یہ سچ ہے کہ محبت ” خوبصورتی ” سے نہیں ہوتی ۔ ۔ ۔ گَر ہوتی ، تو کوئی بھی کسی سے بھی محبت نہ کر پاتا ، چونکہ خوبصورتی کے اوپر مزید خوبصورتی موجود رہتی ہے ۔ ۔ ۔ اور پھر قیس ، لیلیٰ جیسی کیلئے مجنون بھی نہ ہوتا ۔ ۔ ۔
۔
معاملہ یہ ہے کہ محبت ” حُسن ” سے ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ اس لیے قیس ، لیلیٰ جیسی کا مُحب ٹھہرا ۔ ۔ ۔
۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ حُسن کا بھی تو سفر کہاں رُکتا ہے ، ” حُسن ” سے زیادہ حسین ” حُسن ” موجود ہے ۔ ۔ ۔ بس یہ ” معرفتِ حقیقتِ عشق ” کا وہ مقام ہے ، جہاں مجنون جیسا بھی بھٹک گیا ، راہ گُم کر بیٹھا ۔ ۔ ۔
پھر ڈاکٹراقبال لاہوری آیا، جو کہہ گیا ۔ ۔ ۔
۔
تو رہ نوردِ شوق ہے منزل نہ کر قبول ۔ ۔ ۔
لیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول ۔ ۔ ۔
ساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر قبول ۔ ۔ ۔
جو عقل کا غلام ہو وہ دل نہ کر قبول ۔ ۔ ۔
باطل دوئی پسند ہے حق لا شریک ہے ۔ ۔ ۔
شرکت میانہءِ حق و باطل نہ کر قبول ۔ ۔ ۔
ــــــــــــــــــــــــ
جسٹن سنو ۔ ۔ ۔
انتخاب فائزہ عباس













