جو چپ رہےگی زبان حنجر
لہو پکارے گا آستیں کا

ظلم پھر ظلم ہے بھڑتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے بہتا ہے تو جم جاتا

پیر کے روز آسٹریلیا کے درالحکومت کینبرا میں پاکستان ہائی کمیشن کے سامنے پاکستان میں لاپتہ شیعہ افراد کے بازیابی کیلئے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔جس میں کینبرا برسبین سڈنی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔جس کی قیادت مولاناسید ابولقاسم رضوی کررہے تھے۔۔مولاناسید ابو القاسم رضوی نے اپنے خطاب فرمایا۔کہ ہم یہاں کسی سیاسی غرض سے نہیں آئے ہے۔یہ جو ہمارے بھائی بہن اپنا کام چھوڑ کر یہاں آئے ہیں۔انکے وجود کے اندر ایک دل ہے۔اور اس دل کے اندر انسانوں کیلئے محبت ہے ۔اس دل کے اندر مومنین کیلئے محبت ہے۔ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایاہے کہ مومنین کی مثال جسد واحد کی سی ہے

جب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ ہم ایک جسم کی طرح ہے۔تو اگر فلسطین میں کسی مومن کو درد ہوتا ہے تو ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔اگر برما میں ظلم ہوتا ہے تو ہم پکار اٹھے ہے۔اگر کشمیر میں حقوق پامال ہوتے ہیں تو ہمیں درد ہوتا ہے۔دنیا میں جب بھی کوئی ظلم ہوا ہم نے آواز بلند کی ہیں کیونکہ ہمارے نبی کریم کا پیغام ہے کہ ظلم کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جانا

۔ہم آج ہم قرآن کی تعلیم اور نبی کریم کی سیرت پر عمل کرکے یہاں کھڑے ہے۔کیونکہ ہم سے بہنوں کی سیسکیاں برداشت نہیں ہوتی ۔ہم سے ماؤں کی گریے کی آواز سنی نہیں جاتی ہم سے چھوٹے بچوں کا رونا برداشت نہیں ہوتا آج ان کے گھروں کے بے گناہ قید کرلئے گئے۔اگر کوئی گناہگار یا حطا کار ہوتا ہے تو دنیا میں قانون ہے عدالتی کارروائی ہوتی ہے۔لیکن کسےوکیل کریں کس سے منصفی چاہئے انصاف کس طرح سے ہو

ہم سفارت پاکستان سے نہایت مودبانہ انداز سے عرض کرتے ہیں۔کہ آپ حکومت پاکستان کے نمائندے ہیں لہذاٰ آپ کے ذریعے ہم حکومت پاکستان تک پیغام پہنچا رہے ہیں ۔کہ کراچی کویٹہ اور ملک کے دیگر علاقوں میں جو بے گناہ قید اور لاپتہ ہے ان کو بازیاب اور رہا کیا جائے۔۔۔

australia shia protest2

شیعہ سیفٹی کے جنرل سیکرٹری سیرت عباس نے اپنے حطاب میں کہا۔کہ ہم محب وطن پاکستانی ہیں۔کہ ہم نے ابھی ستر ہزار شیعان حیدر کرار نے قربانی دے چکے ہیں۔اس پاداش میں کہ ہم محب وطن پاکستانی ہیں۔چاہئے وہ سانحہ علمدار روڈ ہو ۔چاہئے وہ سانحہ عباس ٹاؤن ہو چاہئے وہ سانحہ چلاس ہو جو جو سانحات ہوئے ہیں بے گناہ شیعان حیدر کرار نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اپنی محبت کا ہر وقت ثبوت دیا ہے ۔

اج ہم جو یہاں جمع ہے تاکہ ہم آواز حق بلند کرسکے۔اور ان لوگوں کیلئے آواز اٹھائے جو لاپتہ ہے ۔کوئی ایک سال سے لاپتہ ہے کوئی دو سال سے لاپتہ ہے ۔کوئی تین سال سے لاپتہ ہے کوئی پرسان حال نہیں ہمارا ایک سوال ہے کیا ہمارے اسیر زندہ ہے۔کس حالت میں ہے ۔ان کو رہائی کیوں نہیں ملتی۔اگر انکا کوئی قصور ہے کسی جرم میں ملوث ہے۔تو ان کو پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ہمیں اپنے آرمی اور اداروں پے بھر پور اعتماد ہے۔

سوشل میڈیا میں ہمارے خلاف ایسے کیمپین چلائے جارہے ہیں کہ ہم ملک کے خلاف باتیں کررہے ہیں ۔ہم محب وطن پاکستانی ہے۔پاکستان بنایا تھا پاکستان بچاینگے۔ہمارا مذہب ہمیں ملک سے وفاداری اور محبت کا درس دیتا ہے۔لیکن وفاداری کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم اسیروں کو بھول جائیں۔ہمارے علماء اور اکابرین اس وقت بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں۔بے گناہ لاپتہ افراد کی رہائی کی تحریک کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔

بعد ازاں چار رکنی وفد جس میں حجت الاسلام مولانا ابوالقاسم رضوی, سیرت عباس, ڈاکٹر عمران اور برادر ظہیر نے سفارتی عملہ سے ملاقات کر کے بےقصور لاپتہ افراد کی رہائی کے لیے ایک پٹیشن بھی جمع کرائی تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف میسر ہو سکے

جابر حسین سڈنی

SHARE

LEAVE A REPLY