وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ یہ بہت طعن آمیز بات ہے کہ تین سل قبل جب سی پیک کو متعارف کرایا گیا تھا تو ایک غیر معمولی صورت حال پیدا ہوئی تھی اور ایک سیاسی جماعت کی جانب سے طویل احتجاجی مظاہرہ کیا گیا تھا۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے محبت میں کبھی ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا جاسکتا جس سے مریضوں، طالب علموں اور عوام کو تکالیف پہنچے جیسا کہ راولپنڈی اور اسلام آباد کی سڑکوں پر ہورہا ہے اور کسی بھی شخص کو اللہ اور اس کے نبی پر ایمان کا تصدیق نامہ دینے کا اختیار نہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ احتجاجی مظاہرے میں چند مسلح افراد موجود ہیں جو تشدد کی فضاء چاہتے ہیں جس کی وجہ سے ایمرجنسی کی صورت حال بھی پیدا ہوسکتی ہے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام ان مظاہرین کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کر رہی ہے لیکن ان چند مسلح افراد کی وجہ سے حکومت ماڈل ٹاؤن جیسا سانحہ دوبارہ نہیں دہرانا چاہتی۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘سخت ردعمل کی قیمت بھی ہو سکتی ہے اور ہم مظاہرین سے گزارش کر رہے ہیں کہ ہمارے صبر کا امتحان نہیں لیں لیکن یہ ہمیشہ نہیں چلے گا’۔

انہوں نے مظاہرین کو خبردار کیا کہ ‘اگر ایسی صورتحال چلتی رہی توحکومت کو انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جائے گی’۔

ان کا کہنا تھا کہ چین کے نیشنل ڈویلپمنٹ اور ریفارمز کمیشن کے وائس چیئرمین، پاکستان کے وزراء اعلیٰ اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس انڈسٹری کے نمائندگان کی 20 نومبر کو اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سی پی پیک کے پہلے مرحلے جس میں توانائی اور انفرا سٹرکچر شامل ہیں اور یہ آخری مراحل میں ہے اور اب یہ منصوبہ تمام صنعتی تعاون اور اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت کے ساتھ اگلے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت نے سی پیک کے فریم ورک کو ملک، قبائلی علاقوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے تمام حصوں تک پہنچانے کے لیے سیاسی قوتوں، نجی شعبوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی سرکیولر ریلوے اور مین ریلوے لائن کی تفصیلات مکمل کرلی گئی ہیں جب کہ ان کے گزرنے کی جگہوں کا معاملہ جے سی سی کے اجلاس سے قبل حل کرلیا جائے گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY