دن کی روشنی میں، سب کے سامنے فیصل آباد پولیس نے ایک زخمی شخص کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔
پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ فٹ پاتھ پر موجود شخص ڈاکو تھا، مسلح تھا، ہاتھ میں پستول تھا، ہم پر گولی چلاسکتا تھا، لیکن موبائل فون سے بنی ویڈیو میں زخمی شخص کے پاس کوئی پستول واضح طور پر نظر نہیں آیا، پولیس نے اپنے طور پر ہی قصہ نمٹادیا۔
پولیس کے مطابق مرنے والے کی شناخت آصف سردار کے نام سے ہوئی ہے،جو ڈکیتی کی تین وارداتوں میں مطلوب تھا۔
پولیس انکاؤنٹر کے نام پر ایک زخمی شخص پر گولیاں برسانے کا واقعہ فیصل آباد کے علاقے گلبرگ میں پیش آیا جہاں دن کی روشنی میں سادہ کپڑوں والے پولیس اہل کار نے سب کے سامنے ایک شخص پر تین گولیاں مار کر ہمیشہ کے لیے خاموش کردیا۔
فیصل آباد پولیس کا اس حوالے سے مؤقف ہے کہ ایک موٹر سائیکل پر تین مشکوک افراد کو روکا گیا، لیکن رکنے کے بجائے پولیس پر فائرنگ کی گئی، جوابی فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد فرار ہوگئے، ایک زخمی ہوا۔
یہ تو پولیس کا مؤقف تھا لیکن واقعے کی بنائی گئی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہےکہ زخمی شخص کو پولیس فورس نے گھیر رکھا ہے،اہل کاروں نے پوزیشن لے رکھی ہے، اتنی دیر میں پیچھے سے آنے والے سادہ لباس اہل کار نے زخمی شخص کو گرفتار کرنے کے بجائے تین گولیاں مار دیں۔
دو پہر سے شام ہوگئی کوئی ایف آئی آر سامنے نہ آئی، شام ڈھلے پولیس نے مرنے والے شخص کی شناخت آصف سردار کے نام سے کی،جو گوجرانوالہ میں ڈکیتی کی تین وارداتوں سمیت کئی مقدمات میں مطلوب تھا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے پولیس اہل کاروں نے اسے گرفتار کیوں نہ کیا،زخمی حالت میں گولیاں مار کر اپنی تفتیش کا دروازہ بند کیوں کردیا، زندہ مبینہ ڈاکو اپنے ساتھیوں کے نام بتا سکتا تھا، پولیس کو تحقیقات کے لیے مزید معلومات مل سکتی تھیں، جرائم کا دروازہ بند کیا جاسکتا تھا، لیکن اس فیک انکاؤنٹر سے پولیس کو کیا فائدہ حاصل ہوا،اس سوال کا جواب نہیں مل سکا

SHARE

LEAVE A REPLY