ڈاکٹر نگہت نسیم تمہیں‌کینسر ہے ! قسط نمبر 55

1
2459

میری بیٹی جانتی تھی کہ اس کی ماں کو تنہائی چاہیئے تھی ۔۔ اسے بہت کچھ سوچنا تھا ۔۔ تھوڑے سے وقت میں بہت زیادہ سنبھلنا تھا ۔۔ میں کمرے میں اکیلی تھی ۔۔ باہر آوازوں کا شور بھی بند ہو چکا تھا ۔۔سب ایک دن کے نہیں پورے ایک ہفتے سے بے چین اور بے سکون رہے تھے ۔۔ پچیس مئی سے آج آٹھ جون تک کتنا کچھ بدل گیا تھا ۔۔ بچوں کو اپنی ماں سے بچھڑنے کا ڈر پڑ گیا تھا۔۔ شریک سفر کو اپنی حیات کے ادھورے پن کے خوف نے بے خواب کر دیا تھا ۔۔ بہن بھائیوں کی آوازوں میں جدائی صاف سنائی دے رہی تھی ۔۔ ایس ایچ کی تسلیوں میں بھی ہلکا ہلکا سا ڈر تھا ۔۔ میں نے شاہدہ ، شبانہ ، شاہین ، ارم ، فریحہ کی آنکھوں میں خود سے بچھڑنے کا دکھ دیکھا تھا ۔۔ شاہدہ کیسے پلٹ پلٹ کر پیار کرتی تھی ۔۔ایسے جیسے اب مجھے کبھی نہ دیکھ پائے گی ۔۔ میرے ہوسپٹل سٹاف کی آنکھوں میں ملال صاف دیکھا جا سکتا تھا۔۔ پر میرے بس میں کچھ بھی نہ تھا سوائے اس کے کہ ایمانداری سے اپنی ڈیوٹی کرتی ۔۔

سو میں نے دل ہی دل میں سب سے وعدہ کیا کہ اپنا بہت بہت خیال رکھونگی ۔۔ لیکن مجھے اس حق سے کوئی محروم نہ کرے کہ میں ایک کمزور انسان بھی ہوں ۔۔ مجھے بھی ڈر لگتا ہے ۔۔ مجھے بھی سب سے دائمی جدائی کا خوف تھا ۔۔ یوں تو سب کو اپنا اپنا امتحان سب سے سخت لگتا ہے ۔۔۔پر میرا امتحان اس لیئے سب سے سخت تھا کہ میں اس سانحے کا شکار ہوئی تھی ۔۔ مجھے معلوم تھا کہ آگے کیا کیا ہوسکتا ہے ۔۔ اور یہ وہم بھی کہ میرے پاس عمر کی نقدی کم رہ گئی ہے ۔

عمر کی نقدی کا خیال آتے ہی نہ جانے کیوں ایک ثانیے میں ابن انشا یاد آگئے جنہوں نے عمر کی نقدی کو کیسے اچھوتے انداز سے کہا ہے

اب عمر کی نقدی ختم ہوئی
اب ہم کو ادھار کی حاجت ہے
ہے کوئی جو ساھو کار بنے
ہے کوئی جو دیون ہار بنے
کچھ سال مہینے لوگو
پر سود بیاج کے دن لوگو
ہاں اپنی جان کے خزانے سے
ہاں عمر کے توشہ خانے سے
کیا کوئی بھی ساھو کار نہیں
کیا کوئی بھی دیون ہار نہیں
جب نام ادھار کا آیا ہے
کیوں سب نے سر کو جھکایا ہے
کچھ کام ہمیں بھی نپٹانے ہیں
جنھیں جاننے والے جانیں ہیں
کچھ پیار دلار کے دھندے ہیں
کچھ جگ کے دوسرے دھندے ہیں
ہم مانگتے نہیں ہزار برس
دس پانچ برس دو چار برس
ہاں سود بیاج بھی دے لیں گے
ہاں اور خراج بھی دے لیں گے
آسان بنے دشوار بنے
پر کوئی تو دیون ہار بنے
تم کون تمہارا نام ہے کیا
کچھ ہم سے تم کو کام ہے کیا
کیوں اس مجمعے میں آئی ہو
کچھ مانگتی ہو کچھ لائی ہو
یا کاروبار کی باتیں ہیں
یہ نقد ادھار کی باتیں ہیں
ہم بیٹھے ہیں کشکول لئے
سب عمر کی نقدی ختم کئے
گر شعر کے رشتے آئی ہو
تب سمجھو جلد جدائی ہو
اب گیت گیا سنگیت گیا
ہاں شعر کا موسم بیت گیا
اب پت جھڑ آئی پات گریں
کچھ صبح گریں کچھ رات گریں
یہ اپنے یار پرانے ہیں
اک عمر سے ہم کو جانیں ہیں
ان سب کے پاس ہے مال بہت
ہاں عمر کے ماہ و سال بہت
ان سب نے ہم کو بلایا ہے
اور جھولی کو پھیلایا ہے
تم جاؤ ان سے بات کریں ہم
تم سے نہ ملاقات کریں
کیا بانجھ برس کیا اپنی عمر کے پانچ برس
تم جان کی تھیلی لائی ہو کیا پاگل ہو
جب عمر کا آخر آتا ہے ہر دن صدیاں بن جاتا ہے
جینے کی ہوس ہی نرالی ہے ، ہے کون جو اس سے خالی ہے
کیا موت سے پہلے مرنا ہے تم کو تو بہت کچھ کرنا ہے
پھر تم ہو ہماری کون بھلا ہاں تم سے ہمارا رشتہ کیا
کیا سود بیاج کا لالچ ہے کسی اور اخراج کا لالچ ہے
تم سوہنی ہو من موہنی ہو تم جا کر پوری عمر جیو
یہ پانچ برس یہ چار برس چِھن جائیں تو لگیں ہزار برس
سب دوست گئے سب یار گئے تھے جتنے ساھو کار گئے
بس یہ اک ناری بیٹھی ہے یہ کون ہے کیا ہے کیسی ہے
ہاں عمر ہمیں درکار بھی ہے ہاں جینے سے ہمیں پیار بھی ہے
جب مانگیں جیون کی گھڑیاں گستاخ انکھیاں کتھے جا لڑیاں
ہم قرض تمہارا لوٹا دیں گے کچھ اور بھی گھڑیاں لا دیں گے
جو ساعتِ ماہ و سال نہیں وہ گھڑیاں جن کو زوال نہیں
جو اپنے جی میں اتار لیا لو ہم نے تم سے ادھار لیا
( ابنِ انشاء )

لیکن میں بنیادی طور پر خوش فکر انسان تھی ۔۔ ۔ مجھے سد گرو جی کی بات یاد آ‌گئی جو انہوں نے میلبورن کے سیمینار میں بتائی تھی کہ “‌خوشی کا منبع ہمارے اندر ہوتا ہے۔ ہم اس کا چارج لے سکتے ہیں۔ اس لیئے کہ جب ہم بنیادی طور پر خوش فکر ہوتے ہیں تو ہمیں خوش رہنے کے لئے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔۔ چاہے ہم کچھ کریں یا نہ کریں ، چاہے ہمیں کچھ ملے یا نہ ملے ، چاہے کچھ ہو یا نہ ہو ، ہم اپنی فطرت سے خوش رہیں گے ۔۔۔ ہمارے خیال اور اعمال مثبت ہو جائیں گے اور نتائج ہمارے حق میں ہو جائیں گے ۔“ ۔۔

میں نے سوچ لیا تھا کہ اپنی خوشی کا چارج کینسر کے ہاتھ میں کبھی بھی نہیں دونگی ۔ میں خود کو اپنے زہن کی سازش کا شکار نہیں ہونے دونگی ۔۔ بے چین ذہن پر قابو پانا ہی حقیقی خوشی تھا۔۔۔اور مجھے اس خوشی کو دائمی بنانا تھا۔ فرنچ فلاسفر ہنری برگسن نے کتنا اچھا کہا تھا کہ الہام اور وجدان ایسی انسانی خوبی ہے جوکسی شے پر غور کرنے سے لے کر اسے لامتناہی وسعت دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ بات اب واقعی سچ لگ رہی تھی کہ جیسے جسم سے باہر ایک کائنات موجود ہے ، اسی طرح جسم کے اندر بھی ایک کائنات تھی ۔ مجھے اس کائینات تک رسائی چاہیئے تھی جو دائمی سکون و خوشی کاباعث‌ تھی ۔

ایک ہی لمحے میں امام جعفر صادق علیہ السلام کا یہ قول کوند کر ذہن میں آیا کہ خلاق اکبر نے ایک انسان کے اندر کتنی ہی کائناتیں رکھی ہیں اب یہ اس پر منحصر ہے کہ وہ کتنی کائناتیں خود پر منکشف کرتا ہے

خوش رہنا زندگی کا آخری پہلو نہیں بلکہ بنیادی پہلو تھا ۔ پر اس سے بھی بڑا ایک سچ اور تھا اور وہ یہ کہ ہم جسے تبدیل کر سکتے ہیں وہ ہم خود ہیں۔ حقیقی خوشی پانے کے لئے بچوں کی طرح مثبت ، راضی رہنےوالا اور مسکرانے والا ۔۔ یعنی “‌ خوش رہنے والا انسان “‌ ہونا بہت ضروری تھا ۔ اگر ہم خوش نہیں ہیں توہم اپنی زندگی میں جینے کے سوا کچھ نہیں کر سکیں گے ، ہاں اگر ہم خوش ہیں تو ہماری زندگی عظیم امکانات سے روشن ہو سکتی ہے ۔۔۔اور میں اپنی باقی زندگی کو ان امکانات سے روشن ہوتا دیکھ رہی تھی ۔۔ جیسے کائینات ایک سرکل میں رہتی تھی اسی طرح سے ہماری حیات بھی تو ایک سرکل میں رہتی تھی ۔۔ اسے کبھی نہ کبھی تو مکمل ہونا ہی ہوتا ہے ۔۔۔پھر افسردگی اور مایوسی سے کیوں جیا جائے۔۔مکمل ہوا جائے ۔

میں نے سوچ لیا تھا کہ کل بچوں سے کہہ دونگی کہ وہ سب اپنے اپنے گھروں کو واپس جائیں ۔۔ اب میں بلکل ٹھیک ہوں ۔۔آفتاب نے میرے لیئے چھٹی لے رکھی تھی وہ کافی سے زیادہ تھی ۔ مجھے لگتا تھا کہ محبتوں میں اگر سادگی اور آسانی نہ ہو تو بہت جلد دم توڑ دیتی ہے ۔۔۔اور میں محبتوں کو خوشحال دیکھنا چاہتی تھی ۔۔۔ اگلے دن جب میں نے سب سے یہ کہا تو میری بات سب نے سنی ان سنی کر دی ۔۔ پر میرے مجبور کرنے پر تین دن بعد ویک اینڈ پر نجیب اور منیب اپنے اپنے گھر چلے گئے پر اس وعدے پر کہ روزانہ فیس چیٹ ہو گی اور مجھے سب کچھ سچ سچ بتانا ہے ۔۔ لیکن آمنہ نے پندرہ جون سے پہلے جانے سے انکار کر دیا ۔۔ اس دن ڈاکٹر برلنگ سے پوسٹ آپریشن فالو اپ جو طے تھا ۔۔جس میں انہوں نے بائیوپسی رپورٹ کو ڈسکس کرنا تھا اور مزید علاج کے بارے میں بتانا تھا ۔

میرے سامنے بہت بڑے چیلنج تھے ۔۔
کیمو تھراپی ۔۔ ریڈیو تھراپی ۔۔ جینیٹک میٹریل پازیٹیو ہونے پر فالو اپ پلان ۔۔ پھر ان سب کے دوران طبعیت کا اتار چڑھاؤ ۔۔ درد کی کہانی ۔۔ میرے آنکھوں میں آنسو آگئے ۔۔ خوش رہنے کی فطری طبعیت اور میرے دوسرے اور بہت سارے فلسفے جو دن رات سوچتی رہی تھی اب یقین اور بے یقینی کے سمندر میں کاغذ کی ناؤ ہو رہے تھے ۔۔ شاید مجھے اپنے اس طرح کمزور پڑنے پر قلق زیادہ تھا پر جو بھی تھا مجھے ہمت اور حوصلے سے ہر مشکل سے گزر جانا تھا ۔

خوش رہنا زندگی کا آخری پہلو نہیں بلکہ بنیادی پہلو تھا

میں سوچ رہی تھی دکھ تو ہر طرف ہیں۔۔سب کے اپنے اپنے دکھ ہیں۔ اپنے ملن اور جدائیاں ہیں ۔ لیکن یہ سب کچھ کتنا وقتی ہوتا ہے ۔ امی کو گئے سات سال ہو گئے اور اباجی کو گئے تین سال ۔۔ کیا یہ غم ، یہ نقصان صرف میرا تھا ۔۔ نہیں ہم سب بہن بھایئوں کا تھا اور امی اباجی سے منسلک ہر فرد کا تھا لیکن کتنی عجیب بات تھی غم ایک ہی تھا لیکن اس کا پیمانہ سب کے لئے الگ الگ تھا ۔۔ کسی کو کم ۔۔ کسی کو زیادہ یا کسی وقت کم کسی وقت زیادہ ۔۔ لیکن سب کے غم اپنے اپنے تھے ۔۔۔اور خود کوبہلانے کے طریقے بھی الگ تھے ۔

مجھے لگتا ہے کہ میرے بعد میرے پیاروں کو جو دکھ ہو گا وہ بھی کبھی کم کبھی زیادہ ہو گا ، لیکن پھر جیسے میرا غم بہل گیا ہے ان کا بھی بہل جائے گا ۔۔ ایک خوش کن احساس میرے ہمراہ ہو گیا تھا ۔۔کہ ۔۔ میں اپنے پیاروں کو اطمینان سے جیتا چھوڑ کر جا رہی ہوں ۔

آگہی کا یہ لمحہ مجھے ایک نئی دنیا کا پتہ دے رہا تھا ۔۔اب مجھے کرشماتی زندگی کا لطف اٹھانا ہے ۔۔ انجانے رستوں پر چلنے کا مزہ لینا ہے ۔
کون رہا ہے یہاں
نہ راجہ نہ فقیر

باب العلم حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ موت زندگی سے بھی بہت بڑی حقیقت ہے

جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

1 COMMENT

  1. اللہ پاک سے ذیادہ کوئ رحیم و کریم نہیں ۔
    تم بہت خوش نصیب ہو نگہت بیٹی ۔ اتنے لوگوں کی دعائیں تمہارے لئے اور ہیں ماشاءاللہ ۔
    تمہاری ہمت اور حوصلے کو سلام ہے۔ سوچو کہاں تک تمہاری ہمت صبر شکر اثر
    شروع کریں گے
    کرے گا۔ لوگ خوشی سے زندگی جینا
    بھئ پتہ نہیں کیا الٹ پلٹ ہو جاتا ہے۔ تم خود سمجھ دار ہو

LEAVE A REPLY