نیا سال مبارک۔۔۔ شمس جیلانی

0
2096

نیا سال مبارک۔۔۔ شمس جیلانی
قارئین ِ گرامی عیسوی کلینڈ رکے مطابق 2020 شروع ہوچکا ہے۔ہمیں لوگوں نے مبارکباد دی اس تلقین کے ساتھ کہ“ امت پر وقت برا ہے یہ وقتِ دعا ہے۔ دعا کریں دعا “! ہم نے انہیں سمجھا یا کہ جس طرح دنیا کا ایک آئین ہے اسی طرح اللہ کا بھی ایک آئین ہے؟حالانکہ وہ ہر طرح سے آزاد ہے اسے کوئی مجبور نہیں کرسکتا تھا کہ خود کو آئین کا پابند کرلے مگر اس نے ہمیں سکھانے کے لیئے اپنے لیئے خود ایک آئین بنا کر خود کو اس کا پابند کرلیا اور وہ چاہتا ہے کہ ہم بھی اس کے آئیں پابند رہیں اگر ہم خود کو اسکابندہ سمجھتے ہیں!پھر اپنے اوپر رحم بھی واجب کرلیا اور ہمیں فرمادیا کہ تم بھی اس کی یہ سنت اپنالو تاکہ تم بھی معاف کرو تاکہ معاف کیئے جاؤ جبکہ ہم کسی کو معاف کرنا پسند ہی نہیں کرتے؟ پھر ہماری ہی رہنمائی کے لیئے یہ قانون بھی بنادیا کہ “جو کچھ بھی کوئی کرتا ہے وہ خود اپنے لیئے ہی کرتا ہے۔اور پھر یہ بھی فرمادیا کہ “ میں اپنی سنت تبدیل نہیں کرتا “اور اسکی سنت کیا ہے۔ بندے سے اگر گناہ ہوجا ئے جیسے ہی اسے احساس ہو اوروہ توبہ کرلے وہ بھی فوراً معاف کردیتاہے “اور ایسے لوگوں کی بار بار قرآن میں تعریف آئی ہے کہ ا صل میں مومن یہ ہی ہیں اوران کے لیئے وہاں بھی سب کچھ ہے اور یہاں بھی سب کچھ ہے۔لیکن ہم اپنے عہدِ وفا کی تجدید کے لیئے توبہ کرکے اس کے سامنے کھڑے ہونے کو بھی تیار نہیں ہیں، تو بات بنے گی کیسے۔پھر وہ ہمیں نوازے گا کیسے جبکہ ہم وہ شرط ہی پوری کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ ایسی صورت میں اس انعام کے کیسے حقدار بنیں گے۔ جو کہ اس کے نوازنے کا طریقہ ہے؟ آپ کہیں گے کہ آپ کو کیسے پتہ چل گیا کہ بندوں نے مانگنے کا طریقہ نہیں اختیار جو معافی کے لیئے اس نے مقرر فرما دیا ہے۔ جس سے نبی ؑ بھی مستثنیٰ نہیں ر ہے۔ یہاں آپ حضرت آدم ؑ سے دیکھ جا ئیے کہ جیسے ہی انہیں احساس ہوا دعا بھی اللہ نے انہیں مانگنے کی خود سکھائی اور جب انہوں نے وہ الفاظ ادا فرما ئے تو معاف بھی اس تنبیہ کے ساتھ کردیا کہ“ وہ اگر یہ الفاظ ادا نہ کرتاتو قیامت اسی حالت میں رہتا “۔ اسی طرح حضرت یونس ؑ کے بارے میں ہے کہ ا ن کو بھی دعا سکھائی اور جب انہوں نے اس طرح دعا کی تو ان کی جلد بازی معاف کرکے دو بارہ ان کے عہدے پر انہیں بحال کردیا اور وہاں بھی وہی فرمایا کہ “ اگر وہ یہ دعانہ کرتا تو قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں رہتا “۔یہ ہی ہمیں بھی سکھایا ہو ہے کہ“ ا ان تمام دعاؤں کے علاوہ جو انبیاء کرام ؑکو سکھائیں ہیں سورہ فاتحہ جیسی دعا پانچوں وقت پڑھنے کے لیئے بتادی گئی ہے مگر ہم کر کیا رہے ہیں؟ وہی جو اسے پسند نہیں ہے یہ جانتے ہوئے کہ دنیاوی قوانیں میں دستور کی خلاف ورزی پر سزا ہے انعام نہیں؟ اگر کوئی نہ سمجھ سکا ہوتو مندرجہ ذیل ثبوت پیش خدمت ہیں۔
اور وہ یہاں سے شروع ہوتے ہیں کہ پاکستانیوں کو خوشی اس تاریخ کو منانا چا ہیئے تھی جس تاریخ کو یہ ملک عطا ہوا تھا؟ وہ نئی نسل کو شاید یاد نہ ہو کیونکہ ایسی باتیں ان کے نصاب سے خارج کردی گئی ہیں۔ ان کے لیئے عرض ہے وہ تھی27 رمضان المبارک۔ لیکن یہ ہماری سعادتمندی ہے کہ ہم نے اللہ کے آئین کو اختیار کرنے کے بجا ئے عیسوی سن اپنا لیا؟ چلیئے کوئی بات نہیں اگر اسے اپنالیا تھا کسی مجبوری کے تحت تو جائز تھا، جبکہ بظاہر کوئی مجبوری نہیں تھی۔ مگر ہم نے طریقہ بھی وہ اپنا لیا جوکہ بجا ئے شکر کے اللہ سبحانہ تعالیٰ کی نافر مانی پر چلنے کا نام ہے۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہم نے ٹی وی پر 22 کروڑ مسلمانو ں میں سے صرف ایک مسجد میں دو آدمیوں کو دعا مانگتے دیکھا جو ایسے مواقعوں پر ہمارا شعار ہے باقی سارے بجا ئے نوافل شکرانہ ادا کرنے کے دوسروں کی تقلید میں بری، بری شکلیں بنا ئے آتش بازی چھوڑتے اور دیکھتے نظر آئے۔ جبکہ اپنے مال کو خود آگ لگانے پر اسلام میں کوئی ثواب نہیں ہے۔ بلکہ فضول خرچی میں آتا ہے۔ اور فضول خرچی کرنے والے از روئے قرآن شیطان کے بھا ئی ہیں۔اور دوسری آیت میں ہے کہ “ شیطان اللہ کا نا شکرا ہے “جواب آپ پر چھوڑتا ہوں کہ اس کردار پر مسلمانوں کوکیا شاباشی ملے گی؟ پھر دعا ئیں کیسے قبول ہونگی جو کہ حالات میں بہتری کی کوئی صورت پیدا ہو۔ اور ان بلاؤں سے سوائے اللہ سبحانہ تعالیٰ کے کون نجات دلا ئے گا جو بطورِسزا ہم پر مسلط ہیں؟

SHARE

LEAVE A REPLY