ڈیڈلائن ختم ہونے کے باوجود فیض آباد دھرنا جاری

0
127

اسلام آباد میں فیض آباد انٹرچینج پر جاری دھرنے کے شرکاء کو دی گئی ڈیڈ لائن رات 12ختم ہوگئی،تاہم دھرنا اس کے باوجود جاری ہے۔
ابھی تک کوئی آپریشن شروع نہیں کیا گیا،رینجرز، پولیس اور ایف سی کے اہل کار چوکس ہیں۔
ذرائع کے مطابق پیر آف گولڑہ شریف نظام الدین جامی نے حکومت سے ڈیڈلائن میں توسیع کی درخواست کی ہے جس کے بعد ڈیڈ لائن میں توسیع کا امکان ہے۔
اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیض آباد دھرنا ختم کرانے کا عدالتی حکم نہ ماننے پر وزیر داخلہ احسن اقبال کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔
عدالت نے کہا کہ وزیرداخلہ پیش ہو کر وضاحت کریں کہ کس قانون کے تحت انتظامیہ کو عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے روکا؟
جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیے کہ ڈبل گیم کھیلا جارہا ہے، یہ عدالت کے حکم کو نیچا دکھانے کی کوشش ہے، دھرنے کی قیادت بظاہر دہشت گردی میں ملوث ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اظہار رائے کی آزادی نہیں بلکہ ریاست مخالف سرگرمی ہے، عدالت نے تین دن میں دھرنا فیض آباد سے پریڈ گراؤنڈ منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سیکرٹری داخلہ اور چیف کمشنر سمیت دیگر فریقین سے استفسار کرتے ہوئے مزید کہا کہ نام لے کر بتائیں کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد سے کس نے روکا ہے؟ نہ بتایا تو جیل جائیں گے۔
چیف کمشنر نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ انتظامیہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے اپنے فرائض ادا کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی،وزیر داخلہ نے مذاکرات کے باعث ایسا کرنے سے روکا۔
سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ طاقت کا استعمال کیا تو خون بہے گا، کچھ باتیں یہاں نہیں، چیمبر میں بتا سکتے ہیں ۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ کوئی وزیر حتی کہ وزیراعظم بھی کسی عدالتی فیصلے پر کیسے بیٹھ سکتے ہیں جب تک وہ فیصلہ اپیل میں ختم نہ ہو، یہ عدالتی اختیارات کو نیچا دکھانے کی کوشش اور توہین عدالت ہے، وزیر داخلہ خود پیش ہو کر وضاحت کریں کہ انہوں نے کس قانون کے تحت انتظامیہ کو عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے روکا؟
عدالت نے تین صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامے میں لکھا کہ دھرنوں کے باعث تین ہفتوں سے جڑوا ں شہروں میں نظام زندگی مفلوج ہے، ہر مسلمان کا ختم نبوت پر ایمان ہے، چند افراد کو ختم نبوت کے تحفظ کے حق کا دعویٰ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،یہ آزادی اظہار رائے نہیں بلکہ ریاست مخالف سرگرمی ہے۔
عدالت کے تحریری حکم نامے میں یہ بھی لکھا گیا کہ دھرنے کی قیادت بظاہر دہشت گردی کے عمل میں ملوث ہے، تمام ریاستی ادارے متحد ہو کر اقدام کریں ، اعلیٰ عدلیہ کے معزز جج صاحبان سمیت دیگر افراد کے بارے میں نازیبا الفاظ کا استعمال ناقابل برداشت ہے،انٹیلی جنس ایجنسیاں اس تاثر کو ختم کرائیں کہ دھرنے کے پیچھے وہ ہیں۔
عدالت کی جانب سے حسا س اداروں کے اعلیٰ افسران کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کہا گگیا ہے کہ کلیئرنس آپریشن کی ضرورت پڑے تو انتظامیہ کی جانب سےآتشیں ہتھیار استعمال نہ کیے جائیں۔
عدالتی حکم کے بعد اسلام آباد کی انتظامیہ نے دھرنے کے شرکاء کو رات 12 بجے تک فیض آباد خالی کرنے کا حکم دیا تھاتاہم مظاہرین اپنے مطالبات کی منظوری تک دھرنا ختم کرنے کے لیے تیار نہیں اور دھرنا تاحال جاری ہے۔
دوسری جانب دھرنے کی مانیٹرنگ کرنے والے سی سی ٹی وی کیمروں کی کیبل کٹ گئی۔
وزیرداخلہ احسن اقبال نے سی سی ٹی وی کیمروں کی کیبل کٹنے پر چیف کمشنر اسلام آباد کو تحقیقات کا حکم دے دیا۔
وزارت داخلہ کے مطابق سیف سٹی کے3سی سی ٹی وی کیمروں کی کیبل کاٹی گئی۔
ادھر کراچی میں بھی ایم اے جناح روڈ، نمائش چورنگی پر تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے فیض آباد مظاہرے کے شرکاء سے اظہار یکجہتی کے لیے 6روز سے دھرنا دیا جارہا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY