اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں نہ رکھنے کا حکم دیدیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو جیل میں مبینہ قید تنہائی میں رکھنے کیخلاف درخواستوں کا فیصلہ ہدایات کیساتھ نمٹا دیا۔
علیمہ خان نے بانی پی ٹی آئی جبکہ مبشرہ خاور مانیکا نے بشریٰ بی بی کی قید تنہائی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
اسلام آ باد ہائیکورٹ کے فیصلے میں جیل حکام کو بشریٰ بی بی سے بانی پی ٹی آئی کی ملاقات کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سپرینٹنڈنٹ اڈیالہ جیل یقینی بنائیں کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں نہ رکھا جائے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جیل قوانین کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی فیملی سے ملاقات کروائی جائے، اور عمران خان کی بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کروائی جائے۔
عدالت کے فیصلے میں عمران خان کو روزانہ کی بنیاد پر اخبارات اور کتابیں فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی آڈیو ریکارڈ کرکے اس کا غلط استعمال ہو تو یہ سہولت واپس لے لی جائے، بانی پی ٹی آئی کو جیل رولز کے مطابق طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے نصرت بھٹو کیس، بیگم شمیم آفریدی کے فیصلوں کے مطابق درخواستیں قابل سماعت قرار دیتے ہوئے سپرینٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو عدالتی ہدایات پر عمل یقینی بنانے کا حکم دیا اور کہا کہ 15 دن میں عملدرآمد رپورٹ جمع کرائی جائے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور جیل میں حالات سے متعلق دعوؤں پر حکومت نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے الزامات مستردکردیے۔
حکومت کی جانب سےکہا گیا ہےکہ بانی پی ٹی آئی کو مناسب طبی سہولیات، اہل خانہ سے ملاقات، فون کالز، گھر کے پکےکھانے اور ورزش کی سہولت حاصل ہے۔
حکومت کے مطابق اہلخانہ کی عمران خان سے تقریباً 198 ملاقاتیں ہوئیں اور 30 طبی معائنے کیےگئے ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے دونوں بیٹوں کے پاس درست NICOP موجود ہیں ، جو پاکستان میں داخلے کے لیے قابل قبول سفری دستاویز ہے ۔
حکومت نے سی این این پر زور دیا کہ آئندہ رپورٹنگ میں تصدیق شدہ جیل اور طبی ریکارڈ کو سیاسی نوعیت کے متنازع دعوؤں سے الگ رکھا جائے۔
سی این این کی صحافی بیکی اینڈرسن نے بیرونِ ملک مقیم پی ٹی آئی رہنما کا ایک انٹرویو نشر کیا تھا ، جس میں اس رہنما نے بانی پی ٹی آئی کی صحت پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
بیکی اینڈرسن نے حکومتی مؤقف بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کر دیا ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے ذاتی ایکس اکاؤنٹ کی خاموشی کو پارٹی کے اندر ممکنہ مثبت پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سیاسی کشیدگی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
عمران خان کے ذاتی ایکس اکاؤنٹ @ImranKhanPTI پر پانچ ماہ سے زائد عرصے سے براہِ راست ان سے منسوب کوئی نیا پیغام پوسٹ نہیں کیا گیا۔ اس نوعیت کا آخری پیغام 21 مارچ 2026 کو جاری کیا گیا تھا، جب عمران خان کے بیٹوں نے ان سے فون پر بات کرنے کے بعد ان کی جانب سے ایک بیان پوسٹ کیا تھا۔
یہ طویل وقفہ اس لیے قابلِ ذکر ہے کیونکہ اس سے قبل خان کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ، خصوصاً فوج کی اعلیٰ قیادت کے خلاف، سخت انداز میں استعمال ہوتا رہا تھا۔ سیاسی محاذ آرائی میں شدت کے دوران ان سے منسوب پیغامات باقاعدگی سے سامنے آتے تھے اور پی ٹی آئی کے آفیشل سوشل میڈیا نیٹ ورک کے ذریعے تیزی سے بڑے پیمانے پر پھیلائے جاتے تھے۔ تاہم اس طرح کے پیغامات نے پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان خلیج کو مزید وسیع کیا۔
