احسان فراموش ادیب ،شاعر، میڈیا، سرکاری ادبی ادارے اور ہمارا دیمک زدہ معاشرہ الطاف فاطمہ کا مقروض ہے جنکو پاکستان تو کیا خود لاہور کے نام نہاد اہل ادب کی ایک بہت بڑی اکثریت نے جیتے جی برسوں سے فراموش کر رکھا تھا لیکن اس معاشرتی اور ادب منافقت رویے کے باوجود وہ اپنی تخلیقی کام میں آخری دنوں تک مصروف رہیں
اب انکی تدفین کے بعد وہی روایتی بیانات آئیں گے کہ ایسا خلا پیدا ہو گیاجسکا پُر ہونا ممکن نہیں
تخلیق کار جنکو معاشرے کا حساس ترین طبقہ کہا جاتا ہے ہمارے ہاں انکی غالب اکثریت ہی بے حس ہے جس نے اس معاشرے کو زوال کے عروج پر پہنچا دیا ہے
صفدر ھمدانی













