حضرت عیسیٰ کی آمد سے 470 سال قبل یونان میں پیدا ہونے والے سقراط نے یونانی فلسفے کو نئی جہت دی اور دنیا بھر میں فلسفی، منطق اور نظریات پر اپنے اثرات مرتب کیےسقراط کے خیالات انقلابی تھے اور ایسے نظریات کی نفی کرتے تھے جس میں غلامی اور انسانی حقوق چھیننے کی حمایت کی جاتی ہوبے تحاشہ غور و فکر اور ہر شے کو منطقی انداز میں پرکھنے کی وجہ سے سقراط نے دیوتاؤں کے وجود سے بھی انکار کردیا تھا۔

۔سقراط کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ یونان کے روایتی شہریوں کی طرح خوبصورت اور پر کشش نہ تھا بلکہ وہ جسمانی لحاظ سے بھدا اور بدصورت تھا۔ اس لیے بچپن میں اس کے اسکول کے ساتھی اسے مینڈک کہا کرتے تھے۔ اس کے قریبی دوست کرائیٹو نے اس کا حلیہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہمیشہ ہی سے بے فکرہ اور لاپرواہ تھا۔ اس کے چھوٹے قد پر بے ترتیب شکنوں سے پُر لباس ہوتا۔ اس کے ہونٹ موٹے اور کھردرے تھے۔ اس کی گردن کندھوں میں دھنسی ہوئی تھی۔ آنکھیں بڑی بڑی اور حلقوں سے ابھری ہوئی تھیں۔ اس کی ناک چپٹی اور پیشانی چھوٹی تھی۔ اس کی داڑھی بے ترتیب اور الجھی ہوئی ہوتی۔ اس کا لبادہ عموماً اس کے جسم سے ڈھلکا ہوا رہتا۔وہ اپنے بارے میں کہتا کہ یہ دیوتاؤں کی مرضی ہے کہ میں ایسا ہوں کیونکہ ہر مخلوق کو خلق کرنے والا خود بہتر سمجھتا ہے کہ مخلوق کو کیسا ہونا چاہیے۔

لیکن اس بھدے اور بے ڈول جسم کے اندر بہت ہی خوبصورت145 نیک145 سچائی اور بصیرت سے بھرپور روح تھی۔ لوگ کہتے تھے انھوں نے اپنی زندگی میں اتنا نیک145 شریف145 تحمل مزاج اور عالم شخص نہیں دیکھا اس نے کبھی کسی انسان کو تکلیف نہیں پہنچائی وہ اپنے دوستوں کے ساتھ مہربان اور وہ معاشرے کو ایک ایسا ادارہ قرار دیتا تھا جس میں تمام افراد ایک دوسرے کو خوشی فراہم کریں۔اس کی قوت ارادی بھی بہت طاقتور تھی۔ وہ اپنے مخالفین کو بھی عزت کی نگاہ سے دیکھتا تھا اگرچہ سقراط کے دور کا معاشرہ انتشار اور بدنظمی کا شکار تھا لیکن ایسے حالات میں اس کی اخلاقی خوبیوں کی بدولت اس کی ہر جگہ عزت کی جاتی تھی۔ وہ انتہائی خدا داد ذہانت کا مالک تھا۔ وہ جہالت کو برائی قرار دیتا تھا۔ اس کا کہنا تھا خالق نے مخلوق کو ایک دوسرے کی مدد کے لیے پیدا کیا ہے۔اس کے قابل ترین شاگرد افلاطون کا کہنا ہے کہ سقراط ایک بہت بڑا محب الوطن بھی تھا۔

وہ کبھی بھی اپنے شہر سے باہر نہ گیا۔ اسے اپنے شہر اور ملک سے انتہائی محبت تھی۔ وہ ایک دفعہ اپنے دوست زینوفن کی دعوت میں گیا تو اس دعوت میں بہت سے امراء اور خوبصورت نوجوان بھی تھے جب کسی نے اس کی بدصورتی کے حوالے سے بات کی تو اس نے کہا کہ میں اندر سے خوبصورت ہوں میرے ساتھ حسد نہ کرو دراصل یہ اس کا مزاحیہ انداز تھا۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ سقراط کی ذات میں مزاح کا پہلو بھی نمایاں تھا۔زینوفن کا کہنا ہے کہ سقراط علوم سائنس کا آقا ہے ہر کوئی جانتا تھا کہ اس کا قول اور عمل غیر مقدس نہیں ہے۔ سقراط خدا کی موجودگی کے بارے کہتا ہے کہ کائنات میں بکھری ہوئی فطرت میں وہ موجود ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ خدا انسان کی روح میں رہتا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ میں عقیدے کی بجائے علم پر یقین رکھتا ہوں۔ نیک عمل میں خدا کی ذات موجود ہوتی ہے۔

 سقراط کے لڑکپن کی ذہانت اور تخلیقی صلاحیتوں کے حوالے سے ایک واقعہ سقراط کے بچپن کے دوست اور ہم مکتب کرائیٹو نے بیان کیا ہے: کہ میں اور سقراط ایک دن کمہار کے چاک کے پاس سے گزر رہے تھے۔ کمہار نے نرم نرم ملائم مٹی کا ایک لوندا چاک پر رکھا145 چاک کو تیزی سے گھمایا اور مٹی کے لوندے میں اپنے دونوں ہاتھوں کوکچھ اس طرح سے حرکت دی کہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک خوبصورت مرتبان مٹی کے لوندے کی جگہ پر نمودار ہو گیا۔ سقراط نے کہا ابھی تو چاک پر مٹی کا لوندا تھا یہ خوبصورت مرتبان آخر کہاں سے آ گیا پھر خودہی کہنے لگا ہاں یہ مرتبان کمہار کے ذہن میں تھا اور پھر ہاتھوں کے ہنر سے منتقل ہو کر اس چاک پر آ گیا۔سقراط نے نتیجہ اخذ کیا کہ کوئی بھی مادی چیز جیسے مکان145 کرسی یا کوئی مجسمہ یا تصویر پہلے انسان کے ذہن میں آتی ہے145 پھر انسان اپنے ذہن کے اس نقشے کو مادی شکل میں ڈھالتا ہے۔یہ ایک زبردست اور غیر معمولی دریافت تھی۔ سقراط نے ہنر145 فن اور تخلیق کے بارے میں جان لیا تھا۔ سقراط خیال کرتا تھا کہ یہ الہامی نشان دیوتاؤں کی جانب سے اس کی رہنمائی کرتا ہے کیونکہ دیوتاؤں کو تمام چیزوں کا علم ہے۔

سقراط جب جوانی میں داخل ہوا145 تو پھر وہ الہامی نشان کی کیفیت کو سمجھنے لگا145 اسے یقین ہونے لگا کہ اس کے ضمیر میں اچھائی اور نیکی کے حوالے سے کوئی خاص بات ہے۔ دراصل الہامی نشان کو ضمیر کی آواز کہنا زیادہ مناسب ہے جو کہ اسے غیر ضروری کام کرنے سے روکتا تھا اور اچھے اور نیک کام کرنے کا مشورہ دیتا تھا۔پھر آہستہ آہستہ سقراط کی اس کیفیت کا چرچا ہونے گا۔ ایتھنز کے لوگ اس کے متعلق بحث کرنے لگے لیکن سقراط نے کبھی بھی اپنی اس کیفیت کے حوالے سے نہ کوئی بات کی نہ ہی کسی کو اس کیفیت کی تفصیل بتائی۔ ایتھنز کے رواج کے مطابق سقراط نے جوانی میں مرٹو (Myrot) نامی خاتون کے ساتھ شادی کی جو طاعون کی وبا میں مر گئی۔ سقراط نے دوسری شادی پینتالیس سال کی عمر میں زینتھی پی (Xanthippe) نامی خاتون سے کی۔

