چوروں نے مہاتما گاندھی کی تصاویر پر سبز رنگ سے ‘غدار’ لکھا اور تصاویر کو بھی مسخ کیا۔

0
717

بھارت کی آزادی کے ہیرو موہن داس کرم چند گاندھی کی 150ویں سالگرہ کے موقع پر دارالحکومت نئی دہلی میں قائم میموریل سینٹر سے ان کی ‘باقیات’ چوری ہو گئی ہیں۔

بھارتی نشریاتی ادارے ‘ٹائمز آف انڈیا’ کے مطابق مہاتما گاندھی کی استھی (راکھ) کو وسطی ہندوستان میں قائم باپو بھون میموریل سینٹر سے بدھ کے روز چوری کیا گیا ہے۔ جہاں وہ اکہتر سال پہلے رکھی گئی تھی۔

چوروں نے بھارتی قوم کے بانی کی تصاویر پر سبز رنگ سے ‘غدار’ لکھا اور تصاویر کو بھی مسخ کیا۔

باپو بھون کے نگران منگلدیپ تیواری نے ‘دی وائر’ کو بتایا کہ جب انہوں نے بدھ کی صبح تقریباً گیارہ بجے میموریل سینٹر کا دروازہ کھولا تو گاندھی کی باقیات غائب تھیں۔ اور ان کی تصاویر کو مسخ کیا گیا تھا۔

ہندوؤں کا ایک انتہا پسند طبقہ گاندھی کو ہندو مسلم اتحاد کی وکالت کرنے کی وجہ سے ‘غدار’ قرار دیتا ہے۔

مہاتما گاندھی نے بھارت کی آزادی میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ جنہیں ایک بنیاد پرست ہندو نے 30 جنوری 1948 کو قتل کردیا تھا۔

گاندھی نے عدم تشدد کی جدوجہد کے ذریعے بھارت کو برطانوی حکمرانی سے آزادی دلوائی تھی۔ جس کے چند ماہ بعد انھیں قتل کیا گیا۔

ہندو روایات کے مطابق گاندھی کی آخری رسومات ادا کی گئی تھیں اور ان کے جسد خاکی کی باقیات کو ان کے خاندان اور دوستوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ پورے ملک میں ہونے والی الوداعی تقریبات میں ان کی باقیات کو لے جایا گیا تھا۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ان کی باقیات کو کتنے حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا اور گاندھی کے انتقال کے 65 سالوں بعد بھی ان کی باقیات ملتی رہی ہیں۔

ڈسٹرکٹ کانگریس چیف اور شکایت کنندہ گرمیت سنگھ نے ‘دی وائر’ کو بتایا کہ گاندھی کے نظریے کو ایک بار پھر شرمندہ تعبیر کردیا گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ غیر قانونی حرکت گاندھی کے قاتل نتھو رام گوڈسے کے پیروکاروں کی ہوگی۔

گرمیت سنگھ نے ریوا پولیس سے باپوبھون کے اندر لگائے گئے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کی جانچ پڑتال کر کے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

بھارت کی طرف سے مہاتما گاندھی کی سالگرہ پر صفائی مہم کے انعقاد کے علاوہ ایک فلم پیش کی گئی تھی اور ضائع شدہ پلاسٹک سے بنے پہیے کا افتتاح کیا تھا۔

فیس بک فورم

SHARE

LEAVE A REPLY