ایوان بالا کے اراکین کے احتساب کے لیے اخلاقیات کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ

0
107

سینیٹ نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایوان بالا کے اراکین کے احتساب کے لیے اخلاقیات کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے قواعد و ضوابط بھی طے کر دیے گئے۔

چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کی زیر صدارت اجلاس میں اخلاقیات کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی سربراہی میں اخلاقیات کمیٹی ارکان سینیٹ کے خلاف موصول ہونے والی شکایات کا جائزہ لے گی اور اس حوالے سے کارروائی کا تعین کرنے کا بھی اختیار ہوگا۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی عدم موجودگی کی صورت میں قائد ایوان اجلاس کی صدارت کریں گے۔

سینیٹ نے اس حوالے سے کمیٹی کے قوائد و ضوابط کو بھی حتمی شکل دے دی گئی۔

قواعد کے مطابق ملک کا کوئی بھی شہری کسی بھی سینیٹر کے خلاف درخواست دے سکے گا۔

سینیٹرز بھی ایک دوسرے کے خلاف درخواست دے سکیں گے۔

درخواست موصول ہونے کے بعد کمیٹی معاملے کی چھان بین کرے گی اور تفتیش کا عمل مکمل ہونے کے بعد حتمی رپورٹ سینیٹ میں پیش کرے گی۔

کمیٹی حتمی نتائج سے متعلق چیئرمین سینیٹ کو اعتماد میں لے گی تاہم اخلاقیات کمیٹی کو سول کورٹس کے پاورز بھی دے دیے گئے ہیں۔

اخلاقیات کمیٹی کی سربراہی سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین عبدالغفور حیدری کریں گے اور اس کے اراکین میں سینیٹ کی بزنس ایڈوائزری کمیٹی شامل ہوں گے۔

ڈپٹی چیئرمین کی عدم موجودگی میں کمیٹی کی سربراہی قائد ایوان راجا ظفرالحق کریں گے اگر وہ بھی موجود نہ ہوں تو کمیٹی سیشن کی صدارت سینیٹ میں قائد حزب اختلاف پی پی پی رہنما اعتزاز احسن کریں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY