یہ کوئی وقت نہیں ٹوٹنے بکھرنے کا ۔ عزیز بلگامی

0
165

یہ کوئی وقت نہیں ٹوٹنے بکھرنے کا
ہے وقت خوف کے ماحول سے اُبھرنے کا

ہر امتحان سے ہم بے پناہ گذریں گے
سلیقہ ہے ہمیں ہر ظلم سے گذرنے کا

میرے وقار کو مسمار کر نے والوں نے
اک ایسا زخم دیا ہے نہیں جو بھرنے کا

زمانے لد گیے گفتار کے کرشموں کے
یہی تو وقت ہے کردار کے سنورنے کا

نمک کی کان سے شیرینیوں کو لانا ہے
یہ کام سخت ہے لیکن ہے کر گذرنے کا

یہ سنگلاخ یہ پر خار جادۂ منزل
عزیزؔ کچھ بھی ہو موقع نہیں ٹہرنے کا

SHARE

LEAVE A REPLY