اسلام آباد میں ہر آنیوالے دن کے ساتھ بے یقینی بڑھتی جا رہی ہے۔ سسٹم کو بریک لگ چکی ہے۔ سرکار مفلوج ہو چکی ہے۔ دفاتر میں اہم فائلیں ایک سے دوسری میز پر بھی نہیں پہنچتیں۔ حکومت ہے تو کہاں ہے؟ اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ شاہد خاقان عباسی اورمیاں نوازشریف کسی طور پر ایک پیج پرنہیں۔ رہی سہی کسر قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے نکال دی کہ اگر منگل کو نااہل شخص کے پارٹی سر بر اہ بننے کیخلاف بل نہ پیش کیاگیا تواجتماعی استعفے دیدیں گے۔ شاہد خاقان عباسی پہلے ہی پریشان بیٹھے تھے کیونکہ بہت بڑی تعداد میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی میں پہنچے ہی نہیں تھے۔ وزیر اعظم نے اپنے قریبی حلقوں میں یہاں تک کہہ دیا کہ “حکومت میں نہیں کررہا” کیونکہ کوئی بھی وزیران کو جوابدہ نہیں ہے۔ انہوں نے اسحاق ڈار کو ہٹانے کی کوشش کی تو نوازشریف نے منع کر دیا۔ تمام وزرا بشمول پرنسپل سیکرٹری اور مشیران نوازشریف کو رپورٹ کر رہے ہیں اور ان سے ہی ہدایات لے رہے ہیں۔
شاہد خاقان عباسی نے وزیراعظم ہاؤس کے بجائے اسلام آبا د میں ذاتی رہائش گاہ پر قیام کیا۔ لندن میں ٹیوب میں سفر کیا۔ یہ ایک طرح سے پروٹوکول کیخلاف پیغام تھا۔ لہذا اسے بہت زیادہ پسند نہیں کیا گیا ۔اسی طرح کی غلط فہمیاں پھیلا ئی گئیں جیسی کسی زمانے میں جاوید ہاشمی کے متعلق تھیں کہ دیکھیں جی، یہ ہیرو بن رہا ہے۔ اب میاں نوازشریف، شاہد خاقان عباسی پر بہت زیادہ اعتماد نہیں کر رہے،شاہد خاقان عباسی بھی اپنے آپ کو فاصلے پر کررہے ہیں ۔انہوں نے اپنے قریبی دوستوں کو کہہ دیا کہ اگرمیرے خلاف آنیوالے دنوں میں کسی بھی قسم کا مقدمہ کھلا تو اخلاقی بنیادوں پر استعفیٰ دیدوں گا یعنی ایل این جی یا کوئی اور مقدمہ ۔اس حوالے سے ان کا کوئی بیک ڈور رابطہ عمران خان سے ہوا ہے، جس کے بعدعمران خان کا یہ بیان سامنے آیا کہ آئندہ ماہ شاید حکومت نہ رہے۔ اس پوری غیر یقینی صورتحال میں قبل ازوقت الیکشن کی بات بھی چل رہی ہے لیکن کہا یہ جا رہا ہے کہ قبل ازوقت الیکشن کا اعلان ہوگا، یعنی دو باتیں ہیں قبل ازوقت الیکشن ہونا اورقبل ازوقت الیکشن کااعلان ہونا، اعلان تو ہو سکتا ہے مگر وہ قبل ازوقت الیکشن ہوگا یا نہیں ہوگا اس پرسیاستدان پریشان ہیں، اعلان توضیاالحق نے بھی کر دیا تھا۔
ڈر اس بات کا ہے کہ کوئی پٹیشن نہ آجائے، مردم شماری چیلنج نہ ہوجائے۔ سب کو معلوم ہے کہ سندھ میں بڑا آپریشن شروع ہونیوالا ہے، میگا کرپشن کیسزکھل رہے ہیں پھراس کے بعد دوسرا مسئلہ کھڑا ہو رہا ہے کہ ایک توحدیبیہ کیس میں نیب نے اسحاق ڈارکے خلاف خود کارروائی کرلی، نیب اگر اسحاق ڈار کے خلاف کارروائی کرسکتا ہے تو براہ راست کسی اورکے خلاف بھی کرسکتا ہے ،یہ بہت اہم بات ہے جس پر لوگوں نے زیادہ دھیان نہیں دیا ، اب نیب بھی متحرک ہے ،باقرنجفی رپورٹ ہے ،پاناما کے باقی کیسزلگ رہے ہیں ۔مجموعی طورپر باہرکے 342 اقاموں کی فہرست آئی ہے جس میں اکثریت سندھ سے ہے ، سندھ حکومت توچلتی ہی دبئی سے تھی وزٹ ویزالے کرتھوڑی جاتے تھے ساری حکومت اقاموں پرتھی،زرداری صاحب نے بلالیا مراد علی شاہ چلے گئے توان کو کیاپتہ تھاکہ اقاموں کارولاپڑناہے وہ توسارے اقامے لے کر بیٹھے ہوئے تھے ۔ یہ خبروں کا موسم ہے اور بہت بڑی خبر یں آنیوالی ہیں۔

دنیا نیوز

SHARE

LEAVE A REPLY