عراق میں بیروزگاری اور بدعنوانی کے خلاف جاری مظاہروں میں مزید دو افراد مارے گئے ہیں۔ یہ مظاہرے عراقی دارالحکومت اور بندرگاہی شہر بصرہ کے گردونواح تک پھیل چکے ہیں۔ دونوں ہلاکتیں ایران کے ساتھ جڑے سرحدی صوبے میسان میں ہوئی ہیں۔

صوبائی دارالحکومت عمارا میں دونوں افراد نامعلوم افراد کی گولیوں کا نشانہ بنے۔ میسان میں ہونے والے مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں درجنوں افراد زخمی بھی ہو چکے ہیں۔

گزشتہ اتوار کو بصرہ میں بھی مظاہرے کے دوران ایک شخص کی ہلاکت کے بعد احتجاج میں شدت پیدا ہو چکی ہے۔ بغداد حکومت نے ملکی فوج کو چوکس رہنے کا حکم جاری کیا ہے۔ اس دوران عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی نے بصرہ کا بھی دورہ کیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY