جمعہ کے روزاعلیٰ عدلیہ سے عمران نیازی کے اہل ہونے اور جہانگیرترین کی نا اہلیت کا فیصلہ آچکا ہے جس کے بعد کروڑوں عمران نیا زی مخالفین کا قوی خیال یہ ہے کہ جو کچھ ہوا ہے اور ہورہاہے یہ سب پلانٹڈ ہے ہے یعنی کہ آج جو کچھ نظرآرہاہے اِس کے درپردہ نظر نہ آنے والا کو ئی اور ہاتھ ہے جو ہمیشہ ہی اپنے مقاصد میںکا میاب رہاہے ، دھرنوں کا سلسلہ ہو یا کو ئی اور جمہوردُشمن اقدام ہو اِن سبھوں کے پیچھے کو ئی اور ہے حالانکہ اِس کو جا نتے تو سب ہیںمگر کھل کر اُس کا نام لیتے ہوئے سب ڈرتے ہیں.
ہاں البتہ،اتناہے کہ اِس خفیہ ہا تھ کے نام کی پہلیاں بوجھا تے سب ہیں اور اپنے اپنے دلوںکی بھڑاس نکال کر خا موش ہوجا تے ہیںمگر کسی نے کھل کر اِس خفیہ آسیب کا نام کبھی نہیںلیا ہے اِس بنا پر آج بھی بعض کا یہ کہنا ہے کہ عمران خان کی اہلیت برقراررکھنے کے لئے ترین کا بہترین صدقہ دیا گیا ہے تو ایسا کچھ نہیں ہے آج عمران خان نیازی کو جہانگیرترین کی نا اہلی سے سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے اِس لئے کہ یہ عمران خان کے سب سے زیادہ با اعتماد اور قابلِ بھروسہ شخص ہیں جن کی ٹیکنیکل نا اہلی کو عمران خان چیلنج کرنے کا اراردہ کر چکی ہے جس سے متعلق آنے والے دِنوں میںپیش رفت سا منے آئی گی۔
اَب اِس پس منظر میں کو ئی کچھ بھی کہئے مگر اِس سے انکار نہیں کہ ما ضی ہر زما نے کے ہر معاشرے کی ہر تہذیب کے اِنسا نوں کو اپنی مخالفت میں آنے والے فیصلوں پر عدالتوں سے شکوہ ہی رہاہے اور ایسا آج 21ویں صدی میں بھی ہورہاہے یعنی یہ کہ ما ضی کی طرح آج بھی لوگ اپنے خلاف آنے والے فیصلوں پر عدلیہ کو ہی تنقیدوں کا نشا نہ بنا تے ہیں، بنا رہے ہیںاور بنا تے رہیںگے۔
جبکہ آج عدلیہ کے ایسے ہی نا قدین کو سمجھاتے اور تاکید کرتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثارنے منعقدہ سیمینار اور جوڈیشنل اکیڈمی سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ” قسم ہے، عدلیہ پر کو ئی دباو ¿ نہیں، ہم پر دباو ¿ڈالنے والاپیداہی نہیں ہوا ،جو عدلیہ پر دباو ¿ڈال کرفیصلہ کرائے، کسی پلان کا حصہ نہیں، منصوبے کا حصہ ہوتے تو حدیبیہ کا فیصلہ ایسا نہ آتاجیسا آیا،آپ فیصلے پر تنقیدکرسکتے ہیں، کہہ سکتے ہیں فیصلے میں گئی دلیل کمزورہے مگر نیت پر شبہ نہ کریں عدلیہ بیشک قوم کا با با ہے،فیصلہ خلاف آنے پر ججوں کو گالیاں نہ دیں، آئین و جمہوریت کی تحفظ کی قسم کھا ئی ہے“تو پھر اِس کے بعد عزت مآ ب چیف جسٹس ثاقب نثارکی اِس تاکید کو عدلیہ ناقدین بہت جا نیں اور ججوں اور عدلیہ پر تنقیدیں کرنا بند کردیں۔
پچھلے دِنوں ہمار ی سب سے بڑی عدالت عظمی سُپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سا بق رُکن اسمبلی حنیف عباسی کی پاکستان تحریک اِنصاف کے چیئرمین عمران خان اور سیکرٹری جنرل جہانگیرترین کی آف شور کمپنیوں کے خلاف نا اہلی کی درخواست کو جلی حروف کے ساتھ مستر د کرتے ہو ئے یہ تاریخ ساز فیصلہ صادرفرما دیا ہے کہ ” عمران نیا زی سروسز کے شیئر ہولڈریا ڈا ئریکٹرنہیںتھے، لندن فلیٹ بھی ایمنسنی اسکیم میں ظاہرکیا ، بنی گا لہ اراضی کے لئے جمائمہ نے چارلاکھ پا و ¿نڈ سے زیادہ رقم تحفے میں دی ، اور عمران نے اثا ثے نہیں چھپا ئے“ یوں اِس بنیاد پر عمران نیا زی اہل جبکہ” ترین نے عدالت سے جھوٹ بولا،آف شور کمپنی ظاہر نہیں کی، انسا ئیڈرٹریڈنگ کے حوالے سے اعتراف جرم کیا ،یوں ترین کو ایما ندار قرار نہیںدیا جاسکتا ہ، اِس لئے آئین کی آرٹیکل 62(1)کے تحت جہا نگیر ترین کو نا اہل قراردے دیا گیاہے“ اِس طرح مُلکی اعلیٰ عدالت نے28جولا ئی 2017ءکے فیصلے کی طرح بغیر کسی دبا و ¿ اور حق و سچ پر مبنی یہ فیصلہ بھی کردیاہے جبکہ قبل ازیں ہماری اِسی اعلیٰ عدالت سُپریم کورٹ آف پاکستان نے حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس کیس دوبارہ کھولنے سے متعلق نیت کی اپیل جسٹس فائز عیسیٰ نے یہ کہہ کر ”آج جب شریف فیملی ریفرنس ختم کروانے ہا ئیکورٹ گئی تو نیب جاگی،برسوںکیس چلااور چارج فریم نہیں کیا گیا،پا نا ما آپرزویشن کے بجا ئے نیب اپنے پاو ¿ں پر کھڑا ہو“ مسترد کردی۔
یقینا ماہ رواں دسمبر2017 کی 15تاریخ میں ہما ری اعلیٰ عدلیہ نے اپنی نوعیت کے دو ایسے اہم کیسز کا تاریخ ساز فیصلہ صادر فرما کر مُلکی تا ریخ کی کتا ب میں ایک اور نئے با ب کا اضا فہ کردیا ہے جس سے آئندہ ہما ری مُلکی سیاست میں دررس نتا ئج مرتب ہوسکیں گے بشرطیکہ ، اِن فیصلوں کو دونوں فریقین قبول کریں تو کو ئی حرج نہیں کہ سیاسی گاڑی کسی مثبت سمت میں گا مزن ہو۔
بلاشبہ زمینِ خدا پر انسا نوں کے اداروں (عدالتوں ) کے فیصلے آسما نی صحیفہ تو نہیں ہوتے مگر معا ملات زندگی کو بھی تو آگے بڑھا نا ہوتا ہے اگر کسی کی توقعات کے بر خلاف اور کسی کی حمایت میں کبھی عدالتوں کے فیصلے آبھی جاتے ہیںتو اِنسا نو ں کو فیصلے تسلیم کرلینے چا ہیئں اِن پر کھلی تنقیدیں کم از کم اِس طرح تو نہیں کرنی چا ہیئں آج جیسی کے نوازشر یف اپنی نا اہلی کے خلاف اعلیٰ عدالت کے فیصلے پر چھ ما ہ سے سیخ پا ہیں اوردردر جا کرآہ وفغاں کرتے اپنی نا اہلی کو زبردستی اہلیت میں تبدیل کرانے کے لئے خو دبھی سڑکوں پر ہیں تو اپنے چیلوں چپاٹوں کو بھی سڑکوں پر لا کر اعلیٰ عدالتوں سے محاذ آرا ئی کی فضا ءگرم کئے ہو ئے ہیں۔
بہرحال، سُپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جنا ب جسٹس ثا قب نثار کی سربرا ہی میں قا ئم تین رُکنی بینچ نے حنیف عباسی کی عمران خان اور جہانگیرین ترین کے خلاف درخواست کا فیصلہ کردیا ہے جس سے یہی اُمید کی جا رہی تھی اِس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان کا معا ملہ نواز شریف سے بہت مختلف تھا عمران خان کے کیس میں قومی چور ہو نے کا کہیں سے بھی چارج تو دورکی بات ہے شک بھی موجود نہیںتھاجبکہ نوازشریف کے کیس میں سو سے دوسورفیصد یا شائد اِس سے بھی زیادہ قومی خزا نہ لوٹ کر آف شور کمپنیاں بنا نے کے شواہد موجود تھے یوں عمران اور نواز کا فیصلہ اعلیٰ عدالت نے درست انداز سے کیا ہے اَب جس سے مُلک کو درست سمت میںلے جا نے کے لئے بہتر راہیںمتعین کرنے میں خاصی مدد مل سکتی ہے۔