پی ٹی آئی کے اندر بہت سے ایسے افراد، جو عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان فاصلے کم کرنا چاہتے تھے، اس وجہ سے ناراض تھے کہ یہ پیغامات اکثر فوجی قیادت پر سخت تنقید پر مبنی ہوتے تھے۔
دسمبر 2025 میں صورتحال خاص طور پر کشیدہ ہوگئی تھی، جب فوج نے سرِعام عمران خان پر الزام عائد کیا کہ وہ جیل میں ان سے ملاقات کرنے والوں اور سوشل میڈیا کو مسلح افواج پر حملوں اور تقسیم پیدا کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
اس سے قبل خان کی ایک بہن نے جیل میں ان سے ملاقات کی تھی اور فوج پر ان کی تنقید باہر پہنچائی تھی۔ اس کے بعد عمران خان سے ملاقاتوں کا معاملہ پی ٹی آئی اور حکام کے درمیان محاذ آرائی کا ایک بڑا نقطہ بن گیا۔
حکومت کا مؤقف تھا کہ جیل میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران سیاسی گفتگو کی جا رہی ہے اور خان جیل سے ملاقات کرنے والوں کے ذریعے اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اب پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کا خیال ہے کہ عمران خان کی جانب سے مسلسل براہِ راست پیغامات کی عدم موجودگی ممکنہ طور پر بہتر سیاسی ماحول پیدا کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق انتہائی جارحانہ پیغامات میں کمی، خصوصاً فوج اور اس کی اعلیٰ قیادت پر ہونے والی تنقید میں کمی، پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان سیاسی معاملات کو معمول پر لانے کے لیے کچھ گنجائش پیدا کر سکتی ہے۔
تاہم ذرائع نے واضح کیا کہ اسے عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کسی سیاسی معاہدے یا مفاہمت کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق، نسبتاً پُرسکون پیغام رسانی کا ماحول محض ایسی صورتحال پیدا کرنے میں مدد دے سکتا ہے جس میں معمول کی سیاست کی بحالی ممکن ہو، بشرطیکہ یہ سلسلہ جاری رہے۔ اس تبدیلی کی اہمیت اس وقت مزید واضح ہوتی ہے جب جیل میں ہونے والی ملاقاتوں اور ان کے بعد میڈیا کو دی جانے والی بریفنگز کے پی ٹی آئی کی سیاست میں کردار کو دیکھا جائے۔
خاندان کے افراد، خصوصاً عمران خان کی بہنیں، ان سے ملاقاتوں کے بعد اکثر سامنے آتی تھیں اور وہ ان کے تازہ سیاسی مؤقف کے طور پر جو کچھ بیان کرتی تھیں، اسے عوام تک پہنچاتی تھیں۔ علیمہ خان بالخصوص عمران خان کے خیالات عوام تک پہنچانے والی سب سے نمایاں آوازوں میں شامل رہی ہیں۔
حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے اس طریقۂ کار پر سخت اعتراض کیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ جیل کے اندر سیاسی پیغامات تیار کیے جا رہے ہیں اور پھر انہیں جیل سے باہر لا کر محاذ آرائی کو مزید شدت دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق توہین عدالت کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی گئی۔
سپریم کورٹ میں درخواست کی سماعت کے لیے 16 ستمبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔
رجسٹرار آفس کے مطابق متعلقہ کیٹیگری میں اس نوعیت کی 94 درخواستیں پہلے سے زیر التوا ہیں، عظمیٰ خان کی توہین عدالت کی درخواست ان میں سب سے آخر پر دائر ہوئی۔
سپریم کورٹ کے جاری کردہ روسٹر کے مطابق 16 ستمبر کو بینچ نمبر پانچ جسٹس شاہد وحید ، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل ہوگا۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست پر رجسٹرار سپریم کورٹ کا اعتراض ختم کر دیا گیا۔
بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کے معاملے پر عمران خان کی بہن عظمیٰ خان نے حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی جس میں وزیراعظم شہباز شریف، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعات عطا تارڑ سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا تھا۔
درخواست میں عمران خان کو علاج کے لیے شفا اسپتال منتقل کرنے اور ان کے میڈیکل ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔ اس حوالے سے گزشتہ روز پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ سپریم کورٹ بھی آئے تھے تاکہ درخواست کو جلد سماعت کے لیے مقرر کروایا جا سکے۔
سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے بانی پی ٹی آئی کی بہن عظمیٰ خان کی توہین عدالت کی درخواست اعتراض لگا کر واپس کردی تھی۔
ذرائع کے مطابق رجسٹرار آفس کے اعتراض میں کہا گیا تھا کہ درخواست گزار نے فریقین پر توہین عدالت کے الزامات کی فہرست فراہم نہیں کی۔
پی ٹی آئی کی جانب سے اعتراض دورکر کے درخواست دوبارہ دائر کردی گئی ہے اور رجسٹرار آفس سپریم کورٹ نے توہین عدالت کی درخواست کو نمبر بھی الاٹ کر دیا ہے، عظمیٰ خان کی توہین عدالت کی درخواست کو 8/2026 نمبر لگایا گیا ہے۔
………………
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما خان نے برطانوی حکومت سے عمران خان کی قید اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھانے اور خاموشی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔
عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما خان نے سوشل میڈيا پر اپنے پیغام میں کہا کہ عمران خان 3 سال سے سیاسی انتقام کا نشانہ بن رہے ہيں اور طویل عرصے سے قید تنہائی میں ہیں۔
انہوں نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی قید اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھائيں اور خاموشی ختم کریں۔
جمائما خان نے لکھا کہ اس معاملے پر سپریم کورٹ کے حکم پر بھی عمل نہیں ہورہا، جمائما نے برطانوی حکومت پر زور دیا کہ وہ عمران خان کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اب کھل کر اور واضح طور پر آواز اٹھائے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے حوالے سے جنہوں نے بھی توہین عدالت کی انہیں سزا دی جائے۔
سپریم کورٹ آمد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا چیف جسٹس سے ملاقات کے لیے آئے تھے لیکن مصروفیت کی وجہ سے ملاقات نہ ہوسکی، رجسٹرار سپریم کورٹ سے میری اور لطیف کھوسہ کی ملاقات ہوئی، رجسٹرار نے بینچ کی تشکیل کےحوالے سے یقین دہانی کرائی ہے، آن لائن بھی بینچ کی تشکیل ہوسکتی ہے، امید ہے سپریم کورٹ جلد سماعت مقرر کرےگی۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کرتے، بانی نے ایک منٹ بھی اسپتال نہیں رہنا، صرف ٹیسٹ کرانے ہیں، ڈیل کرنا ہوتی تو بانی تین سال قید نہ کاٹتے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا وزیراعلیٰ کےپی سہیل آفریدی کسی کے قریبی نہیں بلکہ وہ 4 کروڑ عوام کے چیف ایگزیکٹو ہیں، وزیراعلیٰ کےپی بانی کے منتخب کردہ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ہیں، بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل کیا جائے، ہم نے اس پر سیاست نہیں کرنی تھی، بانی کاٹیسٹ کرائیں، انہیں اسپتال منتقل کریں یہ ان کا آئینی حق ہے۔
ان کا کہنا تھا سپریم کورٹ کا حکم واضح تھا کہ ایک بورڈ بنےگا جس میں بانی پی ٹی آئی کی بہن بھی شامل ہوں گی، ابھی سپریم کورٹ کا حکم نامہ قابل عمل ہے، آپ انہیں اسپتال منتقل کر سکتے ہیں، خدارا بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی صحت کو سنجیدہ لیا جائے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا ہم بانی پی ٹی آئی کی وجہ سے مقبول ہیں، سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق جو بیان دیا وہ درست ہے، جس نے بھی روکا سہیل آفریدی نے ان سے متعلق بات کی ہے، سہیل آفریدی کے ایک جملے کو لے کر اصل مدعا سے ہٹا جا رہا ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف پی ٹی آئی کی جانب سے دائر کردہ توہین عدالت کی درخواست میں وزیراعظم شہباز شریف کو فریق بنانا لیکن وزیر داخلہ محسن نقوی کو شامل نہ کرنا، پارٹی کے اندر اور باہر سوالات کا باعث بن گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ اقدام پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے اختیار کردہ مؤقف کے برعکس تھا۔
اس تنازع کا بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا توہین عدالت کی درخواست کا بنیادی مقصد سپریم کورٹ کے 18؍ اگست کے حکم پر عملدرآمد کرانا تھا یا اس پر عملدرآمد نہ کرنے کے مبینہ طور پر ذمہ دار افراد کو سزا دلوانا۔
کارروائی سے واقف ذرائع نے بتایا کہ یہ معاملہ پی ٹی آئی کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں زیر بحث آیا تھا جہاں پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اس بات پر زور دیا تھا کہ معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے بلکہ یہ کام پارٹی کے وکلا پر چھوڑ دینا چاہیے تاکہ وہ جیل میں قید بانی چیئرمین کے مفاد میں خالصتاً قانونی اور پیشہ ورانہ بنیادوں پر کارروائی کریں۔
یہ بھی پڑھیں
حکومت نے عمران خان کی نجی اسپتال منتقلی کے عدالتی حکم کیخلاف نظرثانی اپیل میں فیصلے کو قانونی اختیار سے تجاوز قرار دیدیا
عمران خان تندرست ہیں، ان کی بہن اگرکوئی این آراو چاہتی ہیں تویہ ان کی اپنی خواہش ہے: طلال چوہدری
عمران خان کی اسپتال منتقلی کا حکم، اسلام آبادانتظامیہ نے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی جلد سماعت کی درخواست دائرکردی
ذرائع کے مطابق اس کا واضح مقصد سپریم کورٹ کے اس حکم پر عملدرآمد یقینی بنانا تھا جس کے تحت عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرکے عدالت کی جانب سے طے کردہ انتظامات کے تحت علاج فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی چیئرمین کا مؤقف تھا کہ توہین عدالت کی کارروائی کا مقصد سیاسی شخصیات کو سزا دینا نہیں بلکہ عدالتی حکم پر عملدرآمد یقینی بنانا ہونا چاہیے۔
اجلاس میں یہ پوائنٹ بھی اٹھایا گیا کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد کے لیے کی جانے والی کارروائی میں ان متعلقہ انتظامی سربراہان کو توجہ کا مرکز بنایا جا سکتا ہے جو حکم پر عملدرآمد کے ذمہ دار ہیں، جن میں سیکرٹری داخلہ اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری شامل ہیں، بجائے اس کے کہ اعلیٰ سیاسی شخصیات کو فریق بنایا جائے۔
ذرائع کے مطابق دلیل یہ تھی کہ وزیراعظم اور وزیر داخلہ دونوں کو فریق بنانے سے کارروائی واضح طور پر سیاسی رنگ اختیار کرتی ہوئی نظر آسکتی ہے اور ممکن ہے کہ اس سے پی ٹی آئی کے بنیادی مقصد یعنی عدالتی حکم پر عملدرآمد یقینی بنانے سے توجہ ہٹ جائے تاہم جب بعد ازاں درخواست تیار کی گئی تو وزیراعظم شہباز شریف کو فریق بنایا گیا جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی کو شامل نہیں کیا گیا۔ پارلیمانی پارٹی کو اس اقدام کی وجہ کا علم نہیں ہے۔
اس کے بعد سے وزیر داخلہ کو درخواست میں شامل نہ کیے جانے کا معاملہ سیاسی حلقوں اور میڈیا میں زیر بحث ہے، پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم نے اس کی مختلف وضاحت پیش کی ہے۔
بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کسی فرد کو فریق بنانے سے قبل اس فرد کو سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہ کرنے کے فیصلے سے جوڑنے والا ثبوت موجود ہونا ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ وزیر داخلہ کو فریق نہیں بنایا گیا جب کہ سیکرٹری داخلہ کو نامزد کیا گیا ہے۔ عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کی جانب سے وکیل عزیر کرامت بھنڈاری کے ذریعے دائر کی گئی درخواست میں وزیراعظم، وزرائے قانون و اطلاعات، اسلام آباد کے چیف کمشنر، سیکرٹری داخلہ، پنجاب کے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات اور اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں توہین عدالت کی کارروائی کے ساتھ عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کی ہدایت پر عملدرآمد کے لیے فوری اقدامات کی استدعا کی گئی ہے۔
