قومی اسمبلی کے سپیکر۔ ملک معراج خالد

پاکستان کی قومی اسمبلی کے دسویں اور تیرہویں اسپیکرملک معراج خالد 20ستمبر 1916ء کو برکی لاہور میں پیدا ہوئے۔ 2 / مئی1972ء سے 10/ نومبر 1973ء تک پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے۔ مارچ 1977ء کے الیکشن میں قومی اسمبلی کے رکن اور 27 / مارچ 1977ء کو قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوئے اور 5 / جولائی 1977ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ 1988ء میں جب پیپلز پارٹی دوبارہ برسر اقتدار آئی تو ملک معراج خالد ایک مرتبہ پھر قومی اسمبلی کے رکن اور اسپیکر منتخب ہوئے۔ اس مرتبہ وہ اس عہدے پر 3 / دسمبر 1988ء سے 4 / نومبر 1990ء تک فائز رہے۔ 5 نومبر1996ء کو صدر فاروق لغاری نے بے نظیر بھٹو کی حکومت کا خاتمہ کیا ملک معراج خالد نگراں وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔اس عہدے پر وہ 16/ فروری 1997ء تک فائز رہے۔ ملک معراج خالد کا انتقال 13/ جون 2003ء کو ہوا۔
————————-
غلام رسول کی وفات

پاکستان کے نامور مصور غلام رسول اسلام 3 / دسمبر 2009ء کو آباد میں وفات پاگئے۔
غلام رسول 20 / نومبر 1942ء کو جالندھر میں پیدا ہوئے تھے۔ 1964ء میں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فنون لطیفہ سے ایم اے کیا اور پھر اسی شعبے میں تدریس کے فرائض انجام دینے لگے۔ 1972ء میں انہوں نے انی نوائس یونیورسٹی امریکا سے فائن آرٹس میں دوسرا ایم اے کیا۔ 1974ء میں انہوں نے پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس سے وابستگی اختیار کی اور اس کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے تک پہنچے۔
غلام رسول، لینڈ اسکیپ مصوری میں اختصاص رکھتے تھے۔ پنجاب کی دیہی زندگی ان کا خاص موضوع تھا۔ وہ دیہات کے ماحول اور حسن کو جس مہارت سے کینوس پر منتقل کرتے تھے وہ دیکھنے والوں کو بے حد متاثر کرتا تھا۔ حکومت پاکستان نے 1985ء میں انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے سرفراز کیا تھا۔
——————————
استاد دامن کی وفات

پنجابی زبان کے معروف عوامی شاعر استاد دامن 3 / دسمبر 1984ء کو لاہور میں وفات پاگئے اور لاہور ہی میں مادھولال حسین کے مزار کے احاطے میں آسودۂ خاک ہوئے۔
استاد دامن کا اصل نام چراغ دین تھا وہ یکم جنوری 1910ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ استاد دامن کے والد خیاطی کی پیشے سے وابستہ تھے چنانچہ انہوں نے بھی یہی پیشہ اختیار کیا اور ایک جرمن فرم جان ولیم ٹیلرز سے خیاطی کا باقاعدہ ڈپلوما حاصل کیا۔
استاد دامن ساتھ ہی ساتھ تعلیم بھی حاصل کرتے رہے۔ انہوں نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی مگر والد کے انتقال کے باعث سلسلۂ تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور خیاطی کے پیشے سے باقاعدہ طور پر منسلک ہوگئے۔
استاد دامن نے ابتدا ہی طبع موزوں پائی تھی۔ وہ استاد محمد رمضان ہمدم کے شاگرد ہوئے۔ اس شاگردی نے ان کی شاعری کو مزید جلا بخشی۔
ایک موقع پر لاہور کے مشہور سیاستدان میاں افتخار الدین نے استاد دامن کی شاعری سنی اور انہیں لاہور کے ایک سیاسی جلسے میں جس کی صدارت جواہر لال نہرو کررہے تھے نظم سنانے کی دعوت دے ڈالی۔ استاد دامن نے اس جلسہ میں نظم کیا سنائی ہر طرف ان کی شاعری کر چرچا ہونے لگا۔ جواہر لال نہرو نے جلسہ میں ہی انہیں سو روپے بطور انعام عطا کئے جس سے استاد دامن کی بڑی حوصلہ افزائی ہوئی۔
استاد دامن کی بیوی اور ان کا بچہ 1947ء کے فسادات میں ان سے بچھڑ گیا۔ کچھ دنوں بعد وہ ملے، مگر زیادہ دن زندہ نہ رہ سکے اور استاد دامن کو ہمیشہ کے لئے تنہا چھوڑ گئے۔ اس واقعہ نے استاد دامن کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا اور پھر وہ ساری عمر تنہا زندگی گزارتے رہے۔
انہوں نے ٹکسالی دروازے کی اس مسجد کے ایک حجرے کو اپنا مسکن بنالیا جہاں اکبر اعظم کے عہد میں معروف صوفی شاعر شاہ حسین رہا کرتے تھے۔ اس حجرے میں استاد کی شاعری کا سلسلہ جاری رہا اور جلد ہی ان کا شمار پاکستان کے معروف شعرا میں ہونے لگا۔
استاد دامن کا مجموعہ کلام ان کی وفات کے بعد دامن دے موتی کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکا ہے۔
———————————————————————————————————
مولانا سید صفدر حسین نجفی کی وفات

نامور عالم دین، مفسر قرآن اور ماہر تعلیم مولانا سید صفدر حسین نجفی 3 / دسمبر 1989ء کو لاہور میں وفات پاگئے

مولانا سید صفدر حسین نجفی 1933ء میں علی پور ضلع مظفر گڑھ میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ نے پہلے حضرت مولانا سید محمدیار شاہ نجفی سے اور پھرنجف اشرف سے تعلیم حاصل کی۔مولانا سید صفدر حسین نجفی 1956ء میں جامع المنتظر سے منسلک ہوئے اور صدر مدرس کے عہدے تک پہنچے۔ آپ کی تصانیف اور تالیفات کی تعداد خاصی زیادہ ہے جن میں 27 جلدوں پر مشتمل تفسیر نمونہ سرفہرست ہے۔ ان کے علاوہ آپ کی تصانیف میں قرآن کا دائمی منشور، حقوق اور اسلام، مبادیات حکومت اسلامی، چہل آدمی اور دین حق عقل کی روشنی میں اور تراجم میں تذکرہ الخصواص، توضیح المسائل، سعادت الابدیہ، معدن الجواہر اور ارشاد القلوب کے نام شامل ہیں۔ آپ لاہور میں جامعہ المنتظر ماڈل ٹائون لاہور میں آسودۂ خاک ہیں۔

وقار زیدی ۔ کراچی

SHARE

LEAVE A REPLY