یہ خاتون سقراط سے عمر میں تقریبا بیس سال چھوٹی تھی لیکن خاصی بدزبان تھی۔ بیوی کی بدکلامی سے سقراط کے تحمل کو مزید تقویت ملی۔ اور وہ اپنی بیوی کی بدکلامی کو خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کرتا۔ سقراط کی دوسری شادی سے تین بیٹوں کا ذکر ملتا ہے۔ سقراط کی بیوی زینتھی پی سقراط کے ساتھ ہی بدکلامی نہ کرتی بلکہ سقراط کے دوستوں اور شاگردوں کے ساتھ بھی بدکلامی کرتی تھی۔ وہ اپنی بدکلامی کی وجہ سے پورے ایتھنز میں مشہور تھی۔ اس لیے لوگ اس کی بدکلامی سے زیادہ ناراض نہ ہوتے۔سقراط کی عمر پچاس سال ہو چکی تھی۔ کسی معاشرے میں اتنا وقت گزارنے کے بعد اس شخص کے کردار145 شخصیت اور معاملات کے بارے میں لوگ اسے مکمل طور پر جان جاتے ہیں۔ سقراط بھی ایسا ہی شخص تھا جس کی عادات و کردار کے بارے میں اس معاشرے کے لوگ اس کے بارے میں متفق رائے رکھتے تھے کہ سقراط کردار145 گفتار145 عقل و خرد اور اخلاقی حوالے سے بہترین انسان ہے۔

وہ لوگوں کو انصاف اور سچ بولنے کی تعلیم دیتا تھا۔ اس کے ساتھ جو بھی گفتگو کرتا وہ خوشی اور لطف محسوس کرتا تھا۔ اس کی روح کی بالیدگی اور ذوق جمالیات نے اس کے گفتار و کردار میں ایک خاص جاذبیت اور حلاوت پیدا کر دی تھی۔

یونان کی حکومت نے سقراط پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ نوجوانوں میں انقلابی جذبہ پیدا کرتا تھا اور مروجہ نظام حکومت کیخلا ف باغیانہ تقریریں کرتا اور تحریریں چھاپتا تھا۔ سقراط پر ایک الزام یہ بھی تھا کہ وہ ریاست کے معروف خداﺅں کو ماننے سے انکار کرتا تھا۔ سادہ لفظوں میں سقراط اپنے زمانے کے استحصالی اور روایتی نظام کیخلاف تھا اور نوجوانوں کے تعاون سے مروجہ نظام کو تبدیل کرنا چاہتا تھا۔ یونان کی حکومت نے سقراط کے خلاف مقدمہ چلانے کیلئے جیوری کا انتخاب کیا جو 501ارکان پر مشتمل تھی۔ سقراط کو کھلی عدالت میں پیش کیا گیا تاکہ وہ اپنا دفاعی بیان ریکارڈ کراسکے۔ سقراط کا دفاعی بیان تاریخ کے صفحات پر موجود ہے جو ہزاروں سال گزرنے کے بعد آج بھی روح پرور اور سبق آموز ہے۔

سقراط کا مقدمہ کیا تھا اس نے اپنا دفاع کیسے کیا اور زہر کا پیالہ پینے کا فیصلہ کیوں کیا۔ یونان میں عام طور پر رواج یہ تھا کہ ملزمان جیوری کے سامنے بیان دیتے ہوئے جذباتی اور معذرت خواہانہ انداز اختیار کرتے تھے تاکہ سزا سے بچ سکیں مگر سقراط نے اپنا بیان سادہ اور دو ٹوک الفاظ میں ریکارڈ کرایا جس میں کوئی لغزش نہ تھی۔ سقراط نے اپنے بیان کے ابتدائیہ میں کہا 148جیوری میں شامل کوئی شخص مجھے یہ کہہ سکتا ہے کہ میرا طرز عمل باعث شرم ہے جس کے نتیجے میں آج مجھے موت کا سامنا ہے۔ میرا جواب یہ ہے کہ اگر تم سب یہ سمجھتے ہو کہ کسی شخص میں اگر سچ بولنے کی طاقت ہے اسے زندگی اور موت کا حساب رکھنا چاہیئے تو میرے نزدیک یہ بات درست نہیں ہے۔ سچے انقلابی کو موت سے خوف زدہ ہونے کی بجائے یہ فکر کرنی چاہیئے کہ اس کا مو191قف درست ہے یا غلط ہے147۔

سقراط نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے کہا 148میں یہ جانتا ہوں کہ اللہ کی اور اپنے سے بہتر لوگوں کی نافرمانی کرنا بے شرمی کی بات ہے اس لیے میں برائیوں میں مبتلا ہونے کی بجائے موت کو ترجیح دوں گا عین ممکن ہے کہ موت میرے لیے بڑی نعمت ہو۔148 میں آ پکی اطاعت کے مقابلے میں اللہ کی اطاعت کروں گا۔ جب تک سانس میں سانس ہے ، جسم میں طاقت ہے، میں کبھی بھی اس دعوت سے باز نہیں آﺅں گا۔ میں دعوت دیتا رہوں گا، ترغیب بھی دلاتا رہوں گا۔ آپ میں سے ہر اُس شخص سے ، جس سے جب بھی ملاقات ہوگی، میں یہ کہوں گا کہ میرے عزیز! تم ایتھنز کے رہنے والے ہو، اس عظیم شہر کے شہری ہو جو اپنی قوت و دانش میں مشہور ہے۔ تم ہر ممکن کوشش کرتے ہو کہ دولت، شہرت، مقام و مرتبہ میں خوب سے خوب تر ہوجاﺅ۔ کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ سچائی، دانش اور اپنے نفس کیلئے بھی کوشش اور محنت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ بھی خوب سے خوب تر ہو۔ میرا کام بس یہی ہے کہ آپ لوگوں کو راغب کروں، چاہے بوڑھے ہوں یا جوان کہ اپنے جسم اور اپنے مال کو اپنی اولین ترجیح نہ ٹھہرائیں بلکہ روح و نفس کی پاکیزگی کو پہلا مقام دیں۔

 سقراط جب اپنا مو191قف بیان کرچکا تو جیوری نے مقدمے کا فیصلہ رائے شماری سے کیا۔ سقراط کے حق میں 220ارکان نے رائے دی جبکہ 281ارکان نے سقراط کیلئے سزائے موت تجویز کی۔ سزا کے بعد عدالتی ضوابط کے مطابق سقراط کو موقع دیا گیا کہ وہ خود اپنی سزا تجویز کرے۔ سقراط نے کہا 148اب حضرات! میں اپنے لیے کیا سزا تجویز کروں؟ اتنا تو واضح ہے کہ جو سزا بھی تجویز کروں وہ بہر حال مناسب ہونی چاہیئے۔ کین میری سزا کیا ہو؟ کونسی سزا، کتنا جرمانہ مناسب رہے گا؟ کیونکہ میں زندگی بھر آرام سے نہیں بیٹھا، کیونکہ میں نے اُن چیزوں پر جن پر لوگ مرتے ہیں، مال بنانے، گھر اور خاندان سنوارنے، فوجی عہدے، عوامی خطابت اور ریاستی عہدوں، زمینوں اور جماعتوں کو ذراہ برابر اہمیت نہیں دی کیونکہ میں جانتا تھا کہ ان میں مبتلا ہوکر گناہ سے آلودہ ہوئے بغیر نہیں رہ سکوں گا

۔سقراط کے دوستوں نے اسے جیل سے فرار ہونے کا مشورہ دیا جو اس کیلئے ممکن تھا مگر سقراط نے مفرور ہونے کی بجائے زہر کا پیالہ پی لیا اور انسانی تاریخ میں امر ہوگیا۔

سقراط نے اپنا مقدمہ خود لڑا اور تمام مخالفین کی زبانیں بند کر دیں۔ سقراط نے اپنی صفائی میں بہت کچھ کہا ۔۔۔دلائل پیش کئے لیکن معذرت کی نہ زندگی کی بھیک مانگی ۔عدالت میں اُس کی بات چیت ہماری تاریخ کا حصہ ہے ۔یہ گفتگو بڑی پُر مغز 145 فلسفیانہ اور اخلاقیات کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہے ۔اس سے ہم اسکی انصاف پسندی145 جر أت145انا145سچائی اور ثابت قدمی کا اندازہ لگا سکتے ہیں ۔

سقراط کے خونِ ناحق سے اہل ایتھنز کو بعد میں سخت پشیمانی ہوئی اور اس کے دشمنوں کو نہایت ذلت کے ساتھ اپنی بے وقوفی اور عداوت کے خمیاز ے بھگتنے پڑے۔

SHARE

LEAVE A REPLY