سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کے طیارہ فروخت کرنے کے معاملے میں ایئر کموڈور ریٹائرڈ عمران اختر اور ایئرلائن کے سابق جرمن سی ای او برنڈ ہِلڈن برانڈ کے خلاف تحقیقات کا فیصلہ کرلیا۔

کمیٹی کے اجلاس کے دوران سینیٹر فرحت اللہ نے کہا کہ ‘عمران اختر نے طیارہ بیچنے کی سمری تیار کی لیکن کمیٹی میں آکر کہا کہ طیارہ بیچنے کا معاملہ ان کے علم میں نہیں۔’

انہوں نے کہا کہ ‘پارلیمنٹ کے سامنے غلط بیانی کرنے پر عمران اختر کے خلاف تحریک استحقاق بھی لائی جاسکتی ہے۔’

سیکریٹری سول ایوی ایشن عرفان الہٰی نے کمیٹی کو بتایا کہ ایئر کموڈور عمران اختر کو نوٹس جاری کیا گیا ہے لیکن نوٹس کا تاحال جواب نہیں دیا گیا اور اب وہ ریٹائر ہوچکے ہیں۔

اس موقع پر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پاک فضائیہ (پی اے ایف) کے قانون کے مطابق ایئر فورس کے ریٹائر افسر کے خلاف بھی تحقیقات ہوسکتی ہے۔

قائمہ کمیٹی نے عمران اختر اور برنڈ ہِلڈن برانڈ کے خلاف تحقیقات کے لیے فرحت اللہ بابر کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی، جسے معاملے کی ذمہ داری عائد کرنے کا بھی اختیار دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال کے اوائل میں قانون سازوں نے پی آئی اے کا طیارہ ‘لاپتہ’ ہونے پر حیرت اور تشویش کا اظہار کیا تھا۔

تاہم پی آئی اے ترجمان مشہود تاجوَر کی جانب سے معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ طیارہ ‘لاپتہ’ نہیں ہوا بلکہ جرمن میوزیم میں ہے جہاں وہ مالٹا میں فلم کی شوٹنگ کے بعد پہنچا۔

قانون سازوں نے سوال اٹھایا کہ ‘قابل اڑان’ طیارے کو میوزیم کو کیوں فروخت کیا گیا جبکہ اس کے لیے متعلہ اداروں کی اجازت بھی نہیں لی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ طیارے کی فروخت کے لیے کوئی معاہدہ بھی نہیں کیا گیا جبکہ پی آئی اے کو ‘اے 310’ طیارے کی فروخت کے لیے کوئی ایڈوانس رقم بھی حاصل نہیں ہوئی۔

پی آئی کے جواب میں کہا گیا کہ طیارہ اڑان کے قابل نہیں تھا جس پر اسے فروخت کیا گیا۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے پی آئی اے کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو (نیب) کو معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔

معاملے کی سمری سامنے لانے والے سینیٹر طاہر مشہدی نے ڈان نیوز کو تصدیق کی کہ عمران اختر، انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ رضوان اختر کے بھائی ہیں، جنہوں نے رواں ماہ کے اوائل میں ‘ذاتی وجوہات’ کی بنا پر مسلح افواج سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔

تاہم ان کی قبل از ریٹائرمنٹ کے بعد سوالات اٹھنے لگے اور افواہیں گردش کرنے لگیں کہ رضوان اختر نے طیارے کے فروخت کے معاملے میں اپنے بھائی کے مبینہ طور پر ملوث ہونے پر جلد ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY