چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داری ادا نہ کرے تو عدلیہ کو مداخلت کرنا پڑتی ہے۔ حیرت کی بات ہے لاڑکانہ حکمراں جماعت کا گڑھ ہے مگر وہاں 88 فیصد پانی گندہ فراہم کیا جارہا ہے۔
صاف پانی کی فراہمی و نکاسی سے متعلق درخواست کی سماعت میں اعلیٰ عدالت نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو 6 دسمبر اور سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال کو کل طلب کرلیا۔
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی کے معاملے کی سماعت ہوئی۔
چیف جسٹس پاکستان، جسٹس میاں ثاقب نثار نے حکومتی اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ شہریوں کو صاف پانی اور ماحول فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، حکومت اپنی ذمہ داری ادا نہ کرے تو عدلیہ کو مداخلت کرنا پڑتی ہے، جمہوری نظام میں عدلیہ کو نگراں کی حیثیت حاصل ہے، ریاست کا کوئی ستون کام نہ کرے تو ہم اس سے پوچھیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چاہتے ہیں کہ ہمارے بچوں، پوتوں کو پینے کا صاف پانی ملے۔
سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ سندھ کو 6 دسمبر جبکہ سابق سٹی ناظم کراچی مصطفیٰ کمال کو کل طلب کر لیا ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ لوگوں کی زندگیوں کا معاملہ ہے نظر انداز نہیں کر سکتے۔ واٹر کمیشن کی ویڈیو اسپیکر سندھ اسمبلی کو بھجوائی گئی تھی مگر اسمبلی میں نہیں دکھائی گئی، ہم جانتے ہیں کہ ہمارا کیا اختیار ہے، ہم پیمرا کو ویڈیو بھیجیں گے تاکہ تمام چینلز پر نشر کی جائے، ہم پوچھیں گے کہ کتنا پیسہ کہاں سے آیا اور کہاں گیا؟ ہم کسی سرکاری افسر سے نہیں بلکہ سندھ اور پنجاب کے وزیراعلیٰ سے پوچھیں گے، پنجاب میں بھی بُرا حال ہے، نہروں میں زہریلا پانی شامل ہورہا ہے۔
درخواست گزار شہاب اوستو نے کہا کہ واٹر کمیشن کی رپورٹ کے مطابق سندھ میں 77 فیصد پانی قابل استعمال نہیں اور کراچی میں 80فیصد پانی میں انسانی فضلہ شامل ہے

SHARE

LEAVE A REPLY