امریکی خبر رساں ادارے (اے پی) کی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سائبر سیکیورٹی کے ادارے ‘سیکیور ورکس’ کی جانب سے 19 ہزار سطور پر مشتمل دستاویزات جاری کی گئیں جن میں امریکی خفیہ اداروں کی جانب سے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کا الزام روسی ہیکرز کے گروہ ‘فینسی بیئر’ پر عائد کیا گیا کہ اس گرہ نے مارچ 2015 سے مئی 2016 تک 4 ہزار 7 سو جی میل اکاونٹس تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی۔

کیمبرج یونیورسٹی کے کونفلکٹ اسٹڈیز ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر کیر گلز کا کہنا تھا کہ ‘صرف ایک ہی ملک کے مفاد کو یہ فہرست کام آسکتی ہے’۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ماسکو کی جانب سے ناقابل یقین طور پر مسترد کیے جانے کے باوجود یہ واحد قابل وضاحت مشاہدہ ہے۔

واضح رہے کہ روسی حکام نے ہیکنگ کے دعوے کو مضحکہ خیز اور تصورات سے منسلک کردیا ہے۔

روس کے ڈپٹی وزیر خارجہ سرجی ریاب کوف کا کہنا تھا کہ ‘ان الزامات کو ثابت کرنے لیے ایک بھی ثبوت موجود نہیں’۔

اے پی کے شناخت کردہ فینسی بیئر کا نشانہ بننے والے افراد نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بالکل ایک مختلف کہانی سنائی، 100 سے زائد انٹرویو میں تقریباً سب ہی نے ان ہیکنگ کا الزام ماسکو پر لگایا۔

2015 میں فینسی بیئر کا نشانہ بننے والے روسی حزب مخالف کے رہنما آرٹم ٹورکینسکی کا کہنا تھا کہ ‘ان حملوں کے پیچھے کون ہے اس میں ہمیں کوئی شک نہیں’۔

اے پی کی رپورٹ کے مطابق ان سائبر حملوں کا سب سے زیادہ امریکی افراد نشانہ بنے جس کے بعد یوکرائن، روس، جارجیہ، اور شام کے افراد بھی ان حملوں کا شکار رہے، ہیکرز نے امریکی دفاعی ٹھیکے دار کے ملازمین کے بیچ مفاہمت کی کوشش کی جبکہ ہیلری کلنٹن کے قریبی ساتھیوں سمیت ان کی جماعت، ڈیموکریٹک پارٹی کے 130 افراد کے ای میلز بھی چوری کرنے کی کوشش کی گئی، جن میں ان کی چلنے والی مہم کے صدر جون پوڈیستا بھی شامل ہیں جن کے خطوط کو صدارتی مہم کے آخر میں منظر عام پر لایا گیا تھا۔

حملوں کا شکار بننے والے دیگر افراد میں امریکا کے اس وقت کے سیکریٹری آف اسٹیٹ جان کیری اور سابق امریکی آرمی کے جنرل ویزلے کلارک بھی شامل ہیں۔

روسی ہیکرز نے یوکرائن کے بھی کئی سیاستدانوں کو ہیک کرنے کی کوشش کی جن میں سرہئی لیش چینسکو بھی شامل ہیں جنہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم کے چیئرمین پول منافورٹ پر بغیر ظاہر کیے رقم لینے کے الزامات کو ثابت کرنے میں مدد کی تھی۔

خیال رہے کہ فینسی بیئر پر لگے الزامات نئے نہیں لیکن اب تک ان کے خلاف ٹھوس شواہد سامنے نہیں آسکے جبکہ امریکی خفیہ اداروں نے کچھ ثبوتوں تک عوام کو رسائی فراہم کر رکھی ہے۔

اے پی کی رپورٹس کے دوران غیر ملکی خبر رساں ادارے صدارتی انتخابات کے آخری اوقات میں منظر عام پر آنے والی چیزوں میں اور فینسی بیئر میں ایک بلاواسطہ جوڑ ملا۔

تمام ڈیموکریٹس جن کے ذاتی خطوط کو منظر عام پر لایا گیا تھا فینسی بیئر کی جانب سے حملے کا شکار رہے تھے۔

تاہم 4700 جی میل اکاونٹس میں سے تھوڑے ہی فینسی بیئر ہیک کرنے میں کامیاب ہو پائے تھے لیکن ان میں سے نکالا گیا مواد ٹیرا بائٹس پر مشتمل ہے جسے صحافتی تاریخ میں سب سے بڑی لیکس قرار دیا گیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY