دل کے اندر درد آنکھوں میں نمی بن جائیے
اس طرح ملیے کہ جزو زندگی بن جائیے

اک پتنگے نے یہ اپنے رقص آخر میں کہا
روشنی کے ساتھ رہیے روشنی بن جائیے

دیوتا بننے کی حسرت میں معلق ہو گئے
اب ذرا نیچے اُترئیے آدمی بن جائیے

وسعتوں میں لوگ کھو دیتے ہیں خود اپنا شعور
اپنی حد میں آئیے اور آگہی بن جائیے

عالمِ کثرت کہاں ہے اب اکائی میں سلیمؔ
خود میں خود کو جمع کیجیے اور کئی بن جائیے

سلیم احمد

SHARE

LEAVE A REPLY