تاہم ، سابق وزیراعظم نوازشریف نے لندن سے پاکستان روانگی سے قبل میڈیا پرسنز سے گفتگو میں اپنے والہا نہ انداز سے پھر اعلیٰ عدالت کو کھلی تنقید کا نشا نہ بنا تے ہوئے کہا کہ”قانون اور آئین کی حکمرانی کے لئے جو قیمت اداکرناپڑی کروں گانیازی سروسز کا اعتراف عمران خان خود کرچکے ہیں،آپ اِن کے ویڈیوز بیان دیکھ سکتے ہیں(یہاں راقم الحرف یہ عرض کہنا چا ہئے گا کہ نوازشریف جی، عدالت پہلے ہی واضح کرچکی ہے کہ عدالت ویڈیوز بیانات اور اخباری تراشوں کو نہیں ما نتی ہے اگر ایسا ہے تو پھر ماڈل ٹاون کے واقعے کی ویڈیوز موجود ہیں اِس کے ظاہر اور باطن ذمہ داروں کو بھی فی الفور پھا نسی دی جا ئے اورویسے بھی اخباری تراشوں کو تو عدالت پکوڑے رکھنے کے لئے گردانتی ہے سو چ لیں یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں تو پھرکیا خیال ہے جنا ب ویڈیوز پر سا نحہ ماڈل ٹاون کا فیصلہ ہو جا ئے؟) اِ س کے باوجود نواز شریف یہ کہہ رہے ہیں کہ ” لیکن عمران کی صفا ئی بینچ نے پیش کی،جو شخص اعتراف کرتا ہے اُسے چھوڑدیا جاتا ہے،مگرمیری خیالی تنخواہ کو انہوں نے اثاثہ ما ن لیا ،بینچ نے میرے خلاف عمران کاکیس لڑا“ اتما کچھ کہنے کے بعد بھی 28جولا ئی کو نا اہل ہو نے والے نوازشریف نے اپنے جذبات کو قا بو میںنہ رکھا اور شدتِ جذبات اور غصے میں یہ بھی کہہ گئے کہ ” ہما رے لئے اِنصاف کے تقا ضے کچھ اور اُن کے لئے کچھ ایسا اب نہیں چلے گا، اِس دُہرے معیا رکے خلاف مُلک گیرتحریک چلا ئیں گے“ نوازشریف ایک لمحے کو اپنے جذبات قا بو میں رکھیں اور ایک سمجھ دار سیاسی کھلاڑی کی طرح ٹھنڈے دل و دماغ سے ضد کو ایک طرف رکھ کر عدالتوں کے فیصلے اور احترام کو ملحوظ خا طر رکھتے ہوئے بس اَب نوازشریف اعلیٰ عدلیہ پر شبہ نہ کریں اِس لئے کہ اِن سمیت(نواز) عمران ، ترین اور شبہاز کے فیصلے میںعدالت نے سوا ئے اپنی خود مختاری،استحکام ، شفافیت اور شواہد کو ہی ملحوظ خاطر رکھا ہے اور کسی اندرونی اور بیرونی دباو ¿ میں آئے بغیراعلیٰ عدلیہ نے کل بھی تاریخی فیصلے کئے تھے اور آنے والے دِنوں میں جیسے بھی کیسز ہوں گے مُلکی اعلیٰ عدلیہ ایسے ہی شفافیت اور غیرجا نبداری کی بنیاد پر فیصلے کریں گے ۔
بس آج ضرور ت اِس امر کی ہے کہ خصو صی طور پر نوازشریف اپنی ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑیں اور اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کو ما نیںاور خاموشی اختیار کریں اِس طرح یہ اپنے وقار کو بحال کریںاور کرائیں تو اِن کے اِس ذرا سے ذمہ دارانہ عمل سے بہت سے اچھے اور مثبت نتا ئج مرتب ہو سکیں گے ورنہ ….؟؟

SHARE

LEAVE A REPLY