پاکستان مسلم لیگ فنکشنل (پی ایم ایل ایف) کے جام مدد علی نے پاکستانی پیپلز پارٹی (پی پی پی) میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 81 کی نشست سے استعفیٰ دے دیا جسے سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی نے منظور کرلیا ہے۔

استعفے کی منظوری کے بعد صوبائی اسبملی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق پی ایس 81 (سانگھڑ اور میرپور خاص ٹو) کو 6 فروری 2017 سے خالی تصور کیا جائے۔

پی ایم ایل ایف کے سابق رہنما جام مدد علی نے ایک سوال کے جواب میں ڈان کو بتایا کہ وہ پی پی پی کے ٹکٹ پر اس نشست سے دوبارہ الیکشن میں حصہ لیں گے اور عوام کی خدمت جاری رکھیں گے۔

انھوں نے مسلم لیگ فنکشنل کے چیف پیر پگارا کا شکر ادا کیا جنھوں نے پی پی پی میں شمولیت اختیار کرنے کے باوجود انھیں مذکورہ نشست سے مستعفی نہ ہونے کا کہا تھا۔

لیکن ان کا کہنا تھا کہ میرا ضمیر اس بات کی اجازت نہیں دینا کہ، جو نشست مجھے مسلم لیگ فنکشنل کے ٹکٹ سے ملی ہے، میں پارٹی چھوڑنے کے بعد بھی اس حوالے سے صوبائی اسمبلی کا حصہ رہوں۔

ایک سوال، جس پارٹی سے ان کے 23 سالہ تعلقات تھے اسے چھوڑنے کی وجہ کیا ہے؟ کے جواب میں جام مدد علی نے کہا کہ وہ اس بات سے متاثر ہوئے ہیں کہ پی پی پی سندھ کے عوام سے زیادہ مخلص ہے، ان کی پالیسز ایک عام آدمی کی خوشحالی اور سندھ کے تمام علاقوں کی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایک عام پی پی پی کے کارکن کے طور پر کام کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ وہ اس بات سے بھی متاثر ہوئے ہیں کہ، پارٹی کی اعلیٰ قیادت، جس میں سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری شامل ہیں، نے پارٹی کی ملکیت اس کے کارکنوں کو دی ہے۔

جام مدد علی کا کہنا تھا کہ وہ اپنے حلقے کے لوگوں کی خدمت کرنا چاہتے ہیں جو پی پی پی کے اراکین صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں ہونے والے ترقیاتی کاموں سے متاثر نظر آتے ہیں۔

الیکشن ریکارڈ کے مطابق وہ پہلی مرتبہ 94-1993 میں پی ایم ایل ایف کی ٹکٹ پر مذکورہ حلقے سے منتخب ہوئے تھے۔

2002 میں وہ ایک مرتبہ پھر صوبائی اسمبلی کا حصہ بننے، 2008 میں انھوں نے ایک مرتبہ پھر پی ایم ایل ایف کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی۔

وہ بعد ازاں سندھ اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن کے رہنما بھی رہے۔

تاہم جس وقت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے پی پی پی کی اتحادی حکومت سے علیحدگی اختیار کی تو پی پی پی کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے اس وقت کے پیر پگارا مرحوم پیر صبغت اللہ شاہ راشدی سے ملاقات کے بعد انھیں 3 وزرا اور ایک مشیر کو منتخب کرنے کے حوالے سے تجاویز مانگیں۔

بعد ازاں جام مدد علی، امتیاز احمد شیخ اور ڈاکٹر رفیق بھان بھان کو صوبائی وزرا اور امام الدین شوقین کو صوبائی کابینہ میں مشیر مقرر کردیا گیا۔

ایک سوال کے جواب میں جام مدد علی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے پی ایس 81 کی نشست خالی ہونے کے نوٹیفکیشن کے بعد مذکورہ نشست پر 45 روز میں ضمنی انتخابات ہوں گے اور وہ یقینی طور پر دوبارہ منتخب ہوں گے۔

بشکریہ ڈان

SHARE

LEAVE A REPLY