ملکی معیشت اور کرنسی کا دفاع کر سکتے ہیں، قطری وزیر خزانہ

0
197

عرب ممالک کی طرف سے پابندیوں کے باوجود قطر اپنی معیشت اور کرنسی کا دفاع کر سکتا ہے۔ قطری وزیر خزانہ علی شریف العمادی کے بقول بہت سے لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ صرف قطر کو ہی نقصان ہو گا، لیکن ایسا نہیں ہے۔

ان کے بقول اگر قطر کو ایک ڈالر کا گھاٹا ہوا، تو دوسروں کا بھی ایک ڈالر ضائع ہو گا۔ قطر پر پابندیوں کے بعد ملکی کرنسی کی قدر میں دس فیصد تک کی کمی واقع ہو چکی ہے۔ العمادی نے مزید کہا کہ ابھی تک ملک میں اشیائے صرف کی کوئی قلت نہیں تاہم ضرورت پڑنے پر ترکی، مشرق بعید اور یورپ سے اشیائے صرف درآمد کی جا سکتی ہیں۔

سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، بحرین اور مصر کی جانب سے قطر کے سفارتی اور تجارتی بائیکاٹ کے بعد قطر کا حمد بین الاقوامی ہوائی اڈا ویران ہوگیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ہوائی اڈے کی تصاویر میں ہر طرف ہو کا عالم دیکھا جا سکتا ہے ، سیاحت اور فضائی سفر سے متعلق ویب سائٹ پر بتایا گیا ہے کہ سکیورٹی پوائنٹس پر چیکنگ کیلئے نصب مشینیں بند ہیں، مسافروں کی رہنمائی کیلئے لگائی گئی سکرینوں پر زیادہ تر منسوخ ہونیوالی پروازوں کی اطلاعات فراہم کی جا رہی ہیں۔

خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق قطری ریال کی دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں قیمت گرنے کے نتیجے میں قطر کے بیشتر منی ایکسچیجرز کےپاس امریکی ڈالرکی شدید قلت پائی جا رہی ہے۔

خبر رساں ادارے’رائٹرز‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ قطر میں کرنسیوں کو تبدیل کرنے والے بیشتر مراکز کےپاس امریکی ڈالریا تو سرے سے ختم ہوگئے ہیں یا ان کے پاس امریکی کرنسی محدود پیمانے پر باقی رہ گئی ہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ قطر میں امریکی کرنسی کی مقدار میں کمی سب سے بڑی وجہ دوحہ اور پڑوسی ملکوں کےدرمیان پایا جانے والا حالیہ سفارتی، اقتصادی اور تجارتی بحران ہے۔ جب سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطری حمایت یافتہ دہشت گرد گروپوں اور شخصیات کی فہرست جاری کی گئی ہے تب سے نہ صرف قطری ریال کی قیمت ڈالر کے مقابلے میں غیرمعمولی حد کم ہوئی ہے بلکہ قطری مارکیٹ سےڈالر غائب ہونے لگا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر خلیجی ملکوں کےساتھ قطر کا موجودہ بحران ختم نہیں ہوتا تو قطری کرنسی کی قیمت میں مزید کمی آسکتی ہے۔

بنکاروں کا کہنا ہے کہ قطری بنکوں کے پاس 60 ارب قطری ریال کی رقم موجود ہے۔ امریکی کرنسی میں یہ رقم 16 ارب ڈالر کے برابر ہے۔ ان میں دوسرے ممالک کے ایجنٹوں اور خلیجی شہریوں کی امانتیں بھی شامل ہیں۔

حال ہی میں اسٹینڈر اینڈ بورز نے قطری قومی بنک کا درجہ کم کردیا تھا۔ ’کیو این بی‘ ملک کا سب سے بڑا بنک سمجھا جاتا ہے مگر اس کا درجہ کم کرکے قطر کمرشل بنک، دوحہ بنک اور قطر اسلامی بنک کے برابر کردیا گیاتھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY