سلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے میرے تعلقات تعلیمی دور سے ہیں۔

جیونیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے محمد زبیر نے کہا کہ آرمی چیف سے میرے تعلقات کو 40 برس سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی یا کسی اور معاملے پر آرمی چیف سے بات نہیں کی، 2018ء کے الیکشن میں دھاندلی پر بھی شکایت نہیں کی۔

سابق گورنر سندھ نے کہا کہ آرمی چیف سے حالیہ ملاقاتوں کا آغاز جنوری 2020ء میں وفاقی وزیر اسد عمر کے بیٹے کے ولیمے کے موقع پر ہوا، جنرل قمر جاوید باجوہ نے مجھ سے پوچھا اسلام آباد کب آرہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نے مدعو کیا تھا، جس کے جواب میں، میں نے ملاقات کے لیے کہا تھا، پہلی ملاقات میں ڈی جی آئی ایس آئی موجود نہیں تھے۔

محمد زبیر نے مزید کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ہونے والی ملاقاتوں میں نواز شریف، مریم نواز یا ن لیگ سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی، ملکی معیشت اور گورننس پر اپنے تحفظات سے دوستانہ طور پر آرمی چیف کو آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے آرمی چیف پر واضح کردیا تھا کہ میں نواز شریف یا مریم نواز کے لیے ریلیف لینے نہیں آیا ہوں۔

محمد زبیر نے یہ بھی کہا کہ میں نے پہلی ملاقات کا نواز شریف اور مریم نواز کو نہیں بتایا تھا، میری ایک سال سے نواز شریف سے کوئی بات نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف، شہباز شریف یا مریم نواز نے مجھے آرمی چیف سے ملاقات کا نہیں کہا۔

سابق گورنر سندھ نے کہا کہ دوسری ملاقات میں مجھ سے ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا آپ چاہتے کیا ہیں؟ میری گفتگو پر انہوں نے کہا کہ میں سمجھا آپ ریلیف مانگنے آئے ہیں

SHARE

LEAVE A REPLY