابق ان ہی کی اتباع میں ہے۔
لیکن حضورﷺکا دور، وہ دو ر تھا جس میں حکمرانو ں کی عظمت دو سری چیزو ں کی بنا پر ما نی جا تی تھی۔ وہ تا ریخ نویسوں نے حضو رﷺ میں پا ئیں اورچن لیں اور جو جمع کنند گان کے خیال میں ا ہم تھیں اور اس وقت تک لو گو ں کے سینو ں میں محفو ظ رہ گئیں تھیں، ان کو محفو ظ کرلیا گیا۔کیو نکہ ان کو یہ علم نہیں تھا کہ ایک دو ر ایسا بھی آئیگا۔ جس میں سیرت کے اِس حصہ کا کھو ج لگا نا ہو گا جس کو خدمت ِخلق،ایثار اور قربا نی کہتے ہیں اور اس کو ایک وقت میں وقت کے لحا ظ سے سب سے زیا دہ اہمیت دی جا ئے گی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ حضو ر ﷺ کے چا لیس سا لہ کا رنا مے جو کہ لا کھو ں کی تعداد میں ہو نا چا ہیئے تھے،کیو نکہ انکاﷺپہلا چا لیس سالہ دور انہیں پر مشتمل تھا، لیکن سیرت میں ان میں سے چند کے سوا کچھ بھی درج نہیں ہے۔ کیو نکہ اس دور میں نہ کا غذ تھا نہ قلم اور نہ خوا ندہ لو گ؟ وہ یا دا شتیں بھی اسی طرح سینو ں میں محفوظ تھیں جس طر ح کہ دوسرے کا ر نامے، مگر جمع نہ کر نے کے با عث جا نے والوں کے سا تھ وہ بھی چلی گئیں۔ اور ان کا اب چو دہ سو سا ل کے بعد سرا غ لگا نا نا ممکن ہے۔ جبکہ بعد میں بھی جیسی جیسی ضرورت ہو تی گئی اس پر لو گ حضو رﷺکے دنیا سے پر دہ کر نے کے بعدمتو جہ ہو تے گئے۔ مثلا ً ارکا ن اسلام اور روزمرہ کا کا رو با ر چلا نے کے لیئے احا دیث اورسنت کی ضرورت پڑی، اور لو گو ں نے محسو س کیاکہ صحابہؓ کرام انتقال فرماتے جا رہے ہیں اور وہ بھی سا تھ میں دفن ہو رہی ہیں۔تو ان کو اکھٹا کر نا شروع کیا اور ایک ایک حد یث کے لیئے میلو ں کاسفر کیا؟مگر سیرت کے اس حصہ کی اس وقت کو ئی خا ص ضرورت محسو س نہیں کی گئی؟ لہذا کسی نے ان کو محفوظ بھی نہیں کیا اور اب جبکہ دنیاہر چیز کاثبو ت ما نگتی ہے۔ جو انٹر نیٹ کے ذریعہ ایک منٹ سے بھی کم عرصہ میں دنیا کے اس کو نے سے اس کو نے تک پہو نچ جا تا ہے۔ اگر سیرت کے کسی طا لب علم سے یہ سوا ل پو چھ لیاجا ئے کہ حضورﷺکورحمت اللعالمین کیو ں کہا جاتا ہے؟ تو وہ بغلیں جھا نکتا نظر آئے گا۔ اللہ تعا لیٰ مو لا نا حا لی ؒ کی قبر کو منو ر فر ما ئے کہ انہو ں نے سب سے پہلے مسدس ؔحا لی میں یہ اشعارکہہ کر حضورﷺکا بڑا خو بصو ر ت تعا رف پیش کیا ہے ؎وہ نبیوؑ ں میں رحمت ؐلقب پا نے وا لا وہ اپنے پرا یوں کے کا م آنیوالا۔ حرا سے اتر کر سو ئے قوم آیا اوراک نسخہ کیمیا سا تھ لا یا “ ان ا شعار میں جو واقعا ت جس طر ح رو نما ہو ئے اسی تر تیب سے مو لا نا نے پیش کیئے ہیں۔ یعنی سب سے پہلے خدمت ِ خلق رحمت،شفقت اور مروت دیا نت وغیرہ جو چا لیس سا ل تک حضورﷺ کا طر ہ امتیا ز تھی۔ یعنی غلا مو ں کے حما یتی بو ڑھو ں کے مدد گا ر اور مظلو مو ں کی داد رسی انﷺ کا شیوہ تھا۔ جس کا اظہار ام المونین حضرت خدیجۃ الکبریٰ نے پہلی نزول وحی پر حضور ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا تھا،جس کے لیئے قر آن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا کہ “ اس کا عا مل کبھی فنا نہیں ہو گا “ اورحضورﷺ نے امت کوتلقین فر ما ئی کہ خد مت کرو،خدمت کرو، خدمت کرو۔ اور ایک حدیث میں فر ما دیا کہ“ وہ انسا ن ہی نہیں جو انسا نو ں کے کام نہ آئے “ چو نکہ ابتدائی دور میں حضورﷺ کے پا س سوا ئے خد مت خلق اور حقوق العباد کے کو ئی اور ذمہ دا ری نہیں تھی، لہذا یا تو وہ لو گو ں کی خد مت میں وقت گزا رتے تھے یا پھر عبا دت میں۔ ان میں سے تھو ڑی سی مثا لیں اگر کسی کامطا لعہ وسیع ہے تو کہیں کہیں سیرت کی کتا بو ں میں بکھری ہو ئی ملیں گی، لیکن افرا ط سے اس لیئے نہیں ہیں کہ جیسا ہم نے پہلے عرض کیا کہ اس کی طرف تو جہ نہیں دی گئی۔کیونکہ سیرت نگا روں کے نز دیک وہ حصہ زیا دہ اہم تھا جو نبوتﷺ پر مبعو ث ہو نے کے بعد کے دو ر پر مشتمل ہے۔ اس سے پہلے کے واقعا ت اگر کہیں نظر بھی آئیں۔ تو عا م قا ری یو نہیں پڑھ کر گزر جاتا ہے۔کیو نکہ اس کے لیئے کو ئی علیٰحدہ با ب مو جو د نہیں۔ مگر آج کے دو ر میں ان ہی کی سب سے زیا دہ ضرو رت ہے کیو نکہ یہ دو ر خدمت ِ خلق کا دور ہے جس میں مسلم امہ سب سے پیچھے ہے۔اور جس کی ابتدا حضو رﷺ سے ہو ئی تھی جو کہ ان ﷺکی اور صفا ت کی طر ح ان ﷺمیں اکملیت کے در جہ پر پہنچی ہو ئی تھی۔ ہما ری صو رت حا ل یہ ہے کہ یہ کسی بھی مسلما ن سے پو چھیں کہ وہ کیا تھے؟ تو جواب میں وہ زیادہ سے قر آن کی آیت “ وما ارسلٰنک الارحمت اللعا لمین (اے محمد) ﷺہم نے آپﷺ کو تمام جہا نو ں کے لیئے رحمت بنا کر بھیجا ہے ً مگر تفصیل اور تفسیر پوچھوتو بہت کم پیش کر سکے گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY