عظیم شاعر ، ادیب ، افسانہ نویس اور کالم نگار احمد ند یم قا سمی ۔۔سید ظفر معین بلے جعفری

1
1205

تاریخ ولادت :20نومبر 1916۔۔۔۔تاریخ وفات :10جو لا ئی 2006
تحریر :سید ظفر معین بلے جعفری
اس تصو رسے کہ شہ پا رہء تخلیق ہے وہ
مجھ کو انسان سے خوشبوئے خدا آتی ہے
(احمد ند یم قا سمی )
معروف ادیب، شاعر اور تنقیدنگاراحمد ندیم قاسمی کوہم سےجداہوئے برسوں بیت گئے ۔جب بھی نومبر یاجولائی کامہینہ آتاہے،ان کی یادوں کا سورج طلوع ہوجاتاہے۔ نومبر ان کی ولادت کامہینہ ہے اور جولائی کی دسویں تاریخ کو یہ آفتاب ڈوب کر ادبی افق پر شفق کے تمام رنگ چھوڑ گیاتھا ۔ احمد ندیم قاسمی ایک شخصیت تھے ہی نہیں ، وہ تو ایک پوری ادبی دنیا تھے۔ ان کےاندرکاشاعر کبھی اپنے جلوے دکھاتاتھا۔ کبھی ادیب کسی بھی موضوع پر قلم اٹھاتاتھا۔کبھی کالم نگار جاگ اٹھتاتھا۔ کبھی افسانہ نویس انسانی معاشرے کی دکھتی نبض پرہاتھ رکھ کر آنے والے قدموں کی چاپ پہلے سے سن لیاکرتاتھا اور ان کاتازہ افسانہ پڑھ کر ادبی قارئین پر بھی فردا کامنظر نامہ روشن ہوجایاکرتاتھا۔ احمد ندیم قاسمی کے اندر کاڈڑاما نگار بھی تہلکہ مچانے پر تلا رہتاتھا ، انہوں نے بہت سے ڈرامے لکھ کرداد ضرور سمیٹی لیکن پھر اپنے اندر کےڈراما نگار کوسلادیاتھا ۔ وہ ٹی وی ڈراموں کی کمرشل ضروریات پورا کرنے کیلئے اپنی سوچ سے کوئی سودا نہیں کرناچاہتے تھے ۔ احمد ندیم قاسمی ایک گھنا اور چھتنا رپیڑ تھے ۔ نئی نسل کو مستقل چھاءوں مہیا کی ۔ ادبی دنیا میں نئے چہروں کو متعارف ہی نہیں کرایا ،بلکہ نوجوان ادیبوں اور شاعروں کی انگلی تھام کر انہیں گھٹنوں گھٹنوں چلاتے بھی نظرآئے۔کون کہتاہے کہ آدھی صدی سے زیادہ عرصے تک انہوں نے ادبی دنیا پر راج کیا۔نہیں ایسا نہیں ہے۔ان کاراج ختم نہیں ہوا۔ وہ مسلسل پانچ چھے عشروں تک ادبی محفلوں کی جان بنے رہے۔ صدارت کی کرسی پر ہوتے یا مہمان خصوصی کی نشست پر براجمان نظر آتے ۔وہ تو آج بھی اپنے چاہنے والوں کے دلوں پرحکمرانی کررہے ہیں ۔ فنون ایک رسالہ نہیں ایک تربیتی ادارہ بھی تھا نسل نو کیلئے اور ایک دبستان تھا ، پاکستان اور بھارت کے ادب دوستوں کیلئے ۔ انہوں نے اس پلیٹ فارم سے ادب کی ترویج و ترقی کیلئے جوگراں قدر کام کیا، وہ ہماری ادبی تاریخ کا ایک روشن باب ہے ۔ ہمارے گھران کا بڑا آنا جانا رہا۔ان کے کئی انٹرویوبھی کئے ۔خط و کتابت بھی رہی ۔ ان کے کئی یادگار خطوط میرا سرمایہ ہیں ۔ ان کے ذکر خیر نے میری یادوں کی بہت سی کھڑکیاں کھول دی ہیں ۔ بہت سے مناظر آنکھوں کے سامنے آکر تازہ ہوگئے ہیں ۔ میں انہیں کیسے بھلاسکتاہوں، جو ہمارے خاندان کےہردکھ سکھ میں شریک رہے۔ قدم قدم پر حوصلہ بڑھایا اور اپنی رفاقتوں کا یقین دلایا۔یادوں کے دریچے کھلتے ہی بیتے مناظر ایک ایک کرکے میری آنکھوں کے سامنے آرہے ہیں ۔ آپ کو بھی میں ان یادوں میں شریک کررہاہوں ۔
انتیس جنو ری 2004صبح کے آٹھ،نو بج رہے ہو نگے۔ بے شمار فون کالز آرہی تھیں ۔انہی میں سے ایک منصورہ احمد کی بھی تھی۔ با با سائںہ کی رحلت پر تعز یت فر ما ئی اور کہا با با کو بہت دکھ ہوا ہے ۔ وہ آپ سے با ت کرنے کے لئے بہت بے چنک ہیں۔ مںا آپ سے بات کرواتی ہوں ۔ مجھے آپ کی کفیت کا بھی بخو بی اندازہ ہے مگر کاو کروں۔ اُدھر آپ پر یہ
قا مت ٹوٹی ہے ادھر با با کی طبیعت ٹھک نہں۔ ہے مگر اپنی طبیعت سے زیا دہ اس وقت انہیں آپ لوگو ں کی فکر ہے۔ اور وہ فو ری طو ر پر ملتان کے لےع روانہ ہونا چا ہتے ہیں۔ لکن شاید آپ کےسمجھانے سے سمجھ سکںٹ ۔ مںر نے عر ض کیا آپ با با (احمد ند یم قاسمی صا حب ) سے با ت کروائیے۔خرر احمد ندیم قا سمی صا حب سے با ت ہو ئی۔ انہوں نے بھر پو ر اند از مں تعزیت فر ما ئی اور صبر و حو صلے کی دعا ئیں دیں ۔ پھر فر مایا۔ بے فکر رہیے۔ایک ،دو بجے تک میں ملتا ن پہنچ جا ئوں گا ۔میں نے عر ض کیا کہ ند یم صا حب ہم لو گ ڈیڑھ دو بجے تک نما ز جنا زہ ادا کر تے ہی تد فین کے لےے بہا ولپو ر روانہ ہو جا ئیں گے ۔انہو ں نےیہ سنتے ہی فر مایا کہ ٹھکد ہے ۔ مں براہ راست بہا ولپورپہنچ جائوں گا اور وہاں ادا ہونے والی نماز جنا زہ مںہ بھی شر کت کرلوں گا ۔مںک نےعرض کیا کہ آپ کی آوازسے آپ کی طبیعت اور دمے کی سی کفیت کا خوب اندازہ ہو رہا ہے۔ لہذا خدارا۔ ہم پر رحم فر مائںے اللہ نہ کرے۔ اس شدیدسردموسم مںہ طبیعت بگڑ گئی تو کیاہو گا ؟اور دوسر ی با ت یہ کہ مو ٹر وے بند پڑے ہں ۔ ٹر ینیں تا خیرسے پہنچ رہی ہں ۔دُھند اس قدرشدید ہے کہ فلا ئٹس لنڈ نہں کر پا رہیں ۔میری آپ سے التجا ءہے کہ آپ اس وقت سفر کا ارادہ تر ک فر ما دیں ۔ منت سما جت کے بعد وہ اس با ت کے لے راضی تو ہو گئے مگر اس کے بعد مسلسل فو ن پررابطے کا سلسلہ جا ری رکھا ۔پل پل کی خبر رکھی اور یہی فر ما تے رہے کہ مںک نہںن چاہتا کہ پریشا نی اور دکھ کے ان لمحا ت مں آپ کو یہ احسا س ہو کہ میں آپ سے دور ہو ں یا وہاں مو جو د نہںر ہوں ۔
دنیا جانتی ہے کہ میرے والد نے ایک ادبی اور ثقافتی تنظیم قا فلہ بھی بنارکھی تھی ،اس کے زیر اہتما م دو مر تبہ جشن احمد ندیم قا سمی انتہا ئی شا ند ار طر یقے سے منا یا گیا۔ چوہتر ویں جشن ِ وِلا ت کے مو قع پر ان کی طبیعت نا سا ز تھی اور مردے ہا تھ پر پلا سٹر چڑھا ہوا تھا ۔ مگر کیو نکہ وہ مر”ے اور افتخا ر ایلی کے اصر ار پر حا می بھر چکے تھے، لہذاعلا لت کے با وجو د بھی انہوں نے اپنی آمد کو یقینی بنا یا ۔کلیم عثما نی ،ڈاکٹر سلیم اختر ،بدے ار سر مد ی ،اسلم کما ل ، امجد اسلا م امجد ، عطا ءالحق قا سمی ، اسر ار زید ی ‘ سر فراز سید ،شہزاد احمد شہزاد اور فخر الد ین بلے نے احمدند یم قا سمی کی ادبی خدما ت کوسراہتے ہوئے ان کے ادبی معر کو ں کا بھی ذکر کیا۔ اس مو قع پر ان کی زیر ادارت شا ئع ہو نے والے ادبی رسا ئل و جرائد کو بھی مو ضو ع بنا یاگیا۔ 78واں جشنِ احمد ند یم قا سمی بھی “قا فلہ “کے زیر اہتما م منا یاگیا۔جوبلاشبہ کئی اعتبا ر سے حد درجہ یا د گاربلکہ شاندار رہا۔جب احمد ند یم قا سمی صا حب کو کک” کا ٹنے کےلئے بلا یا گیا تو بر ادر محتر م خا لد احمد گویا ہو ئے ۔ ظفر معین یہ کیک کے اوپر تحر یر کر دہ شعر کا آپ کا ہے ۔
اللہ ان کا سا یہ سلا مت رکھے سد ا
اب خرا سے ند یم 78بر س کے ہیں
مں نے کہا “جی ہا ں ۔میرا ہے تو خا لد احمد نے کہا کہ اللہ قا سمی صا حب کا سا یہ ہمشہ ہمشہی سلا مت رکھے ۔یہ شعر ہر بر س ہند سو ںکی تبد یلی کےسا تھ نیا ہو جا ئے گا بلکہ تا زہ کہیے!مںر نے جو اباً عر ض کیا کہ با با کو پشد کرنے کےلئے منظو م خر اج کی کو ئی کمی تو نہیں ۔برادر محترم خا لد احمد نے کہا کچھ اوربھی سنا ئیے۔اس فرما ئش پر مںے نے اپنا ایک شعر سنا یا
تمہا رے دو ر مںا غا لب ومرروذوق تھے بس
ہما رے عہد میں احمد ند یم قا سمی ہیں
بڑی خوش گپیاں ہوئیں ۔ بہت سے چٹکلے چھوڑے گئے ۔مہمان جی اٹھے ۔تقر یب کے اختتام پر نا ہید قا سمی صا حبہ نے مجھے مخا طب کرکے کہا “ظفر بھا ئی آج مںت نے زند گی مںا پہلی مر تبہ مسلسل پانچ گھنٹے با با کے سا منے بیٹھ کر ان سے ان کا کلا م سنا ہے۔ اس کا کر یڈ ٹ آپ کو جا تا ہے ۔ مںن نے عر ض کیا نا ہید با جی ۔ اس کا کر یڈ ٹ با با کے سبھی چا ہنے والوں کو جا تا ہے کہ جو یہاں موجود ہیں ۔یہ سبھی آج با با کو سننا چا ہتے تھے اور با با نے اسی لےا افسا نہ پڑھنے کے بعد کچھ اور عطا ءہو، کچھ اور ارشا د ہو کے جواب میں کسی کی فر ما ئش کو رد نہیں کیا۔”۔
کچھ ہی دیر بعد نا ہد قا سمی صا حبہ پھر مجھ سے مخا طب ہو تےہوئے بولیں “ظفر بھا ئی آپ نے با با کو کسے منا لا اور وہ کسےد راضی ہو گئے ؟” مںے نے والد گر امی کی طر ف اشا رہ کاا اور کہاان کی گزار ش پر ، دو سر ی با ت یہ کہ با با ہم سب سے کتنی محبت کر تے ہں” ۔ مں نہںی جا نتا مگر مجھے بلکہ ہمںا بھی وہ آپ سے کم نہں چا ہتے ۔بہر حا ل انہو ں نے ہما را ما ن رکھ لاں ۔یہ ان کی بڑائی ہے ۔ وہ ہم سب کا ما ن ہں ۔ پھر مںت نے اپنا یہ شعر پش کاں
شعر و سخن کی آبر و اردو ادب کا ما ن
اسر ار ِکا ئنا ت سے پُر اور قلم گا ن
اس پر اسر ار زید ی نے احمد ند یم قا سمی صاحب کومخا طب کر کے کہا کہ محسن نقوی کے مصر عہ پر کاہ گر ہ لگائی ہے ۔ احمد ند یم قا سمی نے کہا بھئی ہم تو” قلم گا ن” کی انو کھی تر کب پر ہی حرپ ان ہںد ۔اس شعر مںا ان کی ادب پر وری شا مل ہے۔ اور یہ ادب پر وری بلکہ ادب پر ستی انہں ورثے مں ملی ہے ۔ایک مر تبہ احمد ند یم قا سمی اپنے عہد اسرہ ی کے قصے بای ن کر رہے تھے ۔ ان مں سے ایک قصہ یہ بھی تھا کہ ایک مر تبہ فخر الد ین بلے صاحب مجھ سے ملنے اور خرت یت جا ننے کے لےہ جلک پہنچ گئے ۔ اس ملاقا ت کا دورانہم طو یل تھا ۔ ان دنو ں وہ لاہور ہی میں ماہنامہ “فلا ح “کے مد یر اعلی ٰ تھے۔ انہو ں نے مجھ سے جلا میں رہتے ہو ئے ایک افسا نہ لکھو ایا اور اسے بہت اہتما م کے ساتھ “فلا ح “مںس شا ئع کیا اور وہ شما رہ مجھے جیل مں دینے بھی آئے ۔
احمد ند ی م قا سمی کی شخصیت اور فن کے حوالے سے یو ں تو بہت کا م ہوا ہے اور ہر کا م اپنی جگہ پر ایک ٹھو س حثیت کا حا مل ہے، مگر سید فخر الد ین بلے کی زیر ادارت شا ئع ہو نے والے ہفت روزہ “آوازِجر س “کے احمد ند یم قا سمی نمبر کا تذ کرہ نہ کرنا یاًن نا انصافی ہو گی ۔ اس اشا عت ِخا ص مںی شا مل تما م تر تخلیقا ت ،تصا ویر اور تا ثر ات بہت ہی غرن معمولی ، اچھو تے اور کئی اعتبارسے منفر د تھے ۔ادبی حلقو ں نے اس کی والہا نہ اند از مں پذ یرائی کی اور اشا عت کو تا ریخی دستا ویز قراردیا ۔سید فخر الد ین بلے کی ہی ہد ایت پر مصو رِآوازِجر س طا ہر نقو ی نے ایک سا ل مںر احمد ند یم قا سمی کی دو تصا ویر بڑی محنت سے بنائیں ، جواس اشا عت خاص کا حصہ بنیں ۔”آواز جر س”کی پا لسیر تما م تر گر وہ بند یو ں سے با لا تر رہی۔
ایک مر تبہ احمد ند یم قا سمی اختر حسنآ جعفر ی ، ڈاکٹر بر ہان احمد فا روقی کے ساتھ فخر الد ین بلے کی عاکدت کےلئے تشریف لا ئے تو سید فخر الد ین بلے بستر علا لت پر دراز تھے اور ان کی نا ک مں آکسیجن کی نا لال ں لگی ہو ئی تھںف اور وہ مجھے آواز جر س کے آئندہ شما رے کا اداریہ لکھو ارہے تھے ۔ ا ن احبا ب کی آمد پر اُٹھ بٹھنے کی کو شش ہی کی تھی کہ ڈاکٹر بر ہا ن احمد فا روقی (جوکہ فخر الد ین بلے کے ہمسا ئے بھی تھے ) گو یا ہوئے “بلے ما ں لٹےن رہئے ور نہ ہم لو ٹ جا ئںر گے ۔ فخر الد ین بلےفوراً پھر لٹے گئے تو احمد ند یم قا سمی نے فر ما یا ۔ یہ کیا ما جر اہے ۔اگر ہم یہی با ت کہتے تب بھی کاگ آپ بلا خرر لیٹ جا تے ۔ تو فخر الد ین بلے نے کہا با لکل کیو ں۔ کیونکہ ڈاکٹر بر ہا ن احمد فا روقی مر ے سینئر ہںر اور علی گڑھ کی جا معہ نے سینئر ز کو بہت با اختاے ر بنا یا ہے ۔
پر ویز بزمی صا حب سے سرگو دھا مںی قا م کے دوران خا صا قر یبی تعلق رہا۔ انھںر والد گر امی سید فخر الد ین بلے سے خا ص عقید ت تھی اور ابو کے حوالے سے ہم سب بھا ئیوں سے بھی انہیں خا ص انسیت تھی ۔ وہ ہم سب سے عمر مںی بہت بڑے تھے مگر اس کے با وجو د وہ ہم سب سے بھی بہت عقید ت اور احتر ام سے ملتے تھے ۔ سرگو دھا سے آجا نے کے بعد بھی پر ویز بزمی صا حب سے رابطہ قا ئم رہا ۔ ان کا حا فظہ بلا کا تھا اور وہ ہر قسم کے تعصب اور گر وہ بند ی سے دورہی رہا کر تے تھے ۔ غا لبا ً1989مںے یا 1990میں انہو ں نے اچا نک احمد ند یم قا سمی صا حب کی غز ل اور پھر نظم کو کڑی تنقید کا نشا نہ بنا یا ۔ ان دونو ں مضامین کی اشا عت کے بعد وہ لا ہو رتشریف لا ئے ۔ اتفا ق سے ابو دفتر گئے ہو ئے تھے اورمیں خلا ف معمول “ادب لطیف”کے دفتر سے اس روز ذرا نہں بہت جلد لوٹ آیا تھا (ان دنوں مںر ادب لطیف کا ایڈ یٹر تھا) لہذا پر ویز بزمی صاحب ابو سے پہلے مروے ہتھے چڑھ گئے ۔ یہا ں یہ بھی بتا نا ضر وری ہے کہ مںا پہلے ہی پر ویز بزمی صا حب کو چک 39شما ل کے پتے پر ان مضا مین کے حو الے سے خط لکھ چکا تھا اور اپنی حرر ت ، تعجب اور تشویش کا اظہا ر کر چکا تھا ۔ بہر طو ر دوران گفتگو پر ویز بزمی صا حب نے اپنے طور پر اس کا یہ سبب با، ن کیا کہ احمدند یم قا سمی اور ڈاکٹر وزیر آغا دو نو ں جگا دریوں پر کو ئی ہا تھ نہںہ ڈالتا ۔لہذادونوں نے جن جن اصنا ف میں کا رہا ئے نما یا ں سر انجا م دئیےہیں ، ان کے حوالے سے پا نچ +پا نچ=(5+5=10) مقا لا ت لکھنے کا منصوبہ ہے ۔ مختصر یہ کہ طے پا گیا کہ احمد ند یم قا سمی صا حب کے حو الے سے کسی مضمو ن کی اشا عت عمل مںن نہیں آئے گی ۔ اور پا نچ مقا لا ت تحریر کرنے کے بعد پھر ڈاکٹر وزیر آغا کے حوالے سے پا نچ مقا لا ت لکھے جا ئیں گے۔ معا ہد ہ زبا نی ہی سہی مگر ہو گاد ۔شر طِ اول یہ تھی کہ دس کے د س مقا لا ت کے جملہ حقو ق راقم السطور کے نا م ہو نگے ۔
یقینا ًمعا ہد ہ دونوں فر یینم کی رضا مند ی سے ہو ا تھا مگر مں اس با ت کے لئے کیسے راضی ہوگان ۔ہر گز بھی مسا وی سلوک کی بنا پر نہںں، اور نہ ہی حب علی گو یا ۔۔۔۔۔۔۔معا ملا ت طے پا تے ہی ابو بھی تشر یف لے آئے ۔انہو ں نے پر ویز بزمی صا حب کی خوب اچھی طر ح سے خبرلی۔ آخرکا ر پر ویز بزمی صا حب نے ابوسے کہا “بلے صا حب مجھے اند ازہ نہںھ تھا کہ قا سمی صاحب کے خلا ف لکھنے پر آپ کو اتنی ذہنی کوفت ہوگی اور آپ اسقد ر برہم ہوجا ئںن گے ۔میں آپ سے اپنے کےر کی معذرت چا ہتا ہو ں اور آئندہ کے منصو بو ں کوفی الفو ر منسوخ کر تا ہو ں۔بعد ازاں پر ویز بزمی صاحب کا میر ے نا م خط بھی آیا تھا ۔جہا ں تک مجھے یا د پڑ تا ہے ،یہ خط جا وید اختر بھٹی صا حب کی نظر سے بھی گذ را ہے ۔ اس خط مںئ یہی لکھا تھا کہ “بلے صا حب کے حکم پر مںو نے قا سمی صاحب کے خلا ف لکھنے کا ارادہ تر ک کر دیا ۔کیو نکہ ان کے حکم کے سا منے مرکے ارادے یا خواہش کی کو ئی اہمیت نہں “۔بے شک یہ پر ویز بزمی صاحب کی اعلی ظر فی تھی ۔ اس سے یہ بھی ثا بت ہو ا کہ وہ ابو کا کس قد ر احتر ام کر تے تھے ۔جب قا سمی صا حب کوکسی طو ر اس با ت کا علم ہوا تو انہوں نے ابو سے کہا “فخر الد ین بلے صا حب آپ کو مر ے حو الے سے لکھے گئے مضامین پر تشویش ہو ئی اور ذہنی اذیت بھی ۔ گو یا آپ کی ذہنی کوفت کا با عث کسی نہ کسی حوا لے سے مں ہی بنا۔ لہذا مںک معذ رت خواہ ہو ں “۔
سید ہ ہا نی ظفر کی ولا دت کی مبا دکبا د کےلئے آنے والو ں مںم بھی احمد ند یم قا سمی با زی لے جا نے والو ں میں تھے ۔لا ہو ر سے ملتا ن اور پھر ملتان سے کراچی سکونت اختا ر کرنے پر بھی قاسمی صا حب سے مسلسل رابطہ قا ئم رہا۔ مجھے اور مرےی بہن عذرا کما ل کوکراچی میں بھی ان کی میزبا نی کا اعزاز حا صل رہا ۔وہ خرہ یت دریا فت کرنےکیلئے فون کیا کرتے تھے ۔ ایک مر تبہ کسی تقر یب کے حوالے سے احمدند یم قا سمی ‘منصور ہ احمد ‘محسن احسا ن اور احمد فر از کراچی آئے ہو ئے تھے ۔قا سمی صا حب نے آتے ہی مجھے مطلع کاا ۔ پھر مںص ،میری بہن عذ را کما ل اور کما ل اختر صا حب انہں اپنے ساتھ لے آئے ۔گھنٹوں محفل جمی رہی۔ دنیا جہان کی باتیں ہوئیں ۔
احمد ندیم قا سمی صا حب بہت متحمل مزاج تھے۔ حد سے زیا دہ درگزر سے کا م لتےن تھے ۔یہ ایک عا م تا ثرتھا ۔میں چا ہنے کے با وجو د بھی یقین نہںہ کرپا تا تھا ۔ لہٰذامںے نے 1989مں ان کے چند فنی اور شخصی پہلو و¶ں کے حوالے سے ایک مضمو ن لکھا، جسے تنقید ی مضمو ن کہنا زیا دہ منا سب ہو گا ۔ اور جب مجھے یہ یقین ہو گا کہ یہ تحر یر ان کی نظر سے گذ ر چکی ہے تو پھر مں “فنو ن “کے دفتر ان سے ملنے پہنچ گیا۔ ان کے طر زِعمل مںو معمو لی سی بھی منفی تبد یلی دیکھنے میں نہیں آئی ۔ وہ ہمشہو کی طر ح اپنی نشست سے اُٹھ کھڑے ہو ئے اور کہا “آئیے ، آئیے ۔ آپ کو دیکھے ہو ئے تو چند روز بھی گذ ر جا ئںو تو لگتا ہے کہ کئی بر س بیت گئے”۔
پھر کچھ اِدھر اُدھر کی با تںو ہو ئیں مگر مجھ سے رہا نہ گیا۔ میں نے پوچھ ہی لیا کہ ” قا سمی صاحب وہ مضمو ن آپ کی نظر سے گذ را”۔قاسمی صا حب اپنی نشست سے دو با رہ اُٹھ کھڑے ہوئے۔ مجھے گلے سے لگا کر کہا “سچ پو چھےق تو آپ کا مضمو ن مجھے بے حد پسند آیا اور مںل اس کو پڑ ھ کر بے حد خوش ہو ا ۔ آپ نے مجھے حقیقتاً اپنا ئت کا احسا س دلا یا ہے اور یہ مضمو ن آپ کا مجھ پر ایک احسا ن ہے “۔
اس عہد کے افسا نو ی ادب کے حو الے سے بھی احمد ند یم قا سمی صا حب کا نا م اور مقا م بہت معتبر اور نما یا ں نظر آتا ہے ۔ لکنھ انھو ں نے جوخو بصو رت اور منفر د افسا نے تخلیق کئےہیں ،ان کے پشت نظر بجا بطو ر پر انہں اکسو یں صد ی کا افسا نہ نگا ر قر ار دیا جا سکتا ہے ۔


وہ کبھی”چوپا ل”مں بٹھے دکھا ئی دیتے اور کبھی “سےلا ب وگر داب”سے نبرد آزما”با زارِ حاچ ت “سے گذ رتے ہو ئے اپنے “آس پا س “درو دیوا رکا “سنا ٹا “دیکھ کر ان کے اند ر کا افسا نہ نگا ر جا گ اُٹھتا ۔ کبھی ان کے ہا تھ میں ” نیلا پتھر “دکھا ئی دیتا اور کبھی “کپا س کے پھو ل”انہو ں نے “گھر سے گھر تک “جو طو یل مسا فت طے کی ہے، اس کی بنا پر ان کے تلو وں مںت آبلے پڑ گئے ۔ لکنس پھر بھی فکر و نظر “کا مر کز “بر گ ِحنا”ہے “بر گِ حنا”کے ذکر سے آنچل کا تصو ر ضر ور ابھر تا ہے اور بے شک ان کے خو بصو رت افسا نو ں میں “طلو ع و غر وب”کے منظر نے مجھے ہمشہا بہت متا ثر کیا ۔
پھر 2006مںن جب ان کی علا لت شد ت اختاع ر کر تی چلی گئی ۔ اس دوران بھی ان سے مسلسل رابطہ قا ئم رہا ۔اکثر یہ بھی ہو تا کہ مںد فو ن کر تا تو منصو رہ احمد فر ما تںا کہ با با سو رہے ہیں یا اس وقت ان کی حا لت ایسی نہیں ہے کہ بات کرسکیں ۔ میں یہ صورت حال جان کر فون بند کردیتا مگر جسےب ہی ان کی حا لت بہتر ہو تی یا وہ نیند سے بدن ار ہو تے تو فو راً ان کا فو ن آتا اور وہ فر ما تے کہ میں اب بہتر محسو س کر رہا ہوں ، شکر ہے اللہ کا کہ طبیعت کا فی بہتر ہے ۔ لکن جب بھی میں یہ کہتا کہ میں آکر دیکھتا ہوں کہ طبیعت کتنی بہتر ہے تو فر ما تے کہ آپ یقین فر ما ئےی بہتر ہے، وگر نہ مںو آپ سے خو د کہہ دےتا کہ مجھ سے مل جا ئیے۔ ایک مر تبہ انہو ں نے گلزار صا حب سے بھی یہ کہہ کر با ت کروائی کہ دیکھئے مجھے اللہ نے آپ جسے اور اُن جیسے کتنے چا ہنے والے اور محبت کر نے والے عطا فر ما ئے ہں ۔اس دنا سے کوچ کر جا نے سے چند روز قبل میری قا سمی صا حب سے فو ن پر با ت ہوئی ۔کچھ ہی دیر بعد ہما رے افسر اعلی نے طلب فر ما لیا اور کہا آج آپ سے ذاتی فوا ر درکا ر ہے ۔ مںہ نے کہا آپ حکم فر ما ئیے۔ مجھے ابھی ابھی لا ہو ر کے لئے روانہ ہو نا ہے، ایک بہت اہم مٹینگ ہے ۔
لاہور پہنچنے کے پا نچ گھنٹے بعد واپسی کی فلا ئٹ کی بکنگ بھی کنفر م ہے، مگر جن کے ساتھ پر وگر ام طے تھا وہ اچا نک بیما ہو گئے ہںپ۔ اُن کی عد م مو جو د گی میں میری معا ونت آپ ہی فر ما سکںر گے ۔ بزرگو ار کا ایسا عا جزانہ اند از تھا کہ ہم سے انکا ر کرنے کی ہمت نہ ہوئی ۔ مگر ہم نے شر ط عا ئد کردی کہ ہما ری بھی وہا ں ایک نجی مصر وفیت ہو گی ۔ اس کے لئے ہمیں ایک ڈیڑھ گھنٹہ درکا ر ہو گا ۔ یو ں اچا نک لا ہو ر پہنچے ، مٹینگ ہو ئی اور ہم نے واپسی کے مقر رہ وقت کے حسا ب سے ڈیڑھ گھنٹہ قبل اجا زت چا ہی ۔ منصو رہ احمد اور خا لد احمد بھا ئی صا حب کو فون کا ۔ان کی مو جو د گی کو بھی یقینی بنا یا اور یو ں تقر یباً پچا س پچپن منٹ کی احمد ند یم قا سمی صاحب سے ملا قا ت ہو ئی ۔ دھڑ کا تو تھا مگر معلو م نں۔ی تھا کہ یہ آخر ی ملا قا ت ہے ۔10جو لا ئی کو منصو رہ احمد کا فو ن آیا ۔بھر ائی ہو ئی آواز مں کہا کہ با با چلے گئے ۔
احمد ند یم قا سمی صا حب کے فلسفہ حاص ت مںا انسا ن اور انسا نیت سے محبت پر بہت زور دیا گیا ہے ۔ اللہ سے محبت کر نے کےلئے انسا ن سے محبت کرنا ضر وری ہے اور اللہ کی کبر یا ئی کوتسلیم کر نے کے ساتھ سا تھ اشر ف المخلو قا ت کی عظمت کو پہچا ننا بھی اشد ضر ور ی ہے ۔ احمد ندیم قا سمی صاحب کایہ شعر ملا حظہ ہو ۔
اس حو الے سے کہ شہ پا رئہ تخلیق ہے وہ
مجھ کو انسا ن سے خو شبوئے خدا آتی ہے

تحریر :سید ظفر معین بلے جعفری

SHARE

1 COMMENT

  1. بہت عمدہ تحریر ھے جناب ظفر معین بلے صاحب کی۔ جس انداز میں انہوں نے احمد ندیم قاسمی صاحب کو یاد کیا ھے اور شانداف خراج تحسین پیش کیا ھے یہ انہی کا طرہء امتیاز ھے سیدزادہ سلامت رھے آمین

LEAVE A REPLY