وفاقی وزیر برائے ترقی اور منصوبہ بندی احسن اقبال نے تصدیق کی ہے کہ چین کی جانب سے اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت تین منصوبوں کے لیے فنڈز کو بیجنگ کی جانب سے ‘مالی طریقہ کار’ کی نظر ثانی تک کے لیے روک دیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق احسن اقبال نے سی پیک کے حوالے سے 25 ویں پارلیمانی کمیٹی کو اطلاع دی کہ چین کی جانب سے ان منصوبوں کے مالی امور پر نظر ثانی جاری ہے اور ان پر کام بیجنگ کی منظوری کے بعد شروع کردیا جائے گا۔

تاہم چین کی جانب سے پرانے مالی طریقہ کار کو چھوڑ کر دوبارہ نظر ثانی کرنے کے معاملے پر وفاقی وزیر، کمیٹی کے شرکاء کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

خیال رہے کہ چین کی جانب سے کچھ منصوبوں پر فنڈز کے اجرا کو بیجنگ کی جانب سے نئے لائحہ عمل طے کیے جانے تک روک دیا گیا تھا جن میں زیادہ تر سی پیک کے تحت بننے والی سڑکوں کے حوالے سے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماء اور پارلیمانی کمیٹی کے رکن اسد عمر نے ڈان کو بتایا کہ انہوں نے اجلاس میں چینی فنڈز کے روکے جانے کا معاملہ اٹھایا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اجلاس کے دیگر شرکاء جانتے تھے چین انفراسٹرکچر کے منصوبوں پر دوبارہ نظر ثانی کر رہا ہے۔

ایک اور کمیٹی کے رکن الحاج گل خان آفریدی نے کہا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ چین نے سی پیک پر فنڈنگ بند نہیں کی بلکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے 3 منصوبوں پر تکنیکی اعتراض اٹھایا ہے اور چینی ماہرین کی ایک ٹیم ملک میں آکر اس کا جائزہ لیں گی۔

تاہم نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے سینئر حکام نے حکومتی دعوے کو مسترد کردیا اور بتایا کہ یہ سچ نہیں کہ چین نے ان منصوبوں پر اعتراض اٹھایا ہے کیونکہ چین نے گزشتہ سال چھٹی مشترکہ تعاون کمیٹی میں اس کی پہلے ہی منظوری دے رکھی ہے۔

احسن اقبال نے پارلیمانی کمیٹی کو بتایا کہ سی پیک کے لیے کراچی سرکلر ریلوے منصوبہ منظور کیا جا چکا ہے جبکہ کوئٹہ اور پشاور کے لیے ایسے ہی منصوبوں پر تکنیکی ضروریات کی بنیاد پر نظر ثانی کی جارہی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY