سپریم کورٹ آف پاکستان نے بحریہ ٹاؤن سے وصولیوں سے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ بحریہ ٹاؤن عدالت پر دباؤ ڈالنا چھوڑ دے۔

جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے بحریہ ٹاؤن عملدرآمد کیس کی سماعت کی، اس دوران بحریہ ٹاؤن کے وکیل اعتزاز احسن اور علی ظفر پیش ہوئے۔

وکیل علی ظفر نے بتایا عدالتی حکم کے بعض احکامات پر عمل درآمد کرلیا ہے، عدالت نے بحریہ ٹاؤن کا مکمل لے آؤٹ پلان طلب کیا تھا، جو جمع کرا دیا ہے۔

اس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے استفسار کیا کہ کیا الاٹیز سے لی گئی رقم کی تفصیلات جمع کرائی ہے؟ جس پر وکیل نے کہا کہ الاٹیز سے کی گئی وصولیوں کی تفصیلات جمع نہیں کراسکے۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ زمین کی قیمت کتنی ہے، تفصیلات فراہم نہیں کی گئی، اگر زمین کی قیمت اور الاٹیز سے لی گئی وصولی کی تفصیلات فراہم نہ کی گئی تو فیصلے پر عملدرآمد کیسے ہوگا، ہم نے فیصلے پر عملدرآمد کرانا ہے۔

انہوں نے استفسار کیا کہ کیا بحریہ ٹاؤن زمین کی قیمت سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کر سکتا؟ بحریہ ٹاون نے تفصیلات فراہم نہیں کرنی تو بتا دے، عدالت کسی تیسرے فریق سے بحریہ کے اکاؤنٹس کا آڈٹ کرالے گی۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ بحریہ ٹاؤن اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم کردے ورنہ ہم خود پتہ کروا لیں گے، جب تک بحریہ ٹاؤن تفصیلات فراہم نہیں کرتا آگے نہیں بڑھ سکتے۔

انہوں نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن نے تفصیلات فراہم نہیں کرنی تو ہم حکم جاری کر دیں گے، بحریہ ٹاؤن کوئی اور کام کر لے یا دکان چلا لے۔

اس دوران جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ بحریہ ٹاؤن میں کمرشل اور رہائشی پلاٹس کی کیا قیمت ہے، یہ بحریہ ٹاؤن نے بتانا ہے۔

عدالت میں ججز کے ریمارکس پر وکیل بحریہ ٹاؤن نے بتایا کہ الاٹیز سے وصولی کرنے کے بارے میں بیان حلفی جمع کرا دیا ہے، بیان حلفی کی نقل سندھ حکومت بھی فراہم کردی ہے جبکہ ملک ریاض کا بیان حلفی بھی جمع کرایا ہے۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیے ہم آپ کو پیار سے کہتے ہیں، عدالت کے حکم پر عمل کریں، سمجھاتے ہیں کیسے عمل کرنا ہے پھر بھی نہیں ہوتا۔

اس پر اعتزاز احسن نے بتایا کہ کتنی زمین فروخت کی اور کتنی وصولی کی اس کی تفصیلات فراہم کرچکے ہیں، اندازے سے بتا سکتے ہیں کہ کتنی وصولی کی، اضافی رقم زمین پر تعمیرات کی ہیں، جس پر جسٹس عظمت سعید نے پوچھا کہ کیا بحریہ ٹاؤن نے زمین مفت دی۔

جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ بحریہ ٹاؤن نے پلاٹ فروخت کیے یا گھر بنا کر دیے، جس پر اعتزاز احسن نے بتایا کہ پلاٹ اور اپارٹمنٹ فروخت کیے گئے۔

عدالت میں سماعت کے دوران جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ بحریہ ٹاؤن کراچی کا اصل رقبہ کتنا ہے، ابھی تک پردہ نہیں اٹھا۔

اس پر جسٹس فیصل عرب نے ساتھ ہی ریمارکس دیے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) 12 ہزار ایکڑ بتا رہا ہےجبکہ بحریہ ٹاؤن 18 ہزار ایکڑ رقبہ بتاتا ہے۔

عدالت میں نیب کے وکیل نے بتایا کہ بحریہ ٹاؤن کے مالکان اور افسران شامل تفتیش نہیں ہوئے، جس پر جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ آپ کو تو اس سے آگے جانا چاہیے تھا۔

اس دوران عدالت میں موجود ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ زمین کی قیمت کا تعین پرائس کمیٹی نے کرنا ہے، جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ یہ تو ابھی ہم نے آپ سے پوچھا ہی نہیں۔

جسٹس فیصل عرب نے ایڈووکیٹ جنرل سے مکالمہ کیا کہ آپ نے بحریہ ٹاؤن کو زمین بیچی نہیں تھی، تبادلہ کیا تھا، جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ ہم نیب سے ڈر رہے ہیں۔

سماعت کے دوران جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ حکومت سندھ نے بتایا تھا کہ 17 ہزار ایکڑ زمین دی، سندھ حکومت نے اپنی ہی زمین کا دفاع ہی نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی بتائی گئی قیمت پر زمین کی قیمت کا تعین نہیں ہوگا، ساکھ کا معاملہ ہے، ہم اس پر نہیں جانا چاہتے۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیے کہ اگر عدالت کے گزشتہ حکم کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو سندھ حکومت توہین عدالت کی درخواست دے سکتی ہے۔

اس موقع پر سروے جنرل آف پاکستان اور سپارکو نے رپورٹ عدالت میں پیش کی۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کل رقبہ 16 ہزار 700 ایکڑ ہے، 4 ہزار 6 سو 22 ایکڑ اضافی رقبہ ہے، جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ بتائے گئے رقبے سے ایک انچ باہر ہوا تو بلڈوزر چلے گا۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے وکیل علی ظفر سے کہا کہ ہمیں ایکشن لینےکا حکم جاری کرنے پر مجبور نہ کریں۔

دوران سماعت عدالت نے سپارکو کے نمائندے پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ لوگ کام نہیں کرسکتے، ہم ملک کے باہر سے لوگ بلوا لیں گے، آپ رقبہ بتا سکتے ہیں، حدود کا تعین نہیں کرسکتے، یہ کام تو 10 سال کا بچہ بھی کرسکتا ہے۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیے کہ سپارکو کے سربراہ کو بلالیں کیونکہ سپارکو کے نمائندے کہہ رہے ہیں کہ رقبہ بتاسکتے ہیں حدود نہیں۔

سماعت کے دوران بحریہ ٹاؤن کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے علاوہ بھی زمین خریدی ہے۔

اس دوران بحریہ ٹاؤن کراچی کا ایک عمر رسیدہ رہائشی عدالت میں پیش ہوا اور کہا کہ 5 منٹ ہماری بات سن لیں، جس پر جسٹس عظمت سعید نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ علی ظفر یہ آپ کا بندوبست لگتا ہے۔

بعد ازاں عدالت نے ریمارکس دیے کہ بحریہ ٹاؤن لوگوں سے وصولیوں سے متعلق رپورٹ پیش کرے اور عدالتی حکم کی تعمیلی رپورٹ بھی پیش کی جائے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ بحریہ ٹاؤن عدالت پر دباؤ ڈالنا چھوڑ دے، ایڈووکیٹ جنرل سندھ دیکھیں کہیں عدالتی حکم کی خلاف ورزی تو نہیں ہورہی ہے۔

عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ڈائریکٹر سپارکو کو بحریہ ٹاؤن کراچی کے لے آؤٹ پلان کا تقابلی جائزہ پیش کرے اور رجسٹرار آفس اکاؤنٹ کھولے جس میں بحریہ ٹاؤن پیسہ جمع کروائے۔

بعد ازاں عدالت نے بحریہ ٹاؤن عمل درآمد کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

SHARE

LEAVE A REPLY