دوسری جانب حکومت نے سپریم کورٹ کے اصل حکم کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پی ٹی آئی کارکنوں نے سکیورٹی کی ایسی صورتحال پیدا کر دی تھی جس کے باعث عمران خان کو شفاء اسپتال منتقل نہیں کیا جا سکا۔
اس کے بجائے انہیں طبی معائنے کے لیے پمز اسپتال لے جایا گیا اور بعد ازاں اڈیالہ جیل واپس منتقل کر دیا گیا۔
یہ تنازع اب صرف ایک وزیر کا نام درخواست میں شامل نہ کیے جانے تک محدود نہیں رہا۔ اس سے ایک بڑا سوال پیدا ہوتا ہے کہ توہین عدالت کی کارروائی کی نوعیت کیا ہے، یعنی آیا پارٹی عدالتی حکم پر عملدرآمد کرانے کا طریقہ کار اختیار کرنا چاہتی ہے یا ان افراد کے خلاف کارروائی کی خواہاں ہے جنہیں وہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی کا ذمہ دار سمجھتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت کے لیے ابتداء میں زور ابتدائی موقف یعنی عدالتی حکم پر عملدرآمد پر تھا تاہم دائر کی گئی درخواست نے اس بحث کو جنم دے دیا ہے کہ آخری میں اختیار کی جانے والی قانونی حکمتِ عملی اس مؤقف کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے یا نہیں۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
وفاقی حکومت نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے عبوری حکم کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کرتے ہوئے اسے قانونی اختیار سے تجاوز قرار دیا ہے۔
حکومت کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ جیل میں قیدی کے علاج کے لیے پاکستان پریزن رولز 1978 میں واضح طریقہ کار موجود ہے جس کے تحت ضرورت پڑنے پر قیدی کو سرکاری سول یا ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کیا جاسکتا ہے، نجی اسپتال کا قانون میں تصور موجود نہیں۔
حکومت کے مطابق قیدی کو اپنی پسند کے نجی ڈاکٹر سے علاج کرانے کا حق بھی جیل قوانین یا پریزنز ایکٹ میں موجود نہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی اپیل پہلی مرتبہ سماعت کے لیے مقرر ہوئی تھی انہیں نوٹس بھی نہیں دیا گیا تھا، اس کے باوجود عبوری حکم جاری کر دیا گیا۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ عدالت نے طبی رپورٹ کی بنیاد پر صحت بگڑنے کا تاثر لیا حالانکہ رپورٹ میں ایسی کوئی واضح بات نہیں تھی جبکہ میڈیکل بورڈ عمران خان کا متعدد مرتبہ معائنہ کرچکا ہے۔
حکومت کے مطابق ایسے طبی معاملے میں ماہرین کی رائے لینی چاہیے تھی۔ درخواست میں دفعہ 561 اے ضابطۂ فوجداری کے استعمال پر بھی اعتراض کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ اختیار جیل انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
حکومت کا مزید کہنا ہے کہ عبوری مرحلے پر عمران خان کی چاروں درخواستیں منظور کی گئیں جن میں شفا اسپتال منتقلی، ذاتی ڈاکٹروں تک رسائی، اہل خانہ سے ملاقات اور طبّی رپورٹیں وکیل کو فراہم کرنے کی اجازت کی درخواستیں شامل تھیں یوں عبوری حکم میں ہی انھیں حتمی ریلیف دے دیا گیا۔
درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نجی اسپتال کی خصوصی سہولت دیگر قیدیوں کے لیے بھی مثال بنے گی اور جیل قوانین کے تحت اسی نوعیت کے مطالبات کا سیلاب آسکتا ہے۔ حکومت نے اسے مساوی سلوک کے اصول کے خلاف قرار دیا ہے۔
حکومت نے سپریم کورٹ سے 18 اگست کا حکم واپس لینے یا اس پر نظرثانی کرنے کی استدعا کی ہے
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
عمران خان کی اسپتال منتقلی کا حکم، اسلام آبادانتظامیہ نے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی جلد سماعت کی درخواست دائرکردی
لام آباد انتظامیہ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی کےسپریم کورٹ کے 18اگست کے حکم کے خلاف نظر ثانی کی جلد سماعت کی درخواست دائرکردی۔
چیف کمشنر اسلام آباد نے دائر درخواست میں استدعا کی ہےکہ بانی پی ٹی آئی سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف نظر ثانی درخواست کی جلد سماعت کی جائے، نظر ثانی پٹیشن میں 18 اگست کے عدالتی حکم پر نظرثانی، ترمیم اور اسے واپس لینے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست میں بانی پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل سے نجی اسپتال منتقل کرنےکے احکامات کو چیلنج کیا گیا ہے۔درخواست میں میڈیکل پینل کے ذریعے طبی معائنے و علاج سے متعلق احکامات بھی چیلنج کیےگئے ہیں۔
درخواست چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائرکی گئی ریویو پٹیشن میں کی گئی ہے۔
ریویو پٹیشن میں27 ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار پر قانونی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہےکہ یہ معاملہ صرف طبی سہولیات کا نہیں بلکہ قانونی و آئینی دائرہ اختیار سے متعلق بھی ہے۔
درخواست میں آرٹیکل 175(2) اور جیل قوانین سے متعلق بھی قانونی سوالات اٹھائےگئے ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہےکہ عدالتی حکم وقت کی پابندی پر مبنی تھا، اس لیے معاملےکی فوری سماعت ضروری ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
ایک اہم اور باخبر ذریعے نے سابق وزیراعظم عمران خان کیلئے کسی بھی طرح کی ’’ڈیل یا ڈھیل‘‘ کے امکان، نیز وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان اختلافات کی رپورٹس کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے دونوں امکانات کو ’’صفر‘‘ قرار دیا ہے۔
سیاسی اور حکومتی سطح پر ہونے والی پیشرفت پر گہری نظر رکھنے والے اس ذریعے نے دونوں صورتوں کے امکان کو ’’صفر‘‘ قرار دیا۔ یہ بیان سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کے طبی علاج سے متعلق حکم کے بعد جاری ہونے والی شدید قیاس آرائیوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
توقع تھی کہ عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے گا، تاہم انہیں شفاء انٹرنیشنل کی بجائے پمز لے جایا گیا اور بعد ازاں اڈیالہ جیل واپس منتقل کر دیا گیا۔
اس پیش رفت کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں کہ آیا یہ معاملہ پی ٹی آئی کے بانی کیلئے کسی ممکنہ ’’ڈیل یا ڈھیل‘‘ سے جڑا تھا۔ جب ذریعے سے خاص طور پر پوچھا گیا کہ کیا عمران خان کیلئے کسی ڈیل یا کسی طرح کی ڈھیل کا کوئی امکان موجود ہے تو انہوں نے دوٹوک جواب دیا: ’’صفر‘‘ اس ذریعے سے پھر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان اختلافات سے متعلق رپورٹس اور قیاس آرائیوں کے بارے میں پوچھا گیا۔ اس بار بھی جواب تھا ’’صفر‘‘۔
ذریعے نے کہا کہ پاکستان میں اس نوعیت کی قیاس آرائیاں کوئی غیر معمولی بات نہیں، جہاں سیاسی اور عسکری قیادت سے متعلق پیش رفت کو تاریخی طور پر سول حکومت اور عسکری اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ’’ڈیل‘‘، ’’ڈھیل‘‘ یا ’’اختلافات‘‘ کے روایتی تناظر میں دیکھا جاتا رہا ہے۔
ذریعے کے مطابق جب بھی کوئی غیر معمولی سیاسی پیش رفت ہوتی ہے تو فوراً یہ قیاس آرائیاں شروع ہو جاتی ہیں کہ کہیں پس پردہ کوئی ڈیل طے کی جا رہی ہے یا سول حکومت اور عسکری قیادت کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔
تاہم، ذریعے نے اصرار کیا کہ موجودہ سیاسی اور ادارہ جاتی انتظام کو پاکستان کے ماضی کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ تقریباً تین سے چار سال قبل تشکیل پانے والے سیاسی انتظام کا حوالہ دیتے ہوئے ذریعے نے کہا کہ شہباز شریف کی قیادت میں سول حکومت اور عسکری قیادت کا سفر ماضی میں دیکھے جانے والے طریقہ کار سے ’’بالکل مختلف‘‘ ہے۔
ذریعے نے اشارہ دیا کہ اس وقت زیر گردش بہت سی رپورٹس زمینی حقائق کے بجائے بعض افراد کی خواہشات یا توقعات کی عکاسی کرتی ہیں۔ تاہم، ذریعے نے موجودہ حالات میں اس تشریح کو مسترد کر دیا۔ فی الحال، اس ذریعے کا اہم پیغام یہی ہے کہ عمران خان کیلئے کوئی ڈیل یا ڈھیل نہیں، اور وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان کوئی اختلافات نہیں ہیں۔
………………….
پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی کے بانی سربراہ عمران خان کی اسپتال منتقلی کے معاملے پر حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی۔
پی ٹی آئی کی جانب سے سلمان اکرم راجا اور عزیر بھنڈاری کی دائر کردہ درخواست میں سپریم کورٹ کے 18 اگست 2026 کے حکمنامے کی مبینہ خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست میں توہین عدالت کے مرتکبین کو شوکاز نوٹس جاری کرنے اور ذاتی حاضری کا حکم دینے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔ عدالت سے جواب دہندگان کو توہینِ عدالت کا مرتکب قرار دے کر قانون کے مطابق سزا دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
عمران خان نے اپنی صحت سے متعلق شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، ان کی بات نہیں سنی جاتی: بہن عظمیٰ خان
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد منتقل کرنے اور ان کا طبی معائنہ کرانے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔
عدالت سے یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ حکم پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے عدالتی افسر کی تعیناتی یا لوکل کمیشن مقرر کیا جائے۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو طبی معائنے کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے تھے تاہم حکومت کی جانب سے عمران خان کو پمز اسپتال منتقل کیا گیا اور ان کا مکمل طبی معائنہ کرایا گیا جس کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اسپتال منتقل نہیں کیا گیا۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دھوکا دیا گیا، ان کی تاریخ دھوکوں سے بھری پڑی ہے، عمران خان کی بہن کو الگ رکھا، ڈاکٹر فیصل سلطان کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال لےگئے، یہ واحد جماعت ہے جس نے سپریم کورٹ پر بھی حملہ کیا تھا، علامہ راجہ ناصر عباس بولے جو فیصلہ ان کی مرضی کے خلاف آئے یہ اس کو نہیں مانتے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں مشترکہ پریس کانفرنس میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا چاہتے ہیں پارلیمنٹ آزاد ہو، رات کو میڈیا نے بتایا کہ بانی کو اسپتال پہنچا دیا گیا ہے تو ہم خوش ہوئےلیکن رات کے اندھیرے میں کس نے کیا کیا؟
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہاکل رات کو جو کچھ ہوا اس کا اندازہ نہیں تھا،کوئی تو ہے جو ملک میں سیاست کو مستحکم نہیں ہونے دے رہا،کوئی تو ہے جو ہمیں سڑکوں پر آنے پر مجبور کر رہا ہے، پی ٹی آئی کا آئندہ کا لائحہ عمل جلد دیا جائے گا۔
سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے کہا ہم نے توہین عدالت نہیں کی، میڈیکل بورڈ تشکیل ہی نہیں پایا، شفاء انٹرنیشنل اسپتال لے جایا ہی نہیں گیا، بانی پی ٹی آئی کے ساتھ سازش کی جارہی ہے، سپریم کورٹ نے پھر حکم دیا انہوں نے نہ مانا تو عوام کو ہی فیصلہ کرنا ہے ، اسی طرح بڑھناہے یا فیصلہ سڑکوں پر کرنا ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
بانیٔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال سے واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
جیل ذرائع کے مطابق عمران خان کو کو شفا اسپتال سے اڈیالہ جیل انتہائی سخت سیکیورٹی میں لایا گیا۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ اڈیالہ جیل واپس منتقلی کے بعد بانی پی ٹی آئی کو ان کے سیل میں شفٹ کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل عمران خان کو سخت سیکیورٹی حصار میں اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
عمران خان کی شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقلی سے قبل آئی جی اسلام آباد نے پولیس افسران کے ہمراہ اسپتال کا دورہ کیا اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔
شفا انٹرنیشنل اسپتال کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔
اسلام آباد پولیس نے شفا اسپتال آنے اور جانے والے راستے ٹریفک کےلیے بند کیے ہوئے تھے۔
شفا انٹرنیشنل اسپتال کے ذرائع کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے، بانی پی ٹی آئی کا چیک اپ کیا جائے گا، 6 ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم بانی پی ٹی آئی کا چیک اپ کرے گی، چیک اپ کے بعد بانی پی ٹی آئی کو اسپتال میں داخل کرنے سے متعلق فیصلہ ہوگا۔
بانی پی ٹی آئی کو ایڈمٹ کرنے کی صورت میں بھی خصوصی اقدامات مکمل کرلیے گئے تھے۔
وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے بانی پی ٹی آئی کو بیرونِ ملک بھیجنے کا امکان بھی ظاہر کیا تھا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو دو روز میں شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔
گزشتہ روز سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کے خلاف دائر نظر ثانی درخواست بعض اعتراض لگا کر واپس کردی تھی۔
……………….
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دورِ حکومت کے عسکری اسٹیبلشمنٹ کے ایک سینئر رکن نے اس دعوے کو غلط قرار دیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کو ممنوعہ منشیات کے مبینہ استعمال کے بارے میں خبردار کیا تھا یا انہیں نشے سے دور رہنے کا مشورہ دیا تھا۔
یہ وضاحت ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب ایک ٹاک شو کی پرانی ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، جس میں عمران خان کی کابینہ کے ایک وزیر کو یہ الزام عائد کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ اس وقت کی عسکری اسٹیبلشمنٹ عمران خان کے مبینہ طور پر ممنوعہ منشیات استعمال کرنے سے آگاہ تھی اور اس نے انہیں نشے سے دور رہنے کا کہا تھا۔
اس دعوے کے بارے میں آج جب اسٹیبلشمنٹ کے سینئر رکن سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کے دوران عمران خان کو ایسی کوئی وارننگ نہیں دی گئی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کے پاس کوئی ثبوت تھا اور نہ ہی کوئی ایسی رپورٹ موجود تھی جو اس بات کی تصدیق کرتی ہو کہ عمران خان منشیات استعمال کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ بڑی حد تک سیاسی اور میڈیا حلقوں میں قیاس آرائیوں کا موضوع تھا، تاہم اسٹیبلشمنٹ کے پاس اس الزام کے حوالے سے کوئی تصدیق موجود نہیں تھی۔ 2023ء میں اس وقت کے وفاقی وزیر جن کا تعلق ایک بٹری سیاسی جماعت سے تھا نے دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد ان کے پیشاب کے تجزیے میں شراب اور کوکین کے جزیات پائے گئے تھے۔ تاہم قومی احتساب بیورو (نیب) کے پاس موجود طبی رپورٹس نے وزیر صحت کے الزامات کی تائید نہیں کی تھی، جون 2023 میں دی نیوز میں شائع ہونے والی ایک خبر میں بھی یہی بتایا گیا تھا۔ نیب کے ایک باخبر ذریعے نے اس وقت دی نیوز کو بتایا تھا کہ بیورو کے پاس موجود عمران خان کے خون اور پیشاب کی رپورٹس میں شراب یا کوکین کے استعمال کا کوئی معمولی سا اشارہ بھی نہیں تھا۔ ذریعے نے کہا تھا کہ رپورٹس میں اس کے برعکس صحت کی معمول کی علامات ظاہر ہوئی تھیں اور ان میں وزیر صحت کی جانب سے کیے گئے دعووں کی تائید نہیں کی گئی تھی۔
عبدالقادر پٹیل نے 26؍ مئی 2023ء کو ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ دورانِ حراست کیے گئے عمران خان کے طبی معائنے میں شراب اور کوکین سمیت ’’زہریلے کیمیائی مواد‘‘ کی موجودگی کا انکشاف ہوا تھا۔
انہوں نے عمران خان کی ذہنی صحت اور استحکام پر بھی سوال اٹھایا تھا۔ بعد ازاں آزاد طبی ماہرین نے ان الزامات کو چیلنج کیا۔ 2023ء کی رپورٹ کے مطابق، طبی مواد کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹروں نے عبدالقادر پٹیل کے دعووں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ رپورٹ میں منشیات کے استعمال اور ذہنی عدم استحکام سے متعلق الزامات کی کوئی تصدیق موجود نہیں تھی۔
بعد ازاں عمران خان نے عبدالقادر پٹیل کو ہتک عزت کا قانونی نوٹس بھیجا، جس میں ان پر اپنی طبی حالت کے بارے میں جھوٹی، گمراہ کن، بدنیتی پر مبنی اور ہتک آمیز معلومات پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
………………..
وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہےکہ ڈاکٹروں نے عمران خان کو صحت مند قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں عطا تارڑ نے کہا کہ قیدی کو 20 اور 21 اگست کی درمیانی شب حفاظتی انتظامات کے تحت اسپتال لے جایا گیا جہاں ماہرِ امراض چشم، ماہرِ امراض قلب اور فزیشن سمیت مستند ڈاکٹروں نےان کامعائنہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی ائی کے کارکنوں کی طرف سے جو سکیورٹی کی صورتحال الشفا ہسپتال کے راستے میں اور باہر پیدا کی گئی اس کے پیش نظر ان کو پمز ہسپتال لے جایا گیا جہاں الشفا ہسپتال کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔













