فاروق ستار یاد گار شہدا پر حاضری کیلئے تیار، گھر کے باہر پارٹی کارکنوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ عامر خان، فیصل سبزواری، کامران ٹیسوری اور رؤف صدیقی سمیت رابطہ کمیٹی کے ارکان بھی فاروق ستار کے ہمراہ بہادر آباد سے یادگار شہدا جائیں گے۔ انتظامیہ کی جانب سے ڈاکٹر فاروق ستار اور رابطہ کمیٹٰی کے ارکان کو حاضری کی اجازت دے دی گئی ہے۔
ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ ہمارے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے، کارکنوں کو یاد گا رشہدا پر حاضری کی اجازت نہیں دی گئی، رابطہ کمیٹی کو مشکل سے اجازت ملی۔ رہنما ایم کیو ایم پاکستان نے کہا ہے کہ کارکن وہاں پہنچتے ہیں تو ہماری ذمہ داری نہیں، بتائی گئی وجہ ہمیں ہضم نہیں ہو رہی۔ انہوں نے کہا حکومت اور انتظامیہ کو ہمیں حق دینا چاہیے تھا۔ قبل ازیں والدہ فاروق ستار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا میرا ایک بیٹا ہے اور میں نے اسے سیاست میں آنے سے منع کیا تھا۔ انہوں نے کہا بیٹے نے پارٹی کیلئے بہت قربانیاں دیں اور وہ شہدا کو سلام پیش کرنے جا رہا ہے۔
واضح رہے ایم کیو ایم پاکستان نے ایک اور یوٹرن لیتے ہوئے عائشہ منزل سے یادگار شہداء تک اپنے مارچ کو منسوخ کر دیا تھا۔ ایم کیو ایم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پروگرام کی نئی ترتیب کے مطابق کارکنان و عوام کے بجائے ڈاکٹر محمد فاروق ستار رابطہ کمیٹی کے ہمراہ یادگارِ شہداء پر حاضری دیں گے جبکہ یادگارِ شہداء تک مارچ کا پروگرام ناگزیر وجوہات کی بنا پر محدود کیا گیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY