ڈاکٹر مجاہد منصوری
مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کی بے قابو تحریک آزادی اور اسے کچلنے میں بھارتی کھلی ریاستی بربریت کی ناکامی کے بعد، مسئلہ کشمیر کو دنیا سے اوجھل رکھنے میں بھی نئی دہلی کی سفارتی شکست کے بعد تحریک میں تیزی اور بھارتی ذہنیت بے نقاب ہونے کا گراف بڑھنا شروع ہو گیا ہے اور مسئلے کے عالمی ہونے کابھی۔

یہ مرحلہ اسلام آباد کے لئے انتہائی اہم اور حساس ہے۔ اس کا گہرا تعلق گورننس سے ہے جس کی مجموعی صورت خصوصاً مظفر وانی کی شہادت کے بعد تحریک کی معاونت اور اس سے قبل بلوچستان میں کھلی بھارتی مداخلت کے ناقابل تردید ثبوت منظرعام پر آنے کے بعد، حکومتی ردعمل کے حوالے سے مایوس کن رہی۔ یوں کہ ن لیگی حکومت، فارن پالیسی سائنس کے بنیادی اصول ’’سازگار صورتحال سے فائدہ اٹھانے کے لئے حکومتی مطلوب اقدامات‘‘ اٹھانے میں اپنی کوتاہی اور نااہلی کی میڈیا سے نشاندہی کے باوجود ناکام رہی۔ یہ حکومت کے خلاف بنتی رائے عامہ ،جاری مدلل (اور مبنی براخلاص) تنقید کا نتیجہ ہے کہ جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل حکومت نے کفارہ اداکرنے کا اہتمام کیا۔ تیاری تو اس کی بھی مطلوب درجے کی نہیں تھی اس حوالے سے محترمہ ملیحہ لودھی، سینئر سفارتکاروں اور میڈیا سے آنے والی INPUTاور دبائو نے بالآخر وزیراعظم نواز شریف کی نیویارک میں سفارتی سرگرمیوں اور خطاب دونوں کو نتیجہ خیز بنا دیا۔ اس طرح کہ بھارت کے تمام تر حربوں کے باوجود جس میں اب اوڑی کے بھارتی ملٹری کیمپ پر مشکوک اور متنازع حملہ بھی شامل ہو گیا۔ بھارت جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر مقبوضہ کشمیر کی انتہائی تشویشناک صورتحال کو چھپائے رکھنے اور مسئلہ کشمیر کو ایک بار پھر بین الاقوامی رنگ پکڑنے سے روکنے کی تگ و دو میں ناکام رہا۔ یہ سفارتی محاذ پر پاکستان کی بڑی کامیابی ہے اس لئے نہیں کہ پاکستانی سفارتی ڈیزائن سے کوئی بہت کچھ مطلوب حاصل ہو گیا بلکہ مسئلہ کشمیر کے مضبوط ہوتے اسٹیٹس کو پر اسلام آباد کی سفارتی ضرب اتنی ضرور کامیاب ہوگئی کہ 68 سالہ عالمی تنازع جس نے جنوبی ایشیا جیسے گنجان آباد خطے میں اقتصادی اور سماجی دونوں طرح کی ترقی کے عمل کو سست اوربے نتیجہ بنایا ہوا ہے، پھر عالمی منظر پر آگیا۔ پاکستانیوں سے بہتر کوئی نہیں جانتا کہ تمام تر منفی (بلکہ شیطانی بھی) پہلوئوں کو لئے اسٹیٹس کو کی اپنی طاقت ہوتی ہے، جس پر باریک دراڑ ڈالنا بھی جان جوکھوں کا کام ہےاور پھر مسئلہ کشمیر، جس پر تمام بھارتی حکومتیں ایک ہی موقف اختیار کرتے ہوئے اسے اٹوٹ انگ قرار دیتی رہیں اورمسلمانوں کے خلاف سدا کے مشتعل بنیاد پرست بھارتی وزیراعظم نے تو اس اسٹیٹس کو کنکریٹ سے محفوظ کرنے میں کوئی کسر چھوڑی نہ چھوڑ رہا ہے۔ تاہم مظفر وانی شہید سے لے کر اسیر کشمیر سید گیلانی تک کشمیریوں کے ناقابل شکست جذبہ ٔ آزادی، مسئلہ کشمیر پر بھارت کے قائم کئے گئے اسٹیٹس کو سے زیادہ جاندار اورنتیجہ خیز ہونا معلوم دیتا ہے۔ ایک طرف بھارتی بنیاد پرست حکمرانوں اور ان کی سفاک افواج کی مسئلہ کشمیر کے اسٹیٹس کو ، کو مسلسل بچانے کی کوشش اور اب اس میں ان کی ہوتی ناکامی ہے، دوسری جانب کشمیریوں کی مثالی جرأت مندانہ تحریک اورشہدا کے بہے خون سے جنم لیتی تبدیلی، جسے پاکستانی (بطور اولین فریق) کی موثر و منظم معاونت کی اشد ضرورت ہے۔ جو اسلام آباد نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فراہم کرکے مسئلہ کشمیر کو ابتدائی درجے کاپھر عالمی مسئلہ بنا لیا ہے۔ موضوع پر جناب بانکی مون اور صدراوباما کی خاموشی کی نشاندہی کرکے حکومت پر تنقید اور اسے مکمل ناکام قرار دینا، داخلی سیاست کی اپوزیشن کا روایتی سا رویہ ہے۔ اس کی بجائے اپوزیشن اور حکومتی ناقدین، کم از کم مسئلہ کشمیر پر پاکستانی قوم کے جذبات و احساسات کویکجا کرنے کے لئے اپنی تنقید کو اس یقین دہانی میں تبدیل کریں کہ کشمیریوں کی سفارتی اور سیاسی معاونت میں وہ نواز حکومت کے ساتھ ہیں تاہم معاونت میں کمی کے حوالے سے نشاندہی اور تنقید جاری رہنی چاہئے، خصوصاً بھارت کے پاکستان کی سلامتی کے خلاف جارحانہ رویئے اور اس کے اشتعال انگیز اظہار پر مکمل متحد ہونے کاابلاغ ہر دوطرف سے ہوتے رہنا لازم ہے۔

پوسٹ جی اے سیشن اور اس سے قبل کی ابتدائی سفارتی کامیابیوں کا دائرہ بڑھانے کے لئے اب پاکستان کے پاس دو ہی راستے ہیں۔ دونوں پرامن اور عالمی برادری کے لئے قابل قبول اور نتائج دیتے۔ ایک سفارتی محاذ کی سرگرمی، دوسرے عالمی برادری، خود پاکستانی قوم، مقبوضہ کشمیر کے مجاہدین اور بھارتی عوام خصوصاً وہاں کے باضمیر دانشوروں اور بنیادی حقوق کا پاس کرنے والی سول سوسائٹی سے تنازع کشمیر پر ابلاغ مسلسل۔ اگرچہ مذاکرات کی دعوت بذات خود مذاکرات اور ان کے لئے تمام سفارتی کوششیں بھی بنیادی طورپر پروفیشنل نوعیت کا (انٹر پرسنل کمیونی کیشن) ابلاغ ہی ہے لیکن حکومت کو ماس کمیونی کیشن اور دوسرے کئی طریق ہائے ابلاغ کو بھی اختیار کرنا پڑے گا۔ اس کے لئے پارلیمان اور دوسرے منتخب فورمز کو سرگرم کرنا اہم ترین قومی ضرورت پر حکومتی کارکردگی کے زمرے میں آئے گا۔ اسی طرح پاکستانی سفارتخانوں کا بیرون ملک ملکی کمیونٹی کو انگیج کرنا اور ان کا ازخود سرگرم ہونا، دونوں کا باہمی اشتراک اور اپنے اپنے دائرہ ہائے اثر میں کشمیریوں کی تحریک کو متعارف کرانا، بھارتی ریاستی دہشت گردی کو بے نقاب کرنا، نیو (سوشل) میڈیا کا منظم اور پیشہ ورانہ نوعیت کااستعمال، ابلاغ مسلسل کی وہ شکل ہے جو مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی پرامن تحریک کی پرامن اور دنیا بھر کے لئے قابل قبول پاکستانی معاونت سمجھی جائے گی۔

ایک درجے پر بھارت کے جارحانہ رویئے جو نئی دہلی کےموضوع پر اشتعال انگیز حکومتی ابلاغ اور میڈیا کے انتہائی غیرپیشہ ورانہ شکل میں سامنے آ رہا ہے ،کو بھی بے نقاب کرنا بہت ضروری ہے۔ یہ کام بنیادی طور پر وزارت ِ خارجہ کے علاوہ، وزارت اطلاعات کا ہونا چاہئے لیکن یہ تو فقط حکومتی بھی کیاپارٹی کی پبلسٹی اور بلیم گیم کے لئے وقف ہوگئی ہے۔ وزیراعظم سیکرٹریٹ کامیڈیا سیل بھی حد درجہ متنازع ہوتا جارہا ہے جو عوام کے پیسے سے قائم ہونے اور چلنے والے محترم ریاستی ادارے میں پارٹی اورئنٹڈ کمیونی کیشن کے لئے وقف ہوچکاہے۔ جمہوری کلچر اورگڈ گورننس میں اس کی قطعی گنجائش نہیں۔ یہ کئی لحاظ سے قابل گرفت اور اس پرکتنے ہی قابل فہم سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں۔

ہاتھ جوڑ کر ایک گزارش محترم وزیراعظم کی خدمت میں کہ اپنے حلقہ اثر سے ایک بااعتماداوروفا کا پیکر لیکن خارجہ پالیسی کی سائنس کو مکمل سمجھنے والا اور اعلیٰ سفارتی ابلاغی صلاحیتوں کا حامل کوئی گوہر نایاب بلاتاخیر نکالیں اوراسے بطور فل ٹائم وزیرخارجہ کا قلمدان سونپ کر اپنے پہلے سے لدے کندھے ہلکے کریں کہ (میاں صاحب! اے کلّے بندے دا کام نئیں) آپ کی نگرانی اور مسلسل سرپرستی میں ایک آپریشنل وزیرخارجہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، ان کی معاونت اور برکت کے لئے جناب سرتاج عزیز اور جناب فاطمی کو بھی ٹیم میں شامل رکھاجائے۔
مزید آپ کا اور مولانا فضل الرحمٰن کے اتحاداور سیاسی بھائی چارے کا معجزہ ہو ہی گیا ہے تو یا انہیں کھانا کھلا کر بے تکلفی سے پارلیمان کی فارن ریلیشنز کمیٹی کے چیئرمین کی پوزیشن کو اپنے سے فری کرنے پر آمادہ کرلیں، یا انہیں برا لگے تو چار و ناچار انہیں ہی کشمیر کمیٹی کو سرگرم کرنے کی فوری ضرورت کااحساس دلادیں۔ آپ کی ایرانی صدر محترم روحانی سے جو نیویارک میں کارآمد ملاقات ہوئی، اس کا فالو اپ بھی بے حد ضروری